استاد، شاعر اور گولی

عزیز سنگھور

بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں، ریگزاروں اور محرومیوں سے بھرے شہروں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بندوق نہیں اٹھاتے، مگر ان کے لفظ پورے عہد کے دکھ کو اپنے اندر سمیٹے ہوتے ہیں۔ وہ سیاست کے ایوانوں میں نہیں بیٹھتے، مگر ان کی تحریریں قوموں کی یادداشت بن جاتی ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک نام پروفیسر غمخوار حیات کا تھا، جو اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ نوشکی کے علاقے کلی مینگل ایریا میں ان کا قتل کیا گیا۔
براہوئی زبان کے معروف شاعر، ادیب، مترجم، افسانہ نگار اور دانشور غمخوار حیات کی زندگی علم، ادب اور ثقافت کے نام تھی۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے شورش، خوف اور مسلسل غیر یقینی کے ماحول میں بھی قلم کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔ انہوں نے بیس کتابیں تصنیف کیں، مختلف اصنافِ ادب میں لکھا، نئی نسل کو زبان اور تاریخ سے جوڑنے کی کوشش کی اور براہوئی ادب کو صرف ایک علاقائی اظہار کے بجائے ایک فکری تحریک بنانے میں کردار ادا کیا۔
غمخوار حیات صرف کتابیں لکھنے والے شخص نہیں تھے، بلکہ وہ ایک پورا ادبی ادارہ تھے۔ راسکوہ ادبی دیوان اور اوتان کلچر اکیڈمی جیسے پلیٹ فارمز کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ادب کو صرف ذاتی اظہار نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی تعمیر سمجھتے تھے۔ گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے وہ نوجوان نسل کو تعلیم دے رہے تھے، مگر درحقیقت وہ انہیں صرف نصاب نہیں بلکہ شناخت، تاریخ اور شعور بھی منتقل کر رہے تھے۔
معاشرے میں جہاں جنگ، خوف، غربت اور محرومی روزمرہ زندگی کا حصہ ہوں، وہاں کتاب اٹھانے والا شخص دراصل پورے سماج کو تاریکی سے نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ غمخوار حیات بھی انہی لوگوں میں شامل تھے۔
ان کے قتل کی خبر پھیلتے ہی بلوچستان بھر میں غم اور غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ سیاسی و سماجی حلقوں، ادیبوں، شاعروں اور عام قارئین نے اسے براہوئی ادب کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔ لوگ صرف ایک فرد کی موت پر افسردہ نہیں تھے بلکہ اس خوفناک حقیقت پر بھی پریشان تھے کہ بلوچستان میں اب لفظ بھی محفوظ نہیں رہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بلوچستان پہلے ہی عدم تحفظ، جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور مسلسل تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ چند دن قبل گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور دیگر ملازمین کے مبینہ اغوا نے تعلیمی حلقوں میں خوف کی ایک نئی فضا پیدا کردی تھی۔ اس صورتحال پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ، دانشوروں اور ماہرینِ تعلیم کو تحفظ فراہم کرنے میں ریاست کی ناکامی پورے معاشرے کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

جب ایک استاد کو قتل کیا جاتا ہے تو دراصل ایک کلاس روم خاموش ہوجاتا ہے، ایک زبان کمزور پڑجاتی ہے اور ایک نسل خوفزدہ ہوجاتی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ اور سمی دین بلوچ نے بھی غمخوار حیات کے قتل پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ براہوئی زبان کو زندہ رکھنے کے لیے غمخوار حیات جیسے ادیبوں نے اجتماعی جدوجہد کی۔ یونیسکو برسوں پہلے براہوئی کو معدومیت کے خطرے سے دوچار زبانوں میں شمار کرچکا ہے، اور ایسے میں ان ادیبوں کا قتل صرف افراد کا قتل نہیں بلکہ زبانوں اور تہذیبوں کے خلاف جنگ ہے۔

یہ بات صرف جذباتی بیان نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ دنیا کی بہت سی زبانیں بندوق سے نہیں بلکہ خوف کے ماحول میں خاموش ہوئیں۔ جب شاعر مارے جاتے ہیں، جب استاد اغوا ہوتے ہیں، جب ادیبوں کو دھمکیاں ملتی ہیں، تو سب سے پہلے لفظ مرنے لگتے ہیں۔ اور جب لفظ مر جائیں تو پھر معاشرے صرف جغرافیہ رہ جاتے ہیں، تہذیب نہیں۔
غمخوار حیات کی تحریروں میں بلوچستان کا درد بھی تھا اور اس کی خوبصورتی بھی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ زبان صرف بولنے کا وسیلہ نہیں بلکہ پوری تاریخ، یادداشت اور ثقافت کا خزانہ ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے براہوئی زبان میں لکھنا جاری رکھا، حالانکہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ ایسی زبانوں میں لکھنے والے ادیبوں کو نہ ریاستی سرپرستی ملتی ہے اور نہ ہی بڑے ادبی اداروں کی توجہ حاصل ہے۔
بلوچستان میں ادیب ہونا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ یہاں قلم کار اکثر دوہری جنگ لڑتے ہیں: ایک غربت اور محرومی کے خلاف، اور دوسری خوف کے خلاف۔ اس کے باوجود غمخوار حیات جیسے لوگ لکھتے رہے، پڑھاتے رہے اور نوجوانوں کو یہ یقین دلاتے رہے کہ زبانیں صرف کتابوں میں نہیں بلکہ زندہ انسانوں کے شعور میں زندہ رہتی ہیں۔
ان کا قتل ہمیں یہ سوال پوچھنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر بلوچستان میں علم و دانش کی آوازیں کیوں مسلسل خاموش کی جارہی ہیں؟ کیوں یونیورسٹیاں خوف زدہ ہیں؟ کیوں استاد غیر محفوظ ہیں؟ اور کیوں ایک ایسا خطہ، جو پہلے ہی دہائیوں سے سیاسی بحران کا شکار ہے، اب فکری بحران کی طرف بھی دھکیلا جارہا ہے؟
یہ سانحہ صرف نوشکی یا براہوئی ادب کا مسئلہ نہیں۔ یہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ اگر آج ایک شاعر کے قتل پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل شاید کتابیں بھی جرم بن جائیں۔
غمخوار حیات اب اس دنیا میں نہیں رہے، مگر ان کے لفظ باقی رہیں گے۔ ان کی کتابیں، ان کے شاگرد، ان کے خواب اور براہوئی زبان کے لیے ان کی محبت آنے والی نسلوں کو یہ یاد دلاتی رہے گی کہ تاریکی کے زمانوں میں بھی کچھ لوگ چراغ جلانے کی کوشش کرتے رہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں