سنتِ ابراہیمی، روحِ قربانی اور امتِ مسلمہ کا فکری امتحان

تحریر:الحاج احمد علی سعیدی

انسانی تاریخ میں بعض شخصیات صرف اپنے عہد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے فکر، عمل، اخلاص اور قربانی کا استعارہ بن جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسی ہی عظیم المرتبت ہستی ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے صرف نبوت ہی نہیں بلکہ امامت کے منصب پر بھی فائز فرمایا۔ قرآن کریم نے آپؑ کی شخصیت کو ایک مکمل مکتبِ فکر کے طور پر پیش کیا ہے۔ آپؑ کی پوری زندگی توحید، اخلاص، ایثار، ہجرت، قربانی، صبر، استقامت اور تسلیم و رضا کا عملی نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام آسمانی مذاہب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا احترام کرتے ہیں اور انہیں اللہ کے برگزیدہ بندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے“وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا”
“اور جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند باتوں کے ذریعے آزمایا اور انہوں نے ان سب کو پورا کر دکھایا تو اللہ نے فرمایا” میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو امامت کا منصب بغیر آزمائش کے نہیں ملا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قربانیوں، مصیبتوں، ہجرتوں، تنہائیوں، مخالفتوں اور اذیتوں کے امتحانات سے گزارا، اور جب آپؑ ہر امتحان میں کامیاب ہوئے تو پھر آپؑ کو پوری انسانیت کے لیے امام قرار دیا گیا۔ گویا امامت محض نسب یا دعوے کا نام نہیں بلکہ کامل اطاعت، مکمل تسلیم و رضا اور بے مثال قربانی کا صلہ ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی ایک اعلان ہے کہ انسان جب اللہ کی رضا کے لیے اپنے وجود، خواہشات، مفادات اور آسائشوں کو قربان کر دیتا ہے تو پھر اللہ اسے رہتی دنیا تک عزت و عظمت عطا فرماتا ہے۔ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جذبۂ توحید کو یوں بیان کیا گیا “إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ”
“بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔”یہ صرف ایک اعلان نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے محض زبان سے بیان نہیں کیا بلکہ اپنے عمل سے ثابت کیا۔ آپؑ نے آگ میں کود کر دکھایا، اپنے وطن کو چھوڑ کر دکھایا، اپنے خاندان سے جدائی اختیار کر کے دکھائی، اور بالآخر اپنے لختِ جگر کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اللہ کی رضا کے مقابلے میں کوئی رشتہ، کوئی مفاد اور کوئی خواہش اہم نہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی عظیم قربانی ہجرت تھی۔ انسان کے لیے اپنی سرزمین، اپنے گھر، اپنے ماحول اور اپنے عزیزوں کو چھوڑ دینا آسان نہیں ہوتا، مگر جب اللہ کا حکم آیا تو آپؑ نے کسی تردد کے بغیر ہجرت اختیار کی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک مومن کی اصل پہچان سامنے آتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو ترجیح دیتا ہے یا اللہ کے حکم کو۔۔۔۔
پھر وہ عظیم منظر آتا ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا اور ننھے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک ایسی وادی میں چھوڑ آتے ہیں جہاں نہ پانی تھا، نہ سبزہ، نہ آبادی اور نہ زندگی کے آثار۔ قرآن کریم اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے “رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ”
“اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد کو تیرے محترم گھر کے قریب ایک ایسی وادی میں لا بسایا ہے جو کھیتی کے قابل نہیں۔”
