تحریر:محمدمظہررشید چودھری (03336963372)
پاکستان میں مہنگائی ایک بار پھر عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران قیمتوں میں ہونے والے مسلسل اضافے نے لاکھوں خاندانوں کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد تھی جو اپریل میں بڑھ کر 10.9 فیصد اور مئی 2026 میں 11.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس مئی 2025 میں مہنگائی کی شرح صرف 3.5 فیصد تھی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایک سال کے دوران قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عوام کی قوتِ خرید مسلسل کم ہو رہی ہے۔مہنگائی کے اثرات معاشرے کے تمام طبقات پر مرتب ہوتے ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور سفید پوش طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ غریب آدمی کی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ضروریات پر خرچ ہوتا ہے، اس لیے جب ان اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب سفید پوش طبقہ اپنی محدود آمدنی کے باوجود عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے، مگر بڑھتے ہوئے اخراجات اس کی معاشی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں سب سے زیادہ اضافہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں دیکھنے میں آیا جہاں سالانہ بنیاد پر کرایوں میں تقریباً 37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پٹرول، ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف سفر تک محدود نہیں رہتا بلکہ اشیائے خورونوش سمیت تقریباً ہر چیز کی قیمت پر پڑتا ہے کیونکہ سامان کی ترسیل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے اخراجات میں تقریباً 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آج ایک عام شہری کے لیے بجلی اور گیس کے بل ادا کرنا ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بہت سے خاندان ایسے ہیں جو دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے گھریلو اخراجات میں کٹوتی پر مجبور ہیں۔خوراک کے شعبے میں بھی تشویش ناک صورتحال سامنے آئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء سالانہ بنیاد پر تقریباً 8 فیصد مہنگی ہوئیں۔ گندم کا آٹا 11.21 فیصد، گندم 7.78 فیصد مہنگی ہوئی جبکہ گوشت، خشک دودھ، بیکری آئٹمز، آلو، کوکنگ آئل، گھی اور دودھ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ وہ اشیاء ہیں جو ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہیں اور ان کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر عوام کے معیارِ زندگی پر پڑتا ہے۔تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبے بھی مہنگائی سے محفوظ نہیں رہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق تعلیم کے اخراجات میں 8.37 فیصد جبکہ صحت کی سہولیات میں 7.54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سکول فیس، کتابوں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے متوسط طبقے کے والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ دوسری طرف ادویات اور طبی سہولیات مہنگی ہونے سے بہت سے لوگ بروقت علاج سے محروم ہو رہے ہیں۔کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں 8.77 فیصد اضافہ جبکہ ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے نرخوں میں 5.69 فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔ مزید برآں گزشتہ ماہ جوتے تقریباً 29 فیصد اور پوسٹل سروسز 9 فیصد تک مہنگی ہوئیں۔ صرف ایک ماہ کے دوران موٹر فیول 7.62 فیصد، ٹرانسپورٹ سروسز 3.70 فیصد جبکہ مزدور کی اجرت 3.64 فیصد بڑھی۔ اگرچہ اجرتوں میں اضافہ ہوا، لیکن قیمتوں میں ہونے والا مجموعی اضافہ اس سے کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث عام آدمی کو حقیقی ریلیف نہیں مل سکا۔آج ملک کا غریب طبقہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جبکہ سفید پوش طبقہ خاموشی سے مالی دباؤ برداشت کر رہا ہے۔ بہت سے خاندانوں نے تفریحی اخراجات ختم کر دیے ہیں، بعض نے بچوں کی ٹیوشن یا دیگر ضروری سرگرمیوں میں کمی کر دی ہے اور کئی لوگ اپنی بچتیں خرچ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی بلکہ سماجی مسائل کو بھی جنم دے سکتی ہے۔عوام کو ریلیف دینے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی، کم آمدنی والے طبقے کے لیے ہدف سبسڈی، بجلی اور گیس کے بلوں میں ریلیف اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معیشت میں استحکام اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ ہر اس ماں کی فکر کا نام ہے جو گھر کا خرچ پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ہر اس باپ کی پریشانی ہے جو بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اور ہر اس مزدور کی آزمائش ہے جو دن بھر محنت کے باوجود اپنے خاندان کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہا۔ اگر عوام کو حقیقی ریلیف دینا ہے تو مہنگائی پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ مضبوط معیشت کی بنیاد خوشحال اور مطمئن عوام ہی ہوتے ہیں ٭

