رشید عاطف
پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان جو گیس، تانبے اور سونے جیسی قدرتی دولت سے مالامال ہے، آج ایک ایسے شدید بحران کی زد میں ہے جس کا ذکر مقتدر حلقوں میں بہت کم ہوتا ہے۔ یہ بحران سیکیورٹی یا معیشت کا نہیں، بلکہ تعلیم کا ہے، اور خصوصاً لڑکیوں کی ناخواندگی کا وہ ہولناک اژدہا ہے جو صوبے کے مستقبل کو نگل رہا ہے۔ حالیہ سرکاری اور آزادانہ سروے رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں مجموعی شرح خواندگی محض 49 فیصد کے قریب ہے، لیکن جب بات لڑکیوں کی تعلیم کی آتی ہے تو یہ اعداد و شمار دل دہلا دینے والے ہیں۔ صوبے کے دور دراز دیہی علاقوں میں خواتین کی شرح خواندگی کا اکیرا ہندسہ میں ہونا پورے نظامِ تعلیم پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جنہوں نے بلوچستان کی بیٹیوں کو قلم اور کتاب سے دور کر رکھا ہے؟ اور اس اندھیرے سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
بلوچستان میں لڑکیوں کی ناخواندگی کوئی اتفاقی حادثہ نہیں، بلکہ دہائیوں کی غفلت اور مخصوص سماجی و جغرافیائی حالات کا شاخسانہ ہے۔ اس کے بڑے اسباب میں سب سے پہلا مسئلہ انفراسٹرکچر کی شدید کمی اور “گھوسٹ اسکولز” کا ہے۔ صوبے میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے اسکولوں کی تعداد آدھی سے بھی کم ہے۔ ہزاروں اسکول ایسے ہیں جو کاغذات میں تو موجود ہیں لیکن زمین پر ان کا کوئی وجود نہیں، اور جہاں ہیں وہاں چھت، چاردیواری اور واش رومز جیسی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، جس کی وجہ سے والدین جوان ہوتی بچیوں کو اسکول بھیجنے سے کتراتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان کی بکھری ہوئی آبادی کی وجہ سے ایک سے دوسرے اسکول تک کا فاصلہ کئی کلومیٹر پر محیط ہوتا ہے، اور ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو میلوں دور پیدل سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ رہی سہی کسر قبائلی اور روایتی معاشرے کی وہ سوچ پوری کر دیتی ہے جہاں اب بھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ لڑکی نے پڑھ لکھ کر آخر کار گھر ہی سنبھالنا ہے، جس کے نتیجے میں پرائمری کے بعد بچیوں کو اسکول سے اٹھا کر کم عمری میں ہی ان کی شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں کے اسکولوں میں خواتین اساتذہ کی شدید قلت اور نصف سے زائد آبادی کا خطِ غربت سے نیچے ہونا بھی ایسے عوامل ہیں جو والدین کو لڑکیوں کے بجائے لڑکوں کی تعلیم کو ترجیح دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ ایک کڑوی سچائی ہے کہ پرائمری سطح پر اگر کچھ لڑکیاں داخلہ لے بھی لیں، تو مڈل اور ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے اسکول چھوڑنے کی شرح اتنی بدترین ہو جاتی ہے کہ میٹرک تک صرف چند فیصد لڑکیاں ہی پہنچ پاتی ہیں۔
اس بحران پر محض افسوس کا اظہار کرنے یا بیانات داغنے سے کچھ نہیں بدلے گا، اگر ہم سچ مچ بلوچستان کو ایک خوشحال حصہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومتِ بلوچستان کو صوبے میں حقیقی ‘تعلیمی ایمرجنسی’ نافذ کرنی ہوگی تاکہ تعلیم کا بجٹ محض تنخواہوں کی نذر ہونے کے بجائے نئے گرلز اسکولوں کی تعمیر اور پرانے اسکولوں کی بحالی پر خرچ ہو۔ اس کے ساتھ ہی ‘مشروط نقد امداد’ جیسے پروگراموں کا دائرہ کار دور دراز اضلاع تک بڑھایا جائے، جہاں بیٹی کو اسکول بھیجنے پر والدین کو ماہانہ مالی معاونت دی جائے، کیونکہ جب تعلیم معاشی بوجھ کے بجائے سہارا بنے گی تو والدین خود بچیوں کو اسکول لائیں گے۔ گرلز مڈل اور ہائی اسکولوں کے لیے سرکاری سطح پر باحفاظت ‘اسکول بس سروس’ کا آغاز اسکول چھوڑنے کی شرح کو آدھا کر سکتا ہے۔ ایک اہم حل یہ بھی ہے کہ شہروں سے اساتذہ بھیجنے کے بجائے مقامی سطح پر پڑھی لکھی لڑکیوں کو خصوصی ٹریننگ دے کر اپنے ہی گاؤں کے اسکولوں میں تعینات کیا جائے اور انہیں خصوصی مراعات دی جائیں۔ اس پوری مہم میں بلوچستان کے معززین، قبائلی عمائدین اور علمائے کرام کو بھی شامل کرنا ہوگا تاکہ جمعہ کے خطبات اور جرگوں میں اس بات پر زور دیا جائے کہ اسلام میں عورت کی تعلیم اتنی ہی فرض ہے جتنی مرد کی، جس سے سماجی رکاوٹیں دور ہو سکیں۔
کوئی بھی قوم اپنی آدھی آبادی کو جہالت کے اندھیرے میں رکھ کر ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔ بلوچستان کی بیٹیوں میں ذہانت اور کچھ کر گزرنے کی لگن کی کوئی کمی نہیں کمی ہے تو صرف مواقع اور تحفظ کی۔ کوئٹہ سے لے کر گوادر، سوراب اور چاغی تک، جب تک ہر لڑکی کے ہاتھ میں قلم نہیں آئے گا، بلوچستان کا امن اور ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلے، کیونکہ بلوچستان کا مستقبل اب نعروں سے نہیں، بلکہ اس کی بیٹیوں کے اسکول جانے سے بدلے گا۔

