رشید عاطف
ایک معصوم بچہ جب ہاتھ میں رنگ برنگے غبارے تھامے کھڑا ہوتا ہے، تو اس کے چہرے کی مسکراہٹ دیدنی ہوتی ہے۔ لیکن ذرا تصور کیجیے، اگر اسی بچے کے دونوں ہاتھوں میں پتھروں سے بھرے بھاری تھیلے تھما دیے جائیں، تو کیا وہ آگے بڑھ پائے گا؟ یقیناً نہیں۔ یہی صورتحال ہماری زندگی کی ہے۔ خوف، حسد، غصہ، نفرت اور پچھتاوا وہ غبارے نہیں ہیں جو ہمیں بلندی پر لے جائیں، بلکہ یہ وہ وزنی غبارے ہیں جو ہماری روح کو زمین سے جکڑ لیتے ہیں اور ہمیں زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں۔
آج کا انسان بظاہر مادی ترقی کی اوجِ ثریا پر ہے، لیکن باطنی طور پر وہ اسی منفی سوچ کے قید خانے میں سسک رہا ہے۔ ہم نے اپنے دلوں کو ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے خوف کا مسکن بنا لیا ہے۔ خوف ہمیں آنے والے کل سے ڈراتا ہے اور پچھتاوا ہمیں گزرے ہوئے کل کی زنجیروں میں جکڑے رکھتا ہے۔ جو گزر گیا، وہ ایک بند کتاب ہے جسے دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا، اس پر کڑھنا وقت اور صلاحیت کا زیاں ہے، جبکہ مستقبل کا خوف انسان کو حال کی خوبصورتی سے محروم کر دیتا ہے۔ سچی خوشی صرف اور صرف “آج” میں جینے سے ملتی ہے۔
دوسری طرف حسد اور نفرت ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ حسد ایک ایسا زہر ہے جسے انسان خود پیتا ہے اور توقع یہ کرتا ہے کہ سامنے والا مر جائے۔ جب ہم کسی کی کامیابی پر کڑھتے ہیں، تو دراصل ہم اپنی ہی صلاحیتوں کی توہین کر رہے ہوتے ہیں۔ نفرت کا غبارہ بھی ایسا ہی ہے یہ جس دل میں رہتا ہے، سب سے پہلے اسی کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ اسی طرح غصہ وہ ماچس کی تیلی ہے جو دوسروں کو نقصان پہنچانے سے پہلے خود کو جلاتی ہے اور اس حالت میں کیے گئے فیصلے ہمیشہ پچھتاوے کی بنیاد بنتے ہیں۔
خوش اور پرسکون زندگی گزارنا کوئی جادو نہیں، بلکہ ایک شعوری فیصلہ ہے۔ اگر آپ ان منفی جذبات کو اپنے دل سے آزاد کرنا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے قبولیت کا مادہ پیدا کریں جو ہو چکا اسے تسلیم کریں اور جو آپ کے بس میں نہیں اس کی فکر چھوڑ دیں۔ اس کے بعد شکر گزاری کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ جو نہیں ملا اس کا ماتم کرنے کے بجائے، جو موجود ہے اس پر شکر ادا کرنا منفی سوچ کا سب سے بہترین تریاق ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کو اور خود کو معاف کرنا سیکھیں، کیونکہ معافی دوسروں پر احسان نہیں، بلکہ اپنے دل کو بوجھ سے آزاد کرنے کا نام ہے۔
یاد رکھیے کہ آپ کا دل ایک خوبصورت گلشن ہونا چاہیے، کوئی کباڑ خانہ نہیں جہاں نفرتوں اور پچھتاووں کا ملبہ جمع ہو۔ زندگی بہت مختصر اور قیمتی ہے۔ ان منفی جذبات کے غباروں کی ڈور کو اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیں اور انہیں ہوا میں اڑ جانے دیں تاکہ آپ کا وجود ہلکا پھلکا ہو سکے۔ جب تک آپ پرانے بوجھ کو الوداع نہیں کہیں گے، تب تک نئی خوشیوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے آپ کے ہاتھ خالی نہیں ہوں گے۔ اپنے دل کو آزاد کیجیے، مسکرائیے اور ایک نئی، مثبت شروعات کے ساتھ آگے بڑھیے۔