یہ الفاظ ایک باپ کے درد، ایمان اور توکل کی انتہا کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک باپ اپنی بیوی اور شیر خوار بچے کو ایسی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر جا رہا ہے جہاں زندگی کا کوئی سامان موجود نہیں۔ لیکن چونکہ یہ اللہ کا حکم تھا، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کوئی سوال نہیں کیا کہ یہ کیا کھائیں گے؟ کیسے زندہ رہیں گے؟ پانی کہاں سے آئے گا؟ حفاظت کون کرے گا؟ آپؑ نے صرف حکمِ خدا پر سرِ تسلیم خم کیا۔
یہی اصل ایمان ہے کہ انسان اپنی عقل، خواہش اور مفاد سے بلند ہو کر اللہ کے فیصلے پر راضی ہو جائے۔
پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی“فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ”
“پس لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے۔”
اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو اس شان سے قبول فرمایا کہ آج دنیا بھر کے انسانوں کے دل مکہ معظمہ کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ ہر وقت، ہر لمحہ، ہر موسم میں بیت اللہ انسانوں سے بھرا رہتا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی مقام ایسا ہو جہاں چوبیس گھنٹے انسانوں کا اتنا عظیم اجتماع رہتا ہو۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کا معجزہ ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جب خانۂ کعبہ کی تعمیر نو شروع کی تو اس وقت بھی ان کی عاجزی اور بندگی کا عالم دیکھنے کے قابل تھا۔ قرآن فرماتا ہے “رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
“اے ہمارے رب! ہماری یہ کوشش قبول فرما، بے شک تو خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔”
سوچیے! جنہیں اللہ نے اپنا خلیل بنایا، جن کے ہاتھوں بیت اللہ تعمیر ہو رہا ہے، وہ بھی اپنی عبادت اور خدمت کو قبولیت کے خوف سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ انکساری اہلِ ایمان کے لیے بہت بڑا درس ہے۔ آج انسان معمولی نیکی کر کے غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے، جبکہ اللہ کے برگزیدہ بندے ہر لمحہ قبولیت کے طلبگار رہتے تھے۔
اسی مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک اور عظیم دعا کی“رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ”
“اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما۔”یہ دعا دراصل سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی دعا تھی۔ رسول اکرم خود فرمایا کرتے تھے۔ “میں اپنے جد ابراہیم کی دعا کا نتیجہ ہوں۔”یہی وجہ ہے کہ دینِ محمدی دراصل ملتِ ابراہیمی کا کامل اور آخری تسلسل ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید کی بنیاد رکھی، اور رسول اکرم نے اسے عالمگیر نظام کی صورت عطا فرمائی۔
قرآن کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو “حنیف” اور “مسلم” قرار دیا “إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا”یعنی ابراہیم ایک کامل امت تھے، اللہ کے فرمانبردار تھے، یکسو تھے۔ گویا ایک فرد بھی اگر اخلاص، ایمان اور حق پر قائم ہو تو وہ پوری امت کے برابر وزن رکھتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی صرف جانور ذبح کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ خواہشات، مفادات، انا، تعلقات اور دنیاوی آسائشوں کی قربانی کا نام ہے۔ اصل قربانی یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لیے اپنے نفس کے بت توڑے۔ آج بھی انسان کے اندر لات و منات موجود ہیں۔ کہیں تکبر کا بت ہے، کہیں مفاد پرستی کا، کہیں تعصب کا، کہیں فرقہ واریت کا، کہیں نسل اور زبان کی برتری کا، اور کہیں اقتدار و دولت کی ہوس کا۔
اگر آج امتِ مسلمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو سمجھ لے تو امت کے بیشتر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بت شکن تھے۔ انہوں نے پتھر کے بت توڑے، مگر آج ہمیں اپنے اندر موجود نفسانی بت توڑنے کی ضرورت ہے۔ جب تک مسلمان اپنے مفادات کو دین پر ترجیح دیتے رہیں گے، اس وقت تک اتحادِ امت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
آج عالمِ اسلام جن مشکلات، مصائب، انتشار، جنگوں اور غلامی کا شکار ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان روحِ ابراہیمی سے دور ہو چکے ہیں۔ حج میں لاکھوں مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، ایک لباس پہنتے ہیں، ایک نعرہ بلند کرتے ہیں “لبیک اللہم لبیک”مگر افسوس کہ ان کے دل ایک نہیں۔ قرآن کریم نے اسی کیفیت کی طرف اشارہ کیا “تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى”
“تم انہیں متحد سمجھتے ہو مگر ان کے دل بٹے ہوئے ہیں۔”اگر امتِ مسلمہ واقعی روحِ ابراہیمی کے ساتھ متحد ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے ایوانوں کو للکارا، اسی طرح آج بھی اگر مسلمان ایمان، اخلاص اور اتحاد کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو وقت کے نمرود، شداد اور فرعون شکست کھا سکتے ہیں۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی بھی دراصل سنتِ ابراہیمی کا تسلسل ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ قربان کیا، اسی طرح امام حسین علیہ السلام نے بھی دینِ خدا کی بقا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ جس ایام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنتِ قربانی ادا کی جاتی ہے، انہی دنوں امام حسین علیہ السلام نے مکہ سے کربلا کی طرف سفر اختیار کیا۔ آپؑ نے حج کو عمرے میں تبدیل کیا تاکہ بیت اللہ کی حرمت پامال نہ ہو۔ پھر کربلا میں اہلِ بیت، اصحاب اور اپنی جان قربان کر کے یہ ثابت کیا کہ اللہ کی رضا کے مقابلے میں کوئی چیز اہم نہیں۔
امام حسین علیہ السلام کا یہ جملہ دراصل روحِ ابراہیمی کی ترجمانی ہے “پروردگار! اس نے کیا کھویا جس نے تجھے پا لیا، اور اس نے کیا پایا جس نے تجھے کھو دیا۔”
یہی اصل کامیابی ہے۔ انسان دنیا حاصل کر لے مگر اللہ کھو دے تو وہ ناکام ہے، اور اگر دنیا کھو کر اللہ کو پا لے تو وہی کامیاب ہے۔آج ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے چند بنیادی اسباق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
پہلا سبق یہ ہے کہ ایمان صرف دعوے کا نام نہیں بلکہ عمل، قربانی اور استقامت کا نام ہے۔دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے ہر مفاد قربان کرنا پڑتا ہے۔تیسرا سبق یہ ہے کہ امت کی اصل طاقت اتحاد میں ہے۔چوتھا سبق یہ ہے کہ باطل کے سامنے خاموش رہنا مومن کی شان نہیں ۔پانچواں سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنے اندر کے بت توڑنے ہوں گے۔اگر آج مسلمان ان اصولوں کو اپنا لیں تو نہ صرف ان کی سیاسی اور معاشی حالت بدل سکتی ہے بلکہ ان کی روحانی عظمت بھی بحال ہو سکتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان اللہ کے لیے جیتا ہے، اللہ کے لیے مرتا ہے، اللہ کے لیے قربانی دیتا ہے اور اللہ کے لیے ہی اپنی خواہشات کو قربان کرتا ہے۔ یہی روحِ اسلام ہے، یہی روحِ بندگی ہے، یہی روحِ قربانی ہے۔
اسوقت ضروری ہے کہ عالمِ اسلام محض ظاہری اجتماعات تک محدود نہ رہے بلکہ اپنے دلوں، فکر اور مقاصد کو بھی متحد کرے۔ اگر مسلمان واقعی “لبیک اللہم لبیک” کے معنی سمجھ جائیں، اگر وہ حقیقتاً اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں، اگر وہ ذاتی مفادات سے بلند ہو جائیں، اگر وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اللہ کی رضا کو سب کچھ سمجھ لیں، تو پھر دنیا کی کوئی طاقت انہیں مغلوب نہیں کر سکتی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمیں یہ سکھایا کہ اللہ کے راستے میں قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ آگ گلزار بن جاتی ہے، صحرا مرکزِ عالم بن جاتا ہے، قربانی عبادت بن جاتی ہے، اور اخلاص انسان کو امامت کے مقام تک پہنچا دیتا ہے۔
یہی سنتِ ابراہیمی ہے، یہی روحِ محمدی ہے، اور یہی پیغامِ حسینیؑ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں