شہناز احد
گزشتہ سال گرمیوں کی ایک ایسی ہی نرم گرم شام میں جب ہم سب نمک کی طرح پگھلے جا رہے تھے اور چائے کے گھونٹ لیتے ہوئے ایک ایسے واقعے پر خود ماتمی کیفیت میں تھے جس میں ہم سب چاہتے ہوئے بھی کچھ کر نہ پائے تھے اور اس بچی کو سراہ رہے تھے جس کے ساتھ اس کے سینئر نے انتہائی بدکرداری اور بد اخلاقی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اس دن بھی گفتگو کے اختتام پر ہم سب نے اس بچی کے اہل خانہ کو سیلوٹ کیا جو اپنی جان جگر کے لئے عدالتوں کے چکر لگا رہے تھے۔ ان عدالتوں میں جہاں شرفا اور حقداروں کو صرف تاریخیں ملتی ہیں۔
اس دن کی نشست کے اختتام پر ہمارے مجسم انسانی خدمت سے بھرے دوست نے جاتے جاتے کہا آپ کو آج کی ایک اور دل سوز خبر بھی سنا دیتا ہوں۔ ”میں ہاؤس میں کام کر رہا تھا کہ دروازے پر ایک بچی نمودار ہوئی۔ وہ برقع میں اس حد تک ملفوف تھی کہ چہرے پر صرف آنکھیں اور ناک کا کچھ حصہ نظر آ رہا تھا، میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا، اس کی گھبراہٹ کم کرنے کے لئے چائے پانی کا پوچھا، بنا نظر اٹھائے مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میز پے رکھا اس کا ہاتھ کانپ رہا ہے، اس کی پریشانی کو مزید کم کرنے کے لئے میں نے برابر کے کمرے میں کام کرتی خاتون کو آواز دی اور اس کی آمد پر بچی سے کہا اگر آپ کو مجھ سے بات کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ ہے تو آپ ان سے کہے سکتی ہیں، ہم دونوں اس جگہ کام کرتے ہیں۔ میرے جملے کے اختتام پر بچی نے گہری سانس لیتے ہوئے بولنا شروع کیا تو ہم دونوں سانس روکے سنتے رہے۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اس کا انتخاب صوبے کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری نوکری کے لئے ہوا اور جب وہ ان کے بلاوے پر نوکری لگ جانے کا پروانہ لینے متعلقہ افسر کے پاس گئی تو اس نے فرمائش کی کہ اسے عورتوں کے گردن سے نیچے کے جسمانی اعضاء بہت اچھے لگتے ہیں۔ وہ گھر جائے اپنے موبائل سے بنا ملبوس کے تصویر بنائے اور اسے بھیج دے، اس کا تقرری نامہ گھر پہنچ جائے گا ”۔ اس تازہ واردات کو سننے کے بعد ہم سب نے کہا مل کے چلتے ہیں اور اس افسر کی بینڈ بجاتے ہیں۔ ہم سب نے دماغ کے سارے گھوڑے دوڑائے، اچھے برے تمام اثرات، مضمرات کا تجزیہ کیا، جتنا لفظی ماتم کر سکتے تھے وہ کیا اور گاہے بگاہے کرتے رہتے ہیں۔
دو دن پہلے اس موسم گرما کی ویسی ہی نرم گرم شام میں جب نمک کی طرح پگھلنے کا عمل جاری تھا، ایک اور ادارے کے والنٹیئرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انکشاف ہوا کہ آرگنائزیشن کے کچھ معاملات کے سلسلے میں جو والنٹیئر حکومت سندھ کے متعلقہ ادارے میں گیا تھا۔ ”اس کے ڈائریکٹر نے فرمائش کی ہے کہ ہم کوئی کام wine and women کے بغیر نہیں کرتے۔ اس میں اگر پیسہ بھی شامل ہو جائے تو کیا ہی کہنے ہیں۔ انھوں نے ایک اور خواہش کا بھی اظہار کیا جس کا تذکرہ فی الوقت مناسب نہیں“ ۔
اس بار میرا دل نہ تو لفظی ماتم کرنے کو چاہا، نہ ہی آنسو بہانے کو، لگتا ہے میرا من کوٹری بیراج کے نیچے میلوں میل پھیلی ریت جیسا ہو گیا ہے اور مجھے تلاش ہے ایک عدد تیزاب کی بوتل کی، میں چھڑکاؤ کروں اس گردن سے نچلے حصوں کی چاہت رکھنے والے پر، اس women and wine کے دلدادہ پر، نرسوں، ڈاکٹروں، مریضوں، صفائی کرنے والی عورتوں، تعلیم کے حصول کے لئے گھر سے دور مختلف اقامت گاہوں میں مقیم بچیوں کو خوفزدہ کرنے والوں پر، نوکریوں کا جھانسا دے کے بے آبرو کرنے والوں پر، مذہب کے نام پے مسجدوں، مدرسوں اور ایسے ہی دیگر اداروں میں آباد ٹھیکیداروں پر، حفاظت اور قانون کی پاسداری کے نام پے پلنے والوں پر، قانون ساز اداروں کے ٹھنڈے بند کمروں میں بیٹھی زندہ لاشوں پر، جن کی نظروں پے چڑھی مفادات کی عینک انھیں کچھ دیکھنے نہیں دیتی، جنھیں زر، زمین اور زن کے علاوہ کچھ سجھائی نہیں دیتا میری ذہنی کیفیت بند گلی میں مقید ایک zombie جیسی ہو گئی ہے۔ جس کے دماغ میں سوچوں کا سونامی آیا ہوا ہے، لہریں تو بہت ہیں باہر نہیں آ رہیں، لہروں کے اوپر مجھے اخلاقیات، سماجیات، روحانیات، شرم حیا، اقدار، سب کی لاشیں نظر آ رہی ہیں۔ چلتی، پھرتی، ہنستی، روتی، ڈھکی، چھپی، ننگی، کھڑی، بیٹھی، ناچتی، گاتی۔ ایک دوسرے کا گوشت نوچتی، دھکے دیتی، زندہ بدبو دار لاشیں۔

