رشید صافی
گلگت بلتستان کے چوتھے عام انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اتوارکو ہونے والے انتخابات کے ابتدائی اور غیر حتمی نتائج نے ملکی سیاسی منظر نامے پر کسی یکطرفہ فتح کا علم بلند کرنے کے بجائے منقسم مینڈیٹ کی مہر ثبت کر دی ہے۔ اب سب سے بڑا اور کلیدی سوال یہ ابھر رہا ہے کہ بکھرے ہوئے سیاسی مہروں‘ منقسم آرا اور متضاد نظریات کے ساتھ اگلی حکومت کا تاج آخر کس کے سر سجے گا؟ اقتدار کی اس نئی بساط کو گہرائی سے پرکھنے کیلئے سب سے پہلے ایوان کی عددی ساخت اور حکومت سازی کے مروجہ فارمولے کو باریک بینی سے سمجھنا ضروری ہے۔ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی 33نشستوں پر مشتمل ہے۔ ان 33 نشستوں میں سے 24جنرل نشستیں ہیں جن پر عوام براہِ راست اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور یہی 24نشستیں اصل سیاسی میدانِ جنگ قرار دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایوان میں خواتین کیلئے چھ نشستیں جبکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین یعنی ٹیکنوکریٹس کیلئے تین نشستیں مخصوص کی گئی ہیں‘ جو سیاسی جماعتوں کو ان کی جیتی گئی جنرل سیٹوں کے تناسب سے سونپی جاتی ہیں۔ یوں کل ملا کر یہ 33نشستیں بنتی ہیں جو اس خطے کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہیں۔ گلگت بلتستان کی اسمبلی میں حکومت بنانے اور اقتدار کا ہما اپنے سر پر بٹھانے کیلئے مجموعی طور پر کم از کم 17ارکان کی واضح حمایت درکار ہوتی ہے۔ نشستوں کی اس منصفانہ تقسیم کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق جنرل نشستوں کے نتائج حکومت سازی کے پورے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں‘ یعنی اگر کوئی سیاسی جماعت یا مضبوط اتحاد 24 جنرل نشستوں میں سے صرف 13نشستیں اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ مخصوص نشستوں کی متناسب تقسیم کے بعد ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کی مستحکم پوزیشن میں آ جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی ایک جماعت کو عوام کی طرف سے واضح اکثریت حاصل نہ ہو پائے تو دو یا دو سے زیادہ جماعتیں اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک مشترکہ نظریے یا مفاد کے تحت اتحادی حکومت قائم کرتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں یوں کہیے کہ اس 33رکنی ایوان میں جس بھی جماعت یا مختلف جماعتوں کے سیاسی اتحاد کے پاس کم از کم 17 ارکان کی عددی حمایت موجود ہو گی‘ اسے آئینی طور پر حکومت بنانے کا حق حاصل ہو جائے گا‘ جس کے بعد ایوان کے تمام منتخب اراکین کثرتِ رائے سے قائدِ ایوان یعنی وزیراعلیٰ کا انتخاب عمل میں لائیں گے جو بعد ازاں اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے خطے کا نظام چلانے کیلئے اپنی نئی کابینہ تشکیل دے گا۔
گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ دیکھیں تو وفاقی حکومت نے 2009ء میں ”گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر‘‘ کے اقدام کے تحت پہلی بار خطے میں صوبائی طرز کی اسمبلی‘ گورنر کا منصب اور وزارتِ اعلیٰ کا پارلیمانی نظام متعارف کرایا تھا۔یہ خصوصی آئینی و انتظامی درجہ ملنے کے بعد سے اب تک یہ گلگت بلتستان کے چوتھے عام انتخابات ہیں۔ اس خوبصورت خطے پر اب تک ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پاکستان پیپلز پارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کو حکومت کرنے کا موقع ملا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید مہدی شاہ 2009ء کے پہلے عام انتخابات کے نتیجے میں اس خطے کے پہلے منتخب وزیراعلیٰ بنے تھے۔ اس کے بعد جب سیاسی ہواؤں نے رخ بدلا تو 2015ء میں مسلم لیگ (ن) کے حافظ حفیظ الرحمن نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھایا۔ ان دونوں وزرائے اعلیٰ نے کٹھن حالات کے باوجود اپنی پانچ پانچ سالہ آئینی مدت پوری کی اور جمہوری تسلسل کو برقرار رکھا۔ البتہ جب پاکستان تحریک انصاف کے خالد خورشید خان 2020ء کے انتخابات کے نتیجے میں گلگت بلتستان کے تیسرے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو سیاسی منظرنامہ بدلا اوروہ پانچ سالہ مدت پوری نہ کر سکے ۔ انہیں 2023ء میں جعلی ڈگری کیس میں عدالت کی طرف سے نااہل ہونے کے باعث اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ خالد خورشید خان کی اچانک نااہلی نے اس خطے میں ایک عارضی سیاسی بحران کو جنم دیا جس کے بعد پی ٹی آئی کے اندر سے ابھرنے والے ایک فارورڈ بلاک کے سرکردہ رہنما حاجی گلبر خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اشتراک سے مخلوط حکومت تشکیل دی اور نومبر 2025ء تک وزارتِ اعلیٰ کا ہما اپنے سر سجائے رکھا۔ نومبر 2025ء میں اس اسمبلی کی آئینی مدت ختم ہونے اور تحلیل ہونے کے بعد سے اب تک جسٹس (ریٹائرڈ) یار محمد خان نگران وزیراعلیٰ کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور انہی کی نگرانی میں سات جون کو گلگت بلتستان کے چوتھے عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔
گلگت بلتستان انتخابات 2026ء کے تادم تحریر موصول ہونے والے ابتدائی‘ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ کوئی بھی واحد سیاسی پارٹی ایوان میں اتنی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی کہ وہ تن تنہا حکومت قائم کرنے کا دعویٰ کر سکے۔ اقتدار کی اس مسند تک پہنچنے کیلئے اب ہر جیتنے والی جماعت کی یہ مجبوری بن چکی ہے کہ وہ یا تو دیگر حریف جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرے یا پھر انتخابی دنگل میں آزاد حیثیت سے جیتنے والے مہروں کو بھاری مراعات کے عوض اپنے ساتھ ملانے کی تگ و دو کرے۔ اب تک کے موصول ہونے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق ان 24جنرل نشستوں میں سے 10 نشستیں اپنے نام کر کے پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی اکثریتی قوت بن کر ابھری ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) بہت پیچھے ہے‘ تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلزپارٹی کو گلگت بلتستان میں اکثریتی پارٹی بننے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ پانچ نشستوں پر آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا ہے‘ جس نے پورے انتخابی نقشے کو سنسنی خیز بنا دیا ہے۔ اگرچہ حتمی سرکاری نتائج کے باقاعدہ جاری ہونے تک ان اعداد و شمار میں معمولی ردو بدل یا تکنیکی تبدیلی کی گنجائش کو رد نہیں کیا جا سکتا مگر یہ بات اب طے ہو چکی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے اس الیکشن میں سب سے بڑی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔اگر آزاد امیدوار اپنا وزن پیپلزپارٹی کے پلڑے میں ڈالتے ہیں تو وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو گی۔ البتہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو حکومت بنانے کیلئے جوڑ توڑ کی ضرورت ہوگی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ جس مصلحت آمیز انداز میں وفاق کے اندر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی مل کر حکومت کر رہی ہیں‘ بالکل اسی طرز اور مفاہمت پر گلگت بلتستان میں بھی حکومت سازی کا کوئی درمیانی اور قابلِ قبول فارمولا طے پا سکتا ہے۔ لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے موجودہ الیکشن ہوں یا اس سے قبل فروری 2024ء میں ہونے والے ملک کے عام قومی انتخابات‘ کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔گلگت بلتستان میں کل 400 سے زائد امیدواروں میں 272 امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن میں شامل تھے‘ کامیابی کے لحاظ سے آزاد امیدوار دوسری پوزیشن پر آ رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ ووٹرز نے سیاسی جماعتوں کے بجائے بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں پر اعتماد کیا ہے۔یہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کیلئے لمحہ فکریہ سے کم نہیں ۔ بالخصوص وہ جماعتیں جو ماضی میں بھاری اکثریت یا دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی دعویدار ہیں۔ آخر وہ اپنے روایتی ووٹ بینک کو بچانے اور عوام کا اعتماد بحال رکھنے میں اس قدر ناکام کیوں رہی ہیں؟
Load/Hide Comments

