ظلمت کا وہی ایک رنگ

رسول بخش رئیس
تاریک ادوار کی بات آپ نے ضرور سنی ہو گی۔ زیادہ امکان تو یہ ہے کہ آپ کی زندگی کا بہت بڑا حصہ یا ہو سکتا ہے کہ ساری عمر فکری اور جمہوری آزادی کی تمنا میں گزر گئی ہو۔ دنیا کے حالات کا رُخ فسطائیت‘ جمہوریت کے لبادے میں آمریت‘ نسل پرستی اور جنگی جنون کی طرف بڑھتا دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ طاقت عوام اور معاشرے کے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔ ویسے تاریخ میں کبھی بھی مکمل طور پر یہ ان کے ہاتھوں میں نہیں تھی۔ صدیوں سے ایک جہدِ مسلسل رہی ہے کہ حکومتیں عوام کی رائے سے تشکیل پائیں‘ قانون اور عوام کے سامنے جوابدہ ہوں اور اپنی پالیسیوں میں ان کا مفاد سامنے رکھیں۔ یہ تحریک کب شروع ہوئی اور اس کی فلسفیانہ اور فکری اساس کیا ہے‘ اس کا مختصر مضمون میں احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ صرف یہ حوالہ ہی کافی ہے کہ نجانے کتنے مفکرین نے اپنے خیالات سے اس سیاسی اخلاقیات کی آبیاری کی جس سے ایک عوامی اور ذمہ دارانہ حکومت کا تصور عالمگیریت اختیار کرتا چلا گیا۔ سیاسی علم کی بنیاد ہی یہ نکتہ ہے کہ کون سی حکومت کس طریقے سے تشکیل پائے کہ شہری آزادی‘ سلامتی اور سکون کی فضا میں اپنی زندگی کے خواب پورے کر سکیں۔ یہی بات تھی جس نے کئی ہزار سال سے یونان کے عالموں کو اپنے معروضی حالات کے مطابق مناسب نظام ترتیب دینے میں مصروف رکھا۔ دنیا کی تاریخ کا کوئی بھی دور ایسا نہیں‘ بشمول موجودہ دور کے کہ جب افکار کی دنیا میں بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مطمئن انسان‘ پُر سکون معاشرہ‘ جائز اور مستعد حکومت کے تصورات نمایاں نہ رہے ہوں۔
پالیسیاں تو وقت کے ساتھ اور سائنسی اور صنعتی ترقی کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہیں‘ مگر مغربی دنیا میں جدید دور کا سب سے بڑا اتفاق نمائندہ حکومت‘ آئین کی بالا دستی اور شخصی آزادیوں پر تھا۔ ان تین بنیادی اصولوں نے یورپ اور شمالی امریکہ میں فرد‘ معاشرے‘ رہن سہن‘ شہری زندگی اور معیشت کو مکمل طور پر مسلسل ترقی اور مثبت تبدیلی کی راہ پر ڈال دیا۔ اس نوعیت کے سیاسی نظام کا مادی رخ سرمایہ داری نظام اور جائیداد کی مرکزیت تھا۔ ایک دو صدیوں کے اندر صرف دو نسلوں میں ہی محیر العقول بلکہ کرشماتی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ گزشتہ صدی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جو کچھ ہوا وہ شاید پچھلے ایک ہزار سال میں بھی نہیں ہو سکا۔ ہماری عمر کے لوگوں نے تقریباً اس کے وسط کے قریب آنکھیں کھولیں۔ ہم سب اپنے ماحول کی پیداوار ہوتے ہیں‘ اور جو گزر چکا‘ اس کا اندازہ صرف تاریخ پڑھ کر ہی ہو سکتا ہے۔ ہم نے نسبتاً ترقی یافتہ دنیا دیکھی۔ آزادی کے اوائل کا زمانہ اور آزادی کی تحریکیں بھی اس جدیدیت کا ثمر تھیں‘ جو انیسویں صدی کی دوسری دہائی میں شروع ہوئیں۔ ہر معاشرے کے مادی اور فکری دھارے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ متوازی نہیں‘ باہم اکٹھے۔ ایک دوسرے کی مسلسل تشکیل کرتے رہے ہیں۔ تاریخی طور پر میں اس نظریے کا حامی ہوں جس کے مطابق جمہوریت‘ آزادیاں اور قانون کی عملداری سرمایہ داری نظام کی پیداوار ہیں۔ جدید انداز میں تو اس نظام کا تعلق صنعتی دور سے ہے مگر اس کا بنیادی ستون جسے حقِ ملکیت کہتے ہیں یا پراپرٹی‘ قدیم زمانے سے موجود تھا۔ اس لیے ہر مذہب اور ہر تہذیب میں سرمایہ داری نظام مختلف صورتوں میں موجود تھا۔ صرف جدید دور میں چونکہ نئے طبقات پیدا ہوئے‘ معاشرے کی بُنت اور ترتیب تبدیل ہوئی اور فکری آزادی کی تحریک نے زور پکڑا تو سیاسی نظام بھی نئے سانچے میں ڈھل گیا۔
گزشتہ صدی کے اوائل ہی سے آزادی اور جمہوریت کی روشنی عالمگیریت کا رنگ اختیار کر چکی تھی۔ قومیت پرستی اور آزادی کی تحریکیں اس کا عکس تھیں۔ صرف ہماری نہیں بلکہ سینکڑوں بعد از نوآبادیاتی ریاستوں کے قیام کا خواب آئین اور جمہوریت کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔ اس کے بعد سب راوی کہتے ہیں کہ بہتر یہی ہے کہ خاموش رہو! اور اگر اشاروں کنایوں میں نوحہ خوانی کر سکتے ہو تو ضرور لکھتے رہو کہ اپنے دور کے حاکموں پر وہ جملے زیادہ بھاری نہیں گزرتے۔ یہ مسئلہ اب چند ملکوں کا نہیں بلکہ کچھ بڑے بڑے اور طاقتور ملکوں کا ہے۔ پہلے تو بات ہم سرسری طور پر امریکہ کی کر لیتے ہیں کہ وہاں اب ”بادشاہت نامنظور‘‘ کی تحریک دبے لفظوں میں پھیلتی مزاحمت کی صورت دیکھ رہے ہیں۔ شاید ہی ایسا پُرگھٹن ماحول گزشتہ ایک صدی میں وہاں دیکھنے میں آیا ہو۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دائیں بازو کی فکری تحریک جو تقریباً نصف صدی پہلے جدید لبرل ازم اور فلاحی ریاست کے ردِعمل کے طور پر شروع ہوئی تھی‘ کا منطقی نتیجہ ہیں۔ کچھ نسل پرست حلقے سول رائٹس کی تحریک کی کامیابی کے خلاف تھے جس سے سیاہ فام امریکیوں کو برابری کے شہری حقوق حاصل ہوئے۔ باقی کسر فلاحی ریاست کے معاشی تقاضوں نے پوری کردی۔ ایسا تو کبھی خیال ہی نہیں آیا تھا کہ امریکی جامعات کے سربراہوں‘ حقوق کی بات کرتے اساتذہ‘ جنگوں اور قتلِ عام اور نسل کشی کے خلاف احتجاج کرتے طلبہ کو چن چن کر نشانہ بنایا جائے گا۔ اس وقت سیاسی طاقت کا توازن دائیں بازو کے رجعت پسند حلقوں اور ان کی تہہ میں نسل پرستوں کے حق میں ہے۔ لبرل ازم کی عَلم بردار ڈیموکریٹک پارٹی رہی ہے مگر وہ بھی فکری انتشار کے علاوہ بدلے ہوئے قومی ماحول کی اسیر ہے۔ دیکھیں نومبر کے مہینے میں وسط مدتی انتخابات میں وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ حاصل کرتے ہیں یا طاقت کا پینڈولم مزید دائیں بازو کی طرف چلا جاتا ہے۔
پوری مغربی جمہوری دنیا کے علاوہ لاطینی امریکہ میں بھی دائیں بازو کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ ایشوز مختلف ہیں‘ کہیں تارکینِ وطن اور نسل پرستی نشانے پر ہیں توکہیں معاشی مساوات اور شخصی آزادی کی پالیسیاں ہدف۔ ہر نئے انتخابات میں دائیں بازو کی عددی طاقت ایوانوں میں بڑھ رہی ہے اور ساتھ ان کی آواز معاشرے میں گونج رہی ہے۔ بھارت کو ہی دیکھیں‘ جہاں کروڑوں شہریوں کی شہریت مذہبی انتہا پسندی کے تحت ختم کر دی گئی۔ اقلیتوں کے ساتھ جو وہاں سلوک ہو رہا ہے‘ وہ فسطائیت سے کم نہیں۔ چین اور روس کی ہم کیا بات کریں کہ وہاں تو مغربی جمہوریت کا اصول کبھی تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ آمریت پسندی پوری دنیا میں پھیلتی جارہی ہے۔ اس نوعیت کے حکمران اپنے اخلاقی جواز کیلئے تیسری دنیا کے ممالک میں بھی ایسے رویوں کو ابھرتے دیکھ کر نہ صرف خوش ہوتے ہیں بلکہ مکمل حمایت کا یقین بھی دلاتے ہیں۔ مغرب میں تو سیاستدانوں کی ایک نئی کھیپ تیار ہو چکی ہے جو آزادی‘ حقوق اور طاقت ایک مخصوص طبقے اور رجعت پسندانہ سوچ کے حامی لکھاریوں‘ صحافیوں اور دانشوروں کیلئے جائز سمجھتی ہے۔ مخالف سیاسی مفکرین اور سیاست بازوں کیلئے گنجائش محدود ہے۔ وہ سرخ لائنوں کے نشانوں کو آزادیاں محدود کرنے کیلئے آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔
اپنا حال جو ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ شاید کچھ مبالغہ آمیزی ہو گئی کہ سب کو معلوم نہیں۔ وہ اس لیے کہ اکثریت تو مایوس ہو کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر چکی ہے۔ آزادیوں کی بات ان سے کریں جو کچھ لکھنے یا بولنے پر پل بھر میں زیرِ عتاب آ جاتے ہیں۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ جمہوریت کی روشنی پھیل رہی ہے یا کچھ لوگوں کیلئے واپڈا کی بجلی کی طرح مکمل طور پر غائب ہو گئی ہے۔ ظلمت میں کبھی بھی سب لوگ حالات سے سمجھوتا کرکے خاموش نہیں ہوتے۔ روشنی کی تمنا‘ مزاحمت اور ایک نئی سحر کی نوید میں وہ سر کھپاتے ہیں‘ مصیبتیں جھیلتے ہیں اور ان کی مزاحمت کئی رنگوں میں جاری رہتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں