آزاد جموں و کشمیر اور مہاجرین کی سیٹیں

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ
ر کی کوئی باقاعدہ اسمبلی نہ تھی۔ اُس وقت ایک صدر مختلف حکومتی انتظامات کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کے معاملات کو چلاتا تھا۔ 1960ء کی دہائی پاکستان میں ایوب خان کی بنیادی جمہوریتوں کا زمانہ تھا۔ آزاد کشمیر سٹیٹ کونسل 24ارکان پر مشتمل تھی۔ ان میں 12ممبرز پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم مہاجرین منتخب کرتے تھے جبکہ باقی 12ارکان آزاد جموں و کشمیر کے لوگ چنتے تھے۔ یہ نظام مختلف تبدیلیوں کے ساتھ 1960ء کی دہائی میں جاری رہا۔ 1970ء میں آزاد جموں و کشمیر ایکٹ میں ایک تبدیلی کی گئی جس کے مطابق وَن مین وَن ووٹ کے اصول کو آزاد جموں و کشمیر میں بھی تسلیم کر لیا گیا۔ 1974ء کے عبوری دستوری ایکٹ کے مطابق بننے والی اسمبلی کیلئے پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری مہاجرین کیلئے بھی 12سیٹیں مختص کی گئیں۔ اب آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی 53 سیٹوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 45 جنرل سیٹوں پر براہِ راست انتخاب ہونا ہے‘ 33 سیٹوں پر اے جے کے میں اور باقی 12 سیٹوں پر پاکستان میں۔ ہماری معلومات کے مطابق مہاجرین کی ان 12 میں سے دس سیٹیں پنجاب میں‘ ایک سندھ اور ایک خیبر پختونخوا میں ہے۔ خواتین کی پانچ سیٹیں‘ ٹیکنو کریٹ کی ایک‘ علماو مشائخ کی ایک اور سمندر پار کشمیریوں کی ایک سیٹ ریزرو ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیری مہاجرین کی 12 سیٹیں ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں کے زیر اثر ہیں۔ آزاد کشمیر کے اندر تو کسی حد تک آزادانہ انتخابات ہوتے ہیں مگر مہاجرین کی سیٹوں پر ہونے والی انتخابات کی شفافیت پر ملک کے اندر ہونے والے دیگر انتخابات کی طرح سوالیہ نشان ہے۔ سردست اس انتخابی دھاندلی کے تدارک کی ضرورت ہے۔ البتہ مہاجرین کی سیٹوں کا خاتمہ کسی ”عوامی تحریک‘‘ کے ذریعے ایک دشوار کام ہے کیونکہ ان سیٹوں کا خاتمہ قانون ساز اسمبلی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ آزاد کشمیر صدارتی ریفرنس پر وہاں کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مہاجرین کی بارہ سیٹوں کو دستوری تحفظ حاصل ہے۔ اس لیے ان سیٹوں کے خاتمے یا ان میں رد و بدل قانون ساز اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے پُرامن احتجاج کا حق تسلیم کرتے ہوئے روزمرہ زندگی میں خلل ڈالنے اور بدامنی پھیلانے کے ہر پروگرام کو مسترد کر دیا ہے۔ سات جون کو راولا کوٹ میں کچھ شرپسندوں کی فائرنگ سے چار پولیس اہلکار شہید ہوگئے ۔ موجودہ صورتحال آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے سیاستدانوں اور وفاقی حکومت کے ذمہ داران کی عقل و دانش اور معاملہ فہمی کا امتحان ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امورطارق فضل چودھری سے پرانی یاد اللہ ہے۔ موصوف کی کوشش معاملات سنوارنے کی ہوتی ہے بگاڑنے کی نہیں۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی آڑ میں کون سے شرپسند سرگرم عمل ہیں۔ آزاد کشمیر میں قانونی و دستوری تقاضے کے مطابق انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ 9 جون سے 19 جون تک کاغذاتِ نامزدگی قبول کیے جائیں گے اور 27 جولائی کو انتخابات ہوں گے۔ پاکستانی انتخابات کی طرح آزاد کشمیر میں پولنگ کے دوران اور نتائج کی حسبِ خواہش ترتیب و تبدیلی تو شاید خاصی دشوار ہو گی البتہ پری پول دھاندلی اور سیاسی جوڑ توڑ شروع ہو چکا ہے۔ باخبر کشمیری سیاستدانوں کے بقول ایوانِ صدر میں پیپلز پارٹی نے اور مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم ہاؤس میں کشمیری مورچہ سنبھال لیا ہے اور کشمیر کے انتخابات سے حسب منشا نتائج حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر غور جاری ہے۔
دو اہم نکات کی بنا پر آزاد کشمیر ایک نہایت حساس علاقہ ہے۔ پہلا نکتہ تو یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی سربلندی ایک ایک ایسا ماڈل ہونا چاہئے کہ جسے دیکھ کر مقبوضہ کشمیر کے کشمیری یک جان دو قالب ہونے اور پاکستان کے قریب آنے کیلئے مزید بے قرار ہو جائیں اور انہیں فیصلے پے مزید اطمینان قلب حاصل ہو۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر ایک سیاحتی مقام ہے۔ گرمیوں میں وہاں ملکی و غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ سیاحت کے ساتھ آزاد کشمیر کی معیشت جڑی ہوئی ہے۔ پرامن جمہوری احتجاجی تحریک کو طاقت کے بل بوتے پر روکنے کا کلچر کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ طاقت کا استعمال ایک اعتبار سے سیاست اور سیاستدانوں کی ناکامی کا ثبوت ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر میں صاف شفاف انتخاب شیڈول کے مطابق ہونا چاہیے۔ تاہم تمام سیاستدانوں پر مشتمل ایک مذاکراتی ٹیم منتخب کی جائے جو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی والوں سے مذاکرات کرے اور انہیں افہام و تفہیم کے راستے پر لائے۔ نیز یہ کمیٹی آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر انتخابی عمل کو دھاندلی سے پاک رکھنے کی یقین دہانی حاصل کرے۔ بالخصوص پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی سیٹوں پر انتخاب کو ہر دھاندلی سے محفوظ رکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں