زلف و رخسار

قادربخش بلوچ
تاریخ کی سر گوشیوں میں بینھی بینھی خوشبوؤں کی وہ مہک جو افسردہ یا یوں کہیئے کہ اداس دلوں کو دوبارہ پرکیف بہاروں میں آزادانہ آڑان کی پنکھ فراہم کرتی ہیں۔تو بنا توقف کے زرا سا تاریخ کے صفحات میں کھو جائیے۔۔
چلیں جی بھر کے۔۔۔
۔۔زلف و رخسار۔کے شہر بیروت۔
کئی طاقتوروں کے قبضے میں رہا ھے۔۔جس میں فرانس۔یونان۔ایران۔۔مذکورہ خطے کی تاریخ بڑی پر لطف ھے۔بیروتی۔نازنینوں کو اکاشی پریوں کا خطاب دیا گیا تھا۔تاریخ دھیرے سے اپنی سرگوشیوں میں رازدارانہ انداز میں بتاتی ھے۔کہ بیروتی۔حسن۔۔نازنین۔۔اور ان کی کافرانہ۔اور بے رحمانہ قاتل۔اداہیں۔۔یہ در اصل۔بیروت۔اور فرانسیسیوں کی شبھ بھری راتریوں۔کی ملاپ کی حسین امتزاج ہیں۔ اور پورا خطہ ان حسینوں کی حسن پر نازاں تھا۔۔
تاریخ بتاتی ھے کہ یہ سلسلہ۔ستر کے عشرے تک جاری رہا۔
اور زلف ورخسار کے شیدائی زلفوں کے حسار میں قید ہونے کے لئے بیروت۔کا رخ کرتے تھے۔اور وہاں یہ اکاشی پریاں جب۔۔فرانسیسی۔۔خمر۔۔کو فرانس کے بنے ہوئے۔پر لطف پیمانے میں۔بھرتے۔۔اور۔۔خمر۔اور پیمانے۔کے ملاپ۔سے جو۔گاہل۔کرنے والی اواز ابھرتی۔وہ مدہوش کرنے کے لیے کافی ہوتی تھی۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں