آزادی————شہناز احد

آزادی،آزادی،
میں بھی چاہوں ،تو بھی چاہے ،وہ بھی چاہے ،ہم سب چاہیں ،دل سے چاہیں ، جان سے چاہئں،آزادی—-
یہ آزادی بھی ایک اندھیرا کنواں ہے، اماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ہر ذی روح اس کی تلاش میں نکل پڑتی ہے، جب ماں دودھ پلانا چاہے تو منہ ادھر ادھر کرلیں، جب وہ سونا چاہے تو ہم جاگنا چاہیں،جب وہ اپنی شکم خوری کر رہی ہو تو ہم رونا چاہیں اور یہ چاہنے نا چاہنے کا کھیل ساری زندگی ہماری زندگیوں سے تار عنکبوت کی طرح لپٹا رہتا ہے۔
پڑھنے جائیں تو ہماری چاہت اور اداروں کی چاہت کی آنکھ مچولی شروع ہوجاۓ، نوکریوں میں جائیں تو do ,not to do میں زندگی الجھ جاۓ۔
ہم کریں کیا؟
سوچ کی آزادی، دل کی آزادی، جسم کی آزادی،بولنے کی آزادی، لکھنے کی آزادی،پسند کی آزادی، چلنے کی آزادی،بیٹھنے کی آزادی،خواہشوں کی آزادی کی خواہش کو کہاں لے جائیں،کہاں چھپا دیں کہ آزادی کے دشمنوں کو نظر نہ آسکے۔
کتنی عجب بات ہے کہ ہم ایک ایسے خطہ زمین کے باسی ہیں جس کا حصول زبان ،سوچ،دین کی آزادی کے نام پر کیا گیا تھا۔ بانی نے کہا تھا کہ “ ہم سب اپنی مرضی کی عبادت گاہوں میں جانے اور اپنے مسلک کی پیروکاری آزادی سے کر سکتے ہیں،ہم اپنی مرضی سے سوچ، بول اور لکھ سکتے ہیں”-
پتہ ہی نا چلا کہ وہ لکھنے،بولنے اور سوچنے والا سورج مکھی کب منہ موڑ گیا کہ ایک عمر گزر گئ یہ ہی سنتے، سنتے یہ جائیز ہے، وہ ناجائز ہے،یہ خلاف قانون ہے،اس بات سے یک جہتی کو خطرہ ہے، وہ خلاف شریعت ہے،اس سوچ سے سرحدیں لرز جائیں گی ،اُس سوچ سے وہ ناراض ہوجائے گا،امریکہ بھیک نہیں دےگا،چین جہاز نہیں دےگا،سعودی عرب آنکھیں دکھاۓگا،گلف گھسنے نہیں دے گا،افغانستان ،ایران، ہندوستان ہمارے دشمن ہیں، وہ ہمیں ننگا، بھوکا دیکھ کے ہمارے چاروں اورُ طبلہ بجائیں گے۔
ہم ہی ہیں وہ بد نصیب جو بولنے اور سوچنے کے پیشے سے تعلق رکھتے ہیں ہماری زبان بندی اور سوچوں پے قدغن اس خطہ زمین پے سبز پرچم لہرانے کے کچھ سالوں بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔ بس وقت کے ساتھ اس قدغن کے رنگ روپ بدلتے رہے ہیں۔
ہمارے ووٹوں سے منتخب ہونے والوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کی جاۓ تو وہ سنسر اور ڈیکلریشن کی منسوخی کا راستہ اپناتے ہیں بنا ووٹ کے آنے والے آرڈیننسوں کی بیساکھی پکڑتے ہیں اور آزادی کا قلع قمع کرتے ہوۓ کوڑے برساتے ہیں جیل بھرتے ہیں۔ تیسرے درجے کے وہ سارے اقدمات کرتے ہیں جن سے کسی بھی سوچتے دماغ اور بولتی زبان کو بے آبرو کر سکیں۔
گزرے سالوں میں ایک اور شاہ نامہ آیا ہے۔ یہ گزرے حکم ناموں میں سے سب کا باپ ہے۔ اسے کسی راہ چلتے کی چال ڈھال پسند نہ آۓ، مسکراہٹ اچھی نہ لگے،آواز گراں گزرے،نام پسند نہ ہو،تصویر نہ بھاۓ، اس شاہ نامے کے موجد صبح دم دروازہ خاور کھلے،دن دھاڑے،شام ڈھلے سے رات کی سیاہی پھیلنے تک کسی بھی لمحے جیتی جاگتی زندگیوں اور خاندانوں پر سیاہی پھیر سکتے ہیں۔
اس شاہ نامے کو آسان زبان میں کہنے والے “ پیکا” بھی کہتے ہیں۔ اس پیکا کی خاص بات یہ ہے کہ یہ “ سوچتے ذہنوں اور بولتی زبانوں کے قبیلے سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ ہماُ شماُ کو بھی اُٹھا سکتا ہے”۔ انھیں گم کرسکتا ہے، نوے دن تک بنا کسی رسید کے اپنی تحویل میں رکھ سکتا ہے ،بات یہیں ختم نہیں ہوتی وہ ان کے ساتھ جو چاہے سلوک کر سکتاہے،اس کی مرضی انھیں الٹا لٹکاۓ یا سیدھا،کھانے کو دے یانہ دے، پینے کو پانی دے یا زہر، سب کچھ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔
لگتا ہے ہماری گھڑیاں ۲۱ویں صدی میں چل رہی ہیں لیکن ہم خود ۱۶ویں، ۱۷ویں اور ۱۸ویں صدی میں سانس لے رہے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ سانسوں کو کھینچ رہے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے اخبارات ccu میں اور باقی میڈیا ICU کی دہلیز پے کھڑا ہے ، کسی بھی لمحے گر سکتاہے، vent پے جاسکتا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوۓ آنے والے دنوں کی پیش بندی کے طور پر سوچتے ذہنوں، بولتی زبانوں اور لکھتے ہاتھوں والوں کی انجمن کا ایک دو روزہ جلسہ عام فائلوں اور بوٹوں والے شہر میں منعقد ہوا۔
P F U J نے ملک کے کونے کو نے سے نوواردان صحافت اور گزرے دنوں کے سرگرم صحافیوں سمیت سب کا ایک بڑا اجتماع کیا۔ اس اجتماع میں جلے دل کے پھپولے پھوڑنے، گزرے دنوں کی تحریکوں کویاد کرنے کے علاوہ “ آج” کی بات بار بار کی گئ۔ اس عزم کے ساتھ کی گئ کہ آنے والے دن شاید آج سے بھی بدتر ہوں گے۔ ان بدتر دنوں سے کیسے نمٹنا ہے اس کے لائحۂ عمل کی بھی بات کی گئ۔ دبے لفظوں میں یہ بھی کہا گیا کہ ہم جانتے ہیں ہماری صفوں میں کچھ مار آستین بھی بیٹھے ہیں۔
پاکستان بھر سے آنے والے سوچتے ذہنوں، بولتی زبانوں اور لکھتے ہاتھوں نے اپنی اپنی مشکلات کا تزکرہ بھی کیا۔ “ کوئٹہ سے آنے والوں نے کہا آپ کو کیا پتا ہم پے کیا گزر رہی ہے،کوئ نہیں جانتا تربت ،خضدار، گوادر میں کیا ہورہا ہے”۔
اتنے بڑے کے پی کے میں سے صرف پشاور سے ایک نمائندگی ہوئ۔
اپنی ہم جنسوں کی ایک بڑی تعداد کو دیکھ کے بہت اچھا لگا۔
اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتاۓ گا کہ ان میں سے کون کون جیتا ہےزلف کے سر ہونے تک۔
لیکن ایک مدت بعد وہ بھی چاہے،میں بھی چاہوں، ہم سب چاہیں آزادی اور ایسے ہی دوسرے نعروں سے گونجتا لیجنڈ کا آڈوٹوریم ذہن کے کسی کونے میں چپک سا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں