اٹھائیسویں ترمیم، بجٹ اور شاہ جی کی مسکراہٹ

خالد مسعود خان
اس ملک میں جس بات کی تردید کی جائے سمجھ لیں کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ہے اور اگر یہ تردید زیادہ شدومد اور زور و شور سے کی جائے تو سمجھ لیں کہ صرف دال میں کچھ کالا ہی نہیں بلکہ ساری دال ہی کالی ہے۔ ایسا ہی کچھ آج کل اٹھائیسویں ترمیم کے حوالے سے چل رہا ہے۔ ساری سر کار اس ترمیم پر لگی بھی ہوئی ہے اور تردید بھی چل رہی ہے۔ ووٹ ڈالنے کی عمر 25سال کرنے‘ کراچی اور گوادر کو وفاق کے سپرد کرنے‘ نئے صوبے بنانے کیلئے آئین میں موجود طریقہ کار میں تبدیلی اور اٹھارہویں ترمیم میں وفاق سے صوبوں کو منتقل کی جانے والی کچھ وزارتوں کو دوبارہ وفاق کے زیر انتظام کرنے کی خبریں اور ان کی تردیدیں مسلسل چل رہی ہیں‘ تاحال مقابلہ برابر ہے۔
بقول ایک دوست کے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی ساری جمہوریت نوازی اور بہادری کے نعرے اُس وقت ٹھس ہو جائیں گے جب لگامیں تھامنے والے لگاموں کو جھٹکا دیں گے۔ ہر دو پارٹیاں اپنے لوکل قسم کے معاملات اور چھوٹی چھوٹی شرائط پر راضی ہو جائیں گی۔ اسی دوست کا کہنا ہے کہ درج بالا مجوزہ ترمیمات میں سے کئی ایک صرف اور صرف بہانے کیلئے اور بعد ازاں دیگر معاملات پر کمپرو مائز کروانے کیلئے اچھالی جا رہی ہیں۔ ویسے بھی پیپلز پارٹی کو صرف سندھ کی حد تک اپنے ووٹر کو مطمئن رکھنے اور اپنے معاملاتِ دیگراں کو سیدھے سبھاؤ چلانے کے علاوہ اور کچھ درکار نہیں اور فیصلہ ساز یہ فیصلہ کیے بیٹھے ہیں کہ موت دکھا کر بخار قبول کرنے والا فارمولا چلانا ہے اور وہ خیر سے چل بھی جائے گا۔
جی بی میں بھلا فارم 47 استعمال کرنے میں کیا چیز مانع تھی؟ سر کار‘ میرا مطلب ہے اصل سرکار اگر اس بار بھی فارم 47جاری کرنا چاہتی تو اسے بھلا کون روک سکتا تھا؟ لیکن اگر جی بی حکومت پیپلز پارٹی کو مل بھی جائے تو کسی کی صحت پر کیا فرق پڑتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں پیپلز پارٹی کو دی جانے والی ڈھیل یا ڈیل سے حالات مرضی کے مطابق چل جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ سو صورتحال کچھ لو اور کچھ دو کے اصولوں کے عین مطابق چل رہی ہے اور راوی مستقبل میں بھی چین لکھتا ہے۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ ہی 1973ء کا آئین بنانے کا کریڈٹ لیتی ہے اور سننے والے اس بات سے کسی حد تک متاثر بھی ہوتے ہیں لیکن بہت کم لوگ اس بات سے آگاہ ہیں کہ اس آئین کی شکل تبدیل کرنے کا عمل بھی پیپلز پارٹی کے دور میں ہی شروع ہو گیا تھا اور آئینِ پاکستان میں پہلی سات ترامیم خود ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد کی جانے والی اکثر ترمیموں کو پیپلز پارٹی کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ خود اٹھارہویں ترمیم‘ جو آج کل زیادہ زیر بحث ہے‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مابین مکمل مفاہمت کے نتیجے میں پاس ہوئی اور اس ترمیم میں ہر دو فریقین اپنے تئیں اپنی اپنی جگہ پر فائدے میں رہے۔ وسائل کے استعمال اور مختلف محکموں اور وزارتوں کی وفاق سے صوبائی حکومتوں کو منتقلی کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا‘ جو صرف ایک صوبے میں اپنی حکومت اور اس حوالے سے صوبائی معاملات میں خود مختاری کے باعث نہ صرف خوش تھی بلکہ حقیقی طور پر بھی دور رس صوبائی فوائد کی سب سے بڑی بینی فشری تھی جبکہ مسلم لیگ (ن) کو صرف یہ ایک فائدہ ہوا کہ انہوں نے وزیراعظم بننے کیلئے زیادہ سے زیادہ دو بار کی پابندی ختم کروا کر میاں نواز شریف کیلئے تیسری اور اس سے اگلی بار بھی وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کر لی۔ کل تک اس ترمیم کے نقارے بجانے والی مسلم لیگ (ن) کو بعد ازاں احساس ہوا کہ اس ترمیم سے صوبائی حکومتوں کو تو مالی طور پر بہت فائدہ ہوا مگر وفاقی حکومت کے کپڑے اُتر گئے۔ وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور اس ترمیم سے سب سے زیادہ نقصان بھی اسی کو ہوا ہے۔ مبینہ طور پروفاقی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں 1.7 ٹریلین روپے کی کمی کا مطالبہ کیا تھا۔پنجاب اور وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اسے تو اس ہیر پھیر اور ٹوپیوں کی تبدیلی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا لیکن سندھ پر اس کے اثرات یقینا پڑیں گے۔ مجوزہ ترمیم میں این ایف سی میں فنڈز کی تقسیم بھی دوبارہ سے کرنے کی باتیں چل رہی ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کا ہاتھ بہت تنگ پڑ گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال جولائی سے مئی 2026ء تک دس ماہ کے دوران مجموعی طور پر بینکوں سے 3.5 ٹریلین یعنی 3500 ارب رو پے قرضہ لیا ہے۔ ہم ہر روز سنتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں جبکہ صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف حکومت آئی ایم ایف کی منتیں کر رہی ہے اور دوسری طرف ملکی بینکوں سے بے تحاشا قرض لے کر کام چلا رہی ہے۔ اس صورتحال میں معاشی بہتری کے دعوے بالکل ویسے ہی ہیں جیسا کہ چچا غالب‘ جو ہمہ وقت گلے گلے تک قرض میں ڈوبے ہونے کے باوجود فرماتے تھے کہ
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گے ہماری فاقہ مستی ایک دن
نہ چچا غالب کی فاقہ مستی رنگ لائی اور نہ ہی ہمیں اپنی سرکار کی معاشی حالت بہتر ہونے کی کوئی امید ہے۔
ادھر بجٹ کی عجب گھڑمس مچی ہوئی ہے۔ تین فریقوں کے درمیان عجیب و غریب قسم کی کھینچا تانی جاری ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان تو خیر سے کئی معاملات پر اختلاف موجود ہے ہی‘ اب اس میں پیپلز پارٹی بھی شامل ہو گئی ہے۔ بجٹ کی تاریخ بھی اسی سے طے نہیں ہو پا رہی۔ مہنگائی تاریخی ریکارڈ قائم کر رہی ہے اور عوام کی قوتِ خرید روز بروز نیچے آرہی ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے بارے میں شنید ہے کہ دس سے پندرہ فیصد اضافے کی تجاویز ہیں لیکن بقول شاہ جی‘ سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کے بارے میں کوئی پکی بات نہیں کہی جا سکتی کیونکہ ممکن ہے کہ اس مد میں آئی ایم ایف اعتراض کر دے اور جب آئی ایم ایف نے اعتراض کر دیا تو پھر بھلا حکومت کیلئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے اعتراض کے بعد سرکاری ملازموں کی تنخواہ میں اضافہ کر سکے۔ لہٰذا اس معاملے کو تو ابھی زیرِ غور ہی سمجھیں۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں دس پندرہ فیصد اضافے پر تو اعتراض کردیتا ہے‘ لیکن ارکانِ اسمبلی اور عدلیہ وغیرہ کی تنخواہوں میں کئی کئی گنا اضافے پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ شاہ جی یہ سن کر مسکرائے اور کہنے لگے کہ تم بھی بھولے بادشاہ ہو۔ اعتراض اُس پر لگتا ہے جو اجازت طلب کرے۔ بھلا جو آپ سے اجازت ہی نہیں مانگ رہا آپ اس پر اعتراض کیسے کر سکتے ہیں۔ ارکانِ اسمبلی اپنی تنخواہوں میں‘ اپنے الاؤنسز میں اور دیگر سہولتوں میں جب خود ہی اضافہ کر لیتے ہیں اور انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تو ان پر اعتراض بھلا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہی کلیہ عدلیہ سے متعلق تنخواہوں میں اضافے پر منطبق کیا جا سکتا ہے۔
بجٹ اور مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم کے مسئلے پر حکومت اور پیپلز پارٹی میں جاری نورا کشتی بالآخر ریفری کی سیٹی بجانے پر ختم ہو جائے گی اور سب کچھ حسبِ منشا ہو جائے گا۔ میں نے پوچھا: شاہ جی ریفری کون ہے اور سب کچھ کس کی حسبِ منشا ہو جائے گا؟ شاہ جی نے جواباً صرف مسکرا کر دکھا دیا۔ مجھے تو اس کھچرے پن والی مسکراہٹ سے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اب میں شاہ جی کی مسکراہٹ کے بارے میں کس سے پوچھوں ؟ میری ہر مشکل خود شاہ جی آسان کرتے ہیں اب جبکہ وہ خود مشکل پیدا کر رہے ہیں تو میں اس کا حل کس سے دریافت کروں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں