بالآخر سٹوڈنٹ یونین کا الیکشن ہو گیا

حافظ محمد ادریس
جامعہ پنجاب سٹوڈنٹس یونین کے اس الیکشن میں جہانگیر بدر اور ان کے ساتھیوں کو امید تھی کہ ہیلے کالج اور لاء کالج‘ جہاں اس وقت وہ خود طالب علم ہیں اور نیو کیمپس‘ جہاں کے سارے لیڈر ان کی پشت پر ہیں‘ وہ بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔ ان کا یہ زعم غلط ثابت ہوا۔ لاء کالج میں ہم نے پہلی بار اتنی بھاری اکثریت حاصل کی کہ اس سے قبل اس کالج سے جمعیت کو اس قدر اکثریت یونین کی پوری تاریخ میں کبھی حاصل نہ ہوئی تھی۔ نیوکیمپس میں بھی نیو کیمپس کے نام نہاد لیڈروں کی ملی بھگت کے باوجود مجموعی طور پر ہم نے زیادہ ووٹ لیے۔ البتہ ہیلے کالج میں ہمیں بہت ہی کم ووٹ ملے حالانکہ اس سے قبل ہیلے کالج ہی ہمیں جتوایا کرتا تھا۔ ہیلے کالج ہاسٹل میں مقیم طلبہ کی تعداد کچھ زیادہ نہ تھی۔ یوں سمجھیں کہ وہ آٹے میں نمک کے برابر تھے‘ مگر ان بورڈرز کی اکثریت بہرحال ہمارے ساتھ تھی کیونکہ وہ میری کامیابی سے اتنے خوش تھے کہ نتائج کا اعلان ہونے کے بعد ہیلے کالج کے دونوں ہاسٹلز میں رات بھر چراغاں کیا جاتا رہا۔ ”پاوا پارٹی‘‘ کا کالج میں تو بڑا زور تھا مگر ہاسٹل میں اُس سال ان کی دال نہیں گلی۔
ہر مہم کے دوران ہمارے ساتھی جان مار کر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے تھے۔ اس انتخابی مہم میں مجھے محسوس ہوا کہ پہلے والی تمام مہمات کے مقابلے میں اس مہم میں ارکان و کارکنان کا جوش وجذبہ سوا تھا۔ ایک بزرگ مجھے بہت یاد آتے تھے اور بعض اوقات میں ان کے الفاظ استعمال کر کے اپنے ساتھیوں کے حوصلے مزید بڑھانے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ یہ بزرگ بہاولپور سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا نام چودھری ثناء اللہ تھا۔ میں لاہور جمعیت کا ناظم تھا اور وولنر ہاسٹل اورینٹل کالج‘ اولڈ کیمپس میں مقیم تھا۔ بہت سے لوگ جن میں کئی بزرگ بھی ہوتے تھے‘ مجھ سے ملنے کے لیے میرے پاس تشریف لایا کرتے تھے۔ ایک روز ہاسٹل میں میرے پاس ایک بزرگ آئے اور اپنا تعارف کرایا کہ میرا نام ثناء اللہ ہے اور میں بہاولپور سے آیا ہوں‘ میرا بیٹا محمد اکرم آپ کا کلاس فیلو ہے۔ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ اکرم میرا بہت اچھا دوست ہے مگر وہ چونکہ ہاسٹل میں نہیں رہتا اس لیے معلوم نہیں کہ اس وقت وہ کہاں ہو گا۔ پھر پوچھنے لگے کہ آپ جمعیت کے ناظم ہیں۔ میں نے ہاں میں جواب دیا‘ تو پھر ان کے اگلے سوال یہ تھے: جمعیت کے ارکان کتنے ہیں؟ رفقا کتنے ہیں؟ کارکن اور حامی کتنے ہیں؟ میں نے سب کا جواب دیا تو آخر میں انہوں نے پوچھا کہ ان میں دیوانے کتنے ہیں؟ یہ سن کر میری ہنسی نکل گئی اور میں نے کہا: دیوانے تو کم ہی ہیں اور وہ ہمیشہ کم ہی ہوتے ہیں۔ کہنے لگے: دیوانوں کی تعداد بڑھاؤ‘ دیوانوں کے بغیر مشکل گھاٹیاں سر نہیں ہو سکتیں۔ واقعتاً چودھری صاحب کی اس بات میں بڑا وزن تھا۔ اب الیکشن میں مَیں نے دیکھا کہ کارکنان میں وہ دیوانگی نظر آ رہی تھی جس کی طرف بزرگ موصوف نے اشارہ کیا تھا۔ چودھری صاحب کے بیٹے محمد اکرم میرے کلاس فیلو تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے میرے ساتھ ایم اے عربی کرنے کے بعد انہوں نے پی ایچ ڈی اور نجانے مزید کیا کیا ڈگریاں حاصل کیں۔ ایک کامیاب استاد کے طور پر انہوں نے سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں اور مختلف یونیورسٹیوں میں اپنے تحقیقی وعلمی فرائض ادا کیے۔
الیکشن کے موضوع پر ہم بات کر رہے تھے۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق الیکشن 26 جنوری 1970ء کو ہوا۔ الیکشن کے دوران ایک ہی گھنٹہ کے بعد معلوم ہوا کہ بیلٹ پیپروں میں سیکرٹری شپ کے امیدواروں کے ناموں میں گڑبڑ ہے۔ یہ گڑبڑ دانستہ طور پر کی گئی تھی۔ پتا نہیں گڑبڑ کرنے والوں کے پیش نظر کیا تھا۔ ہوا یوں کہ جہانگیر بدر کے گروپ میں سیکرٹری کے امیدوار جمیل اختر کا نام بعض بیلٹ پیپروں میں چھپا ہوا نہیں تھا۔ اگر سارے ہی بیلٹ پیپروں میں یہ صورت ہوتی تو معاملہ دوسرا تھا مگر یہ کیونکر ممکن ہوا کہ آدھے پولنگ سٹیشنوں پر جو بیلٹ پیپر آئے ان میں یہ نام موجود تھا اور دیگر کئی جگہوں پر غائب تھا۔ جونہی یہ راز کھلا‘ میں نے دوستوں سے کہا کہ یہ سازش ہے لیکن آؤ! ابھی سے مخالف گروپ اور انتظامیہ سے بات کر لیں۔ چنانچہ فوراً اس موضوع پر بات کی گئی۔ انتظامیہ اور حزبِ مخالف‘ دونوں نے اتفاق کیا کہ باقی پوسٹوں کا انتخاب مکمل کر لیا جائے‘ سیکرٹری کا انتخاب الگ سے بعد میں ہو جائے گا۔
اس گفت وشنید کے باوجود تھوڑی دیر بعد نیو کیمپس میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور اغوا کی کوشش کی گئی مگر خدا کے فضل اور اپنے ساتھیوں کی بہادری سے یہ مجرمانہ حربہ ناکام ہوا۔ بعد دوپہر اولڈ کیمپس میں دوبارہ مجھ پر حملہ ہوا مگر یہاں پر بھی کارکنوں نے مخالفین کو مار بھگایا۔ البتہ ہیلے کالج میں جب ہم گئے تو ہمارے بعض ساتھیوں کو مار کھا کر وہاں سے نکلنا پڑا۔ خود میرے ساتھ بھی بدتمیزی کرتے ہوئے ایک جتھے نے اچانک حملہ کیا اور میری نکٹائی پکڑ کر میرا گلا گھونٹنے کی کوشش کی مگر میں نے مزاحمت کر کے نکٹائی چھڑا لی‘ پھر ہمارے ساتھیوں نے نہایت بہادری سے مخالفین کے گھیرے کو توڑا اور دھینگا مشتی کرتے ہوئے مجھے بخیریت کالج کیمپس سے باہر لے آئے۔ ہیلے کالج میں ہمارے جانے کے نتیجے میں مقامی کارکنوں اور ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو بڑا حوصلہ ہوا جو صبح سے خوفزدہ اور ہراساں تھے۔ اس روز ہم نے ہر پولنگ سٹیشن کا دورہ کیا۔ انتخابی رولز کے مطابق امیدوار کو ہر پولنگ سٹیشن پر اندر جا کر صورت حال کا جائزہ لینے کی اجازت تھی۔
بیلٹ پیپروں میں اس غلطی کے بارے میں میرا تجزیہ اس وقت بھی یہ تھا اور آج تک مجھے یہی تجزیہ درست معلوم ہوتا ہے۔ شعبہ امورِ طلبہ میں کوئی فرد یا کچھ افراد ایسے تھے‘ جو ہمارے خلاف سرگرم عمل تھے۔ عام صورت حال کے پیش نظر مخالفین یہ سمجھتے تھے کہ صدارت کے امیدواروں میں مقابلہ سخت ہے اور یہ بات درست تھی‘ تاہم سیکرٹری کے انتخاب میں حفیظ خان کی پوزیشن خاصی مضبوط تھی۔ اعظم ملک (ہیلے کالج) جو ابتدا میں سیکرٹری شپ کے امیدوار تھے‘ میری درخواست پر حفیظ خان کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے۔ موصوف میرے بہت اچھے دوست تھے۔ ان کے دستبردار ہو جانے کے بعد یہ بات بالکل یقینی تھی کہ حفیظ خان جیت جائے گا۔ حفیظ خان نہایت نفیس‘ قابل اور انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھنے والا ہر دلعزیز طالب علم تھا۔ مخالف امیدوار جمیل اختر کا نام بعض بیلٹ پیپروں میں سے غائب کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ایک تو اس طرح اس کے لیے عام طلبہ برادری کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں گی۔ دوسرے اگر جہانگیر بدر کامیاب ہو گئے تو ان کی کامیابی کے زور سے جمیل اختر کو بھی ضمنی الیکشن میں کامیاب کرا لیا جائے گا۔ اور اگر وہ ناکام ہو گئے تو یہ عذر ہنگامہ کھڑا کرنے کے لیے کافی ہو گا کہ جمیل اختر کا نام کیوں غائب ہوا۔
الیکشن کے دوران ہیلے کالج میں جو مار دھاڑ اور غنڈہ گردی ہوئی اس کی کوئی مثال کسی تعلیمی ادارے کے انتخابات میں نہیں ملتی۔ اس سب کے باوجود شام کو جب نتائج آنا شروع ہوئے تو مجموعی طور پر ہمارا پلہ بھاری تھا۔ جہانگیر بدر کے پرانے مادرِ علمی (ہیلے کالج) سے انہیں بھاری اکثریت مل رہی تھی مگر موصوف کے نئے کالج (لاء کالج) کے تمام چھ پولنگ سٹیشنوں پر جمعیت نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ میرے اپنے شعبے (اسلامیات) میں کُل (غالباً) 152ووٹ پڑے‘ ان میں سے محض تین ووٹ جہانگیر بدر کو ملے جبکہ ایک ووٹ مسترد ہوا۔ گویا مجھے 148 ووٹ ملے تھے۔ شعبے کے طلبہ وطالبات نے الیکشن میں اس طرح کام کیا تھا گویا وہ خود الیکشن لڑ رہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں