زبانِ ترش کا مقصد بھی کچھ ہو

ایاز امیر
ہمسائے ہمارے چار ہیں لیکن بڑے ہمسائے دو ہی ہیں: ہندوستان اور افغانستان۔ دونوں سے معاملات خراب ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جاتا کہ مزید خراب نہ ہوں۔ہمسایوں میں ہونا تو یہ چاہیے کہ مسئلے مسائل ہوں بھی تو کوشش ہو کہ حالات میں بہتری آئے۔ بھاری الفاظ اور الجھا ہوا لہجہ استعمال میں نہ لائیں۔ لیکن کچھ عادت سی بن گئی ہے کہ جہاں نرم لہجے سے بھی کام چل جائے وہاں بھاری لہجے کا استعمال ہی ہوتا ہے۔ کسی کو کون سمجھائے کہ جہاں بہت کچھ تبدیل ہو سکتا ہے جغرافیہ نہیں ہو سکتا۔ ہم لاکھ نہ چاہیں بھی تو جب تک دنیا ہے ہندوستان اور افغانستان ہمارے ہمسائے رہیں گے۔ مسائل جیسے بھی ہوں اُن کی وجہ جو بھی ہو عقل مندی کا تقاضا ہے کہ پُرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت ان سے تعلقات استوار کیے جائیں۔
اتنی بات کہی نہیں کہ ناقدین کے پستول نکل آنے ہیں کہ کیا بکواس کر رہے ہو۔ افغانستان سے دہشت گردی آ رہی ہے اور جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے وہ تو ازلی دشمن ہے۔ دونوں باتیں درست لیکن ہمارا مفاد پھر بھی بقائے باہمی میں ہے۔ ہمسایوں سے الجھنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں‘ قومی توانائیاں بکھرتی ہیں‘ قومی دھیان بکھر جاتا ہے۔ افغانستان سے جو دہشت گردی آ رہی ہے دیکھا جائے تو وہ ہمارے فلسفۂ جہاد کی پیداوار ہے۔ افغانستان میں ہمارے اکابرین سٹریٹجک گہرائی تلاش کرنے نہ نکلتے تو مغربی سرحد پر جو سارا جھمیلا کھڑا ہوا اور جس کی تپش اب ہماری طرف آ رہی ہے پیدا نہ ہوتا۔ تب ہمارے سٹریٹجک دانشوروں کی آنکھیں بند رہیں آج مسئلہ محسوس کر رہے ہیں۔ اس دہشت گردی کا سامنا دیرپا حکمتِ عملی کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے‘ اس کا کوئی فوری حل نہیں۔ اِکا دُکا فضائی بمباری سے مسئلہ حل ہوتا تو امریکہ نے تو ایران پر اِکا دُکا بمباری نہیں کی ہزاروں فضائی حملے کیے لیکن ایران پھر بھی امریکہ کے تابع خواہش نہیں ہوا۔ طالبان جنہوں نے امریکہ کا 17سال مقابلہ کیا کیا وہ ہماری دو تین یا چار بمباریوں سے تائب ہو جائیں گے؟ وہ گوریلا جنگ کے ماہر ہیں اور وہی طریقہ ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ کتنے میزائل ان پر داغے جا سکتے ہیں؟ لہٰذا کچھ سوچ بچار کی ضرورت ہے کہ طالبان کے حوالے سے کیسی حکمت عملی اپنائی جائے۔ سخت رویے اپنائے گئے لیکن ان کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ اس لیے شاید تھوڑی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
ہندوستان کے حوالے سے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ ہمارا ازلی دشمن ہے پھر بھی ہمارے مفاد میں ہے کہ ازلی دشمنی کی شدت کو کم کیا جائے۔ ہندوستان دشمنی ایک نعرہ تو ہے‘ بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان دشمنی ہندوستان میں سیاسی حوالے سے ایک نعرے کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن پاکستان کا مفاد تو اس میں نہیں ہے کہ دائمی دشمنی قائم رہے۔ جس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارا دفاع کمزور ہو‘ بالکل نہیں‘ دفاع مضبوط رہے افواج چوکنا رہیں‘ لیکن ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں سفیروں کا نہ ہونا‘ تجارت بند ہو جانی‘ آنا جانا تقریباً رک جانا‘ ہندوستان کے فائدے میں یہ بات ہو سکتی ہے پاکستان کے فائدے میں ہرگز نہیں۔ لہٰذا جہاں سفارتکاری کے اتنے جوہر دیگر مقامات پر دکھائے گئے ہیں کچھ جوہرِ سفارتکاری مشرقی سمت کی طرف بھی روا رکھا جائے تاکہ اس فضول کی کشیدگی میں کچھ تو کمی آئے۔ لڑاکا طیارے اور ٹینک اور میزائل بالکل تیار رہیں لیکن کھنچے ہوئے حالات میں کچھ کمی آئے۔ ممالک میں مسائل رہتے ہیں لیکن سلسلۂ تعلقات ختم نہیں ہوتا۔ عجیب کیفیت ہے کہ یہاں بات بات پر جذبات کا پارا چڑھ جاتا ہے۔ ہندوستان کی حکمران جماعت کا وتیرہ ہے پاکستان کو برا بھلا کہنا‘ انہیں ایسا کرنے دیں۔ پاکستان کے نام پر ان کے ٹی وی اینکروں کے منہ سے جھاگ نکلتی ہے تو ایسا ہوتا رہے۔ ایسے مناظر دیکھ کر کچھ مزہ لیا جائے۔ اپنا رویہ تو میچور رہے۔ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سرحد کے اُس پار ہر اُوٹ پٹانگ کے بیان کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر لایعنی کا جواب سخت الفاظ سے دیا جائے تو اپنا قد بڑھ نہیں جاتا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جہاں فوجی طاقت کا استعمال ضروری ہو وہاں اسے بروئے کار لانا چاہیے۔ لیکن ہمارا اپنا تجربہ اتنا تو بتاتا ہے کہ جہاں مسائل گمبھیر اور الجھے ہوئے ہوں وہاں محض عسکری ذریعوں سے کام نہیں چلتا۔ یہ ٹی ٹی پی والا مسئلہ ایسا ہی ایک الجھا ہوا مسئلہ ہے اور اس کے حل کیلئے ایک بڑی جامع اور مفصل حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی حکمت عملی کے مرتب ہونے پر بھی غور کیا جائے۔ فی الوقت تو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے وسیع علاقوں میں صورتحال گمبھیر ہے اور اس کے ساتھ بلوچستان کی صورتحال بھی ویسی ہی ہے۔ ہرگز یہ استدعا نہیں کہ ہماری وجہ سے یہ سارے محاذ کھلے ہیں۔ لیکن اتنے محاذوں کا بیک وقت کھلنا‘ چاہے وجوہات جو بھی ہوں‘ ریاستِ پاکستان کیلئے اچھا تو نہیں۔ کب سے ہماری فورسز سرحدوں اور متاثرہ علاقوں میں ڈپلائے ہیں۔ شہادتیں روزمرہ کی خبریں بن رہی ہیں اور فی الحال حالات کی سنگینی میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ پھر جو اَب آزاد کشمیر میں معاملات پیدا ہوئے ہیں‘ ان پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ ان سارے معاملات میں سیاسی سوچ کو آگے لانے کی ضرورت ہے۔
ریاستِ پاکستان کوئی کمزور ریاست نہیں۔ ہمارے معاشی اور سماجی مسائل ہوں گے لیکن دفاعی ادارے دفاعِ وطن کے تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت بھرپور انداز میں رکھتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے‘ مسئلہ یہ ہے کہ دفاعی طاقت تو نپولین اور ہٹلر کی بھی بہت تھی۔ لیکن سیاسی سوچ کی کمی واقع ہوئی‘ اہداف تعین کرنے میں غلطی ہوئی۔ اندازہ نہ لگایا جا سکاکہ کیا کر سکتے ہیں اور کیا کرنا اُن کیلئے ممکن نہیں۔ امریکہ کے پاس کوئی طاقت کی کمی ہے؟ لیکن ملاحظہ ہو کہ کیسے ایران جنگ میں جاکر پھنس گیا۔ اہداف اپنے لیے کچھ زیادہ ہی متعین کر لیے۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجود ایک بھی ہدف پورا نہ ہوا اور اب اس جنگ سے فرار ہونے کیلئے صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں کی بے قراری تو دیکھی جائے۔ امریکہ بڑا ملک ہے اس کے جھمیلے بھی بڑے ہیں۔ ہمارے وسائل اور صلاحیتیں محدود ہیں لیکن اپنے سے بڑے جھمیلوں کا سامنا ہے۔ دانش کا اب کچھ سہارا لیا جائے۔
یہ خیال بھی رہے کہ پچھلے سال پاکستان پر حملہ کرکے ہندوستان نے غلطی کی تھی۔ طیاروں کی کارکردگی سے زیادہ ہندوستان کی سوچ مار کھا گئی کہ آسانی سے پاکستان پر فوجی برتری حاصل کر لی جائے گی۔ دوبارہ براہِ راست حملے کی غلطی شاید نہ ہو۔ ہندوستان کی حکمت عملی بالواسطہ ہو گی جیسا کہ پانی کے مسئلے پر عندیہ مل رہا ہے۔ وہ کیا ان کے کسی وزیر نے کہا کہ پانی کی ایک بوند پاکستان کو نہیں جانے دیں گے۔ اس زاویے پر نظر رکھنی چاہیے۔ ہندوستان نے اتنے ڈیم بنائے ہیں ہمارے ڈیم کہاں ہیں؟ ایک نیلم جہلم ڈیم پر ہاتھ رکھا تھا اور اس کا بھی جو ہم سے کھلواڑ ہوا وہ ایک الگ کہانی ہے۔ کسی کی کوئی جوابدہی ہوئی کوئی احتساب؟ بہرحال سامانِ حرب تو ہمارا ہے ہی لیکن جنگی مستعدی کے کئی زاویے سمجھے جاتے ہیں۔ سامانِ حرب کے ساتھ معاشی استقامت ہو جو کہ ریاستِ پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں