فقیر تو بہرحال صدا لگائے گا

خالد مسعود خان
اعداد وشمار کے اعتبار سے مملکت خداداد پاکستان ”کیسی بلندی اور کیسی پستی‘‘ والی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ آبادی کے اعتبار سے ہم دنیا میں پانچویں اور جی ڈی پی کے اعتبار سے دنیا کی بیالیسویں بڑی معیشت ہیں۔ اس ملک میں صرف دو چیزوں میں مسلسل بڑھوتری ہو رہی ہے‘ ایک آبادی اور دوسری ہاؤسنگ سکیمیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس حساب سے ملکی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس نسبت سے زرعی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ ہر روز بڑھتے ہوئے اس باہمی فرق کی دو بنیادی وجوہات ہیں؛ پہلی یہ کے قابلِ کاشت زمین میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا اور دوسری وجہ یہ کہ ہم ابھی تک زیادہ پیداوار دینے والی فصلات کے بیج تیار نہیں کر سکے۔ ہماری بنیادی خوراک گندم ہے جبکہ ہم گندم کی فی ایکڑ پیداوار کے اعتبار سے عالمی درجہ بندی میں بہت نیچے ہیں۔ آئرلینڈ کی اوسط پیداوار سو من فی ایکڑ سے زیادہ ہے جو پاکستان سے تین گنا زیادہ ہے۔ جبکہ جرمنی اور برطانیہ کی اوسط پیداوار بھی تیس من فی ایکڑ کی اوسط پیداوار والے پاکستان سے اڑھائی گنا زیادہ ہے۔ اگر عالمی درجہ بندی میں پاکستان کو گندم کی فی ایکڑ پیداوار کے حوالے سے دیکھیں تو FAOSTAT کی درجہ بندی میں ہم دنیا بھر میں 61ویں نمبر پر ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس ملک کی مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کو کھلانے کے لیے زرعی درآمدات مسلسل بڑھتی جائیں گی اور زرِمبادلہ کے ذخائر جو پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے مزید بُری صورتحال کا شکار ہو جائیں گے۔ اس وقت بھی ملکی ضرورت کا تقریباً 80 فیصد خوردنی تیل‘ چنا‘ مسور‘ مونگ اور دیگر دالوں کے علاوہ اب کپاس کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اب اس فہرست میں گندم بھی شامل ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال 180ارب روپے کی تو صرف چائے درآمد کی گئی ہے۔ یہ بات ہم اپنے بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہ ہماری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تاہم ہماری ریڑھ کی ہڈی اس بُری طرح نظر انداز ہوئی ہے کہ اب اس کے لیے بڑھتی ہوئی آبادی اور زوال پذیر معیشت کا بوجھ اٹھانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ عشروں سے سرکار ملک کی زراعت کے بارے میں زبانی جمع خرچ کے علاوہ اور کچھ نہیں کر رہی۔ نہ کسی کے پاس درست اعداد وشمار ہیں اور نہ کوئی اس بکھیڑے میں پڑنا چاہتا ہے۔ زرعی معاملات ٹیکنو کریٹس کے بجائے بابوں کے ہاتھ میں ہیں جنہیں زراعت کی الف بے کا بھی پتا نہیں ہے۔ اسمبلیوں میں وہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جن کے اپنے معاملات کہیں اور جڑے ہوئے ہیں۔ شوگر ملز مالکان اپنے حساب سے پالیسیاں بنواتے ہیں‘ ٹیکسٹائل سیکٹر کی اپنی ترجیحات ہیں اور امپورٹ مافیا کے اپنے کھانچے ہیں۔ اگر اس پورے معاملے میں کسی کی کوئی شنوائی نہیں ہے تو وہ کاشتکار ہے۔
یہی حال لائیو سٹاک کا ہے۔ گائیوں اور بھینسوں کی تعداد کے اعتبار سے تو ہماری عالمی رینکنگ کافی بہتر ہے۔ ہمارے پاس 5.59 کروڑ گائیں‘ 4.77 کروڑ بھینسیں‘ 9.58 کروڑ بکریاں اور 4.46 کروڑ بھیڑیں ہیں‘ تاہم دودھ کی پیداوار کے اعتبار سے ہم بہت نچلے درجے پر ہیں۔ بھینس کے دودھ کی اوسط پیداوار تو پھر بھی بہتر ہے لیکن گائے کے دودھ کی اوسط اتنی شرمناک ہے کہ رونا آتا ہے۔ ہم ابھی تک دودھ دینے والے اور گوشت کے لیے فربہ کیے جانے والے جانوروں کو علیحدہ علیحدہ کیٹیگری میں تقسیم نہیں کر سکے۔ FAO کے مطابق دنیا کے کئی ممالک جن میں امریکہ‘ ڈنمارک‘ کینیڈا اور فن لینڈ شامل ہیں‘ گائے کے دودھ کی سالانہ اوسط پیداوار دس ہزار لٹر سے زیادہ ہے جبکہ پاکستان میں گائے کی دودھ کی فی کس سالانہ اوسط ڈیڑھ ہزار لٹر سے بھی کم ہے۔ عالم یہ ہے کہ گاؤں دیہات میں دو اڑھائی لیٹر روزانہ دینے والی گائے بھی دودھ دینے والے جانوروں میں شمار کی جاتی ہے اور اس سے پیدا ہونے والی بچھڑی مستقبل میں دودھ دینے والی گائے کے طور پر پال پوس کر بڑی کی جاتی ہے۔ اڑھائی کلو روزانہ دودھ دینے والی گائے کہ اگلی نسل بمشکل دو سوا دو کلو دودھ دے گی اور یہ ہمارا لائیو سٹاک کا مستقبل ہے۔
ملک کا کل رقبہ آٹھ لاکھ بیاسی ہزار مربع کلومیٹر ہے اور اس میں جنگلات کا تناسب گھسیٹ گھساٹ کر ساڑھے چار فیصد شمار کیا جاتا ہے۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ حقیقی جنگلات کا رقبہ اس سے کہیں کم ہے۔ سرکار کے لگائے گئے جنگلات کے بارے میں سرکاری افسر اور اہلکار جھوٹ اور مبالغے سے کام لیتے ہیں۔ فائلوں میں درخت اُگنے سے زمین کی صحت پر کچھ خاص فرق نہیں پڑتا جبکہ متعلقہ محکموں کے افسر درخت اگانے کے لیے زمین کے بجائے فائل پر زیادہ محنت کرتے ہیں‘ لہٰذا فائلوں میں جنگلات کا رقبہ زمین پر موجود جنگلات سے کافی زیادہ ہے۔ پہاڑی علاقوں میں موجود جنگلات میں تو پھر بھی کام کی لکڑی والے درخت ہیں جبکہ میدانی علاقوں میں لگائے جانے والے جنگلات کا بیشتر حصہ بیکار قسم کے جلد بڑھوتری والے سفیدے ٹائپ درختوں پر مشتمل ہے۔ جنگلوں کا یہ شیدائی اس بات کا عینی شاہد ہے کہ گزشتہ چند عشروں سے مسلسل کم ہوتا ہوا شیشم کے درختوں پر مشتمل رقبہ متبادل کے طور پر سفیدے کے درختوں سے بھرا جا رہا ہے۔ پہلے سے زیر زمین پانی کی کمی کا شکار یہ ملک خدا جانے کن عقلمندوں کے ہاتھ لگا ہوا ہے کہ انہوں نے جلد کارکردگی دکھانے کے چکر میں سارا ماحول برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ شہروں کے اردگرد پھلوں کے باغات کو ہاؤسنگ کالونیاں کھا گئی اور جنگلات کو ٹمبر مافیا ہڑپ کر گیا۔ نتیجہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی صورت میں عفریت بن کر کھڑا ہے اور ہمیں رتی برابر فکر نہیں ہے۔
ہمارا ہمسایہ ملک بھارت رقبے کے اعتبار سے پاکستان سے تقریباً 3.7 گنا بڑا جبکہ آبادی میں 5.7 گنا زیادہ ہے۔ ہماری فی مربع کلومیٹر آبادی 290 جبکہ بھارت میں یہ تعداد 445 ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ بھارت میں فی مربع کلومیٹر آبادی کا دباؤ ہم سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن بھارت میں بے تحاشا آبادی کے باوجود جنگلات کا رقبہ پاکستان کی نسبت پانچ گنا زیادہ ہے اور یہ حقیقی جنگلات ہیں‘ جن میں ببرشیر‘ بنگال ٹائیگر‘ چیتے‘ تیندوے‘ ریچھ‘ جنگلی بھینسے‘ ہاتھی اور ایک سینگ والے ایشیائی گینڈے تک پائے جاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ملک میں بچے کھچے جنگلات اور وائلڈ لائف پارکس اتنے خراب وخستہ ہیں کہ سوچ کر ہی دل بجھ جاتا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ شکاری اور شیر کے تحفظ کے لیے بہت کام کرنے والے جم کاربٹ کے نام پر بھارت کے سب سے پرانے 1936ء میں قائم ہونے والے نیشنل پارک میں اڑھائی سو سے زائد بنگال ٹائیگر اور ایک ہزار سے زیادہ تو صرف ہاتھی پائے جاتے ہیں۔
ملک میں جنگلات کی حالت پہلے ہی پتلی ہے اور ہمیں ابھی تک اس کی بہتری کا خیال تک نہیں آیا۔ ادھر ایک قاری نے مطلع کیا ہے کہ دادو کے گردو نواح میں سیتا روڈ‘ سونا بڈھی اور پھلجی میں سرکاری اراضی پر قائم صدیوں پرانے جنگلات کاٹے جا رہے ہیں اور سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے ٹمبر مافیا لکڑی بیچ رہا ہے۔ ماحولیاتی بربادی ہمارے دروازے پر صرف دستک ہی نہیں دے رہی بلکہ دہلیز پھلانگ کر گھر میں داخل ہو چکی ہے مگر ہم ہیں کہ خوابِ خرگوش میں مگن ہیں۔ مجھے بخوبی علم ہے کہ اس سلسلے میں ارباب اقتدار کو جھنجوڑنے کے لیے کالم لکھنا ایک حرفِ بیکار سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں مگر یہ فقیر دروازہ ضرور کھٹکھٹائے گا۔ فقیر کا کام صدا لگانا ہے۔ خیرات تو مقدر کی ہوتی ہے۔ سو فقیر صدا لگا رہا ہے‘ کیا خبر خیرات بھی مل جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں