یونیورسٹی آف مکران پنجگور کے دو انمول ہیرے

تحریر: اورنگزیب خالد

کچھ شخصیات صرف اپنے عہدوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اخلاص، قربانیوں اور خدمات کی بدولت لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ اُن کی زندگی اور قربانیاں ایک روشن باب کی مانند ہوتی ہیں، جن سے جینے کا ہنر، منزل کی طرف چلنے، کامیاب ہونے اور مستقل مزاجی کا شعور حاصل کیا جاسکتا ہے۔ دنیا میں ہمیں بے شمار ایسے لوگ ملتے ہیں جن کی زندگیاں صرف اپنی ذات اور اپنے خیالات تک محدود ہوتی ہیں، مگر بہت کم ایسے عظیم انسان ہوتے ہیں جن کا وجود دوسروں کے لیے فائدہ اور امید کا سبب بنتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی ذات میں ایک گوہرِ نایاب اور ایک مکمل کتاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے انسان کسی مسیحا اور ہیرے سے کم نہیں ہوتے۔
یونیورسٹی آف مکران پنجگور کے لیے قربانیاں دینے والوں اور اس ادارے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے والوں کی فہرست یقیناً بہت طویل ہے، جن کی خدمات آج بھی اس ادارے میں شاملِ حال ہیں۔ مگر میں اپنی گفتگو کو دو ایسی مہربان، مخلص اور ملنسار شخصیات تک محدود رکھوں گا جن کی قربانیوں سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا۔ وہ عظیم نام سر آفتاب اسلم صاحب اور سر عطا مہر صاحب ہیں۔
یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے یونیورسٹی آف مکران پنجگور کی خشتِ اول رکھنے اور اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ اُن کی کارکردگی، فرض شناسی اور مخلصانہ خدمات کی بدولت آج یہ ادارہ مثالی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف مکران کے قیام، استحکام اور ترقی میں بنیادی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ آج جامعہ مکران جس مقام پر کھڑی ہے، اُس کے پیچھے اِن مخلص اور محنتی شخصیات کی شب و روز جدوجہد، قربانیاں اور بے لوث خدمات شامل ہیں۔
جامعہ کے ابتدائی دنوں سے لے کر آج تک انہوں نے نہایت خلوص، ذمہ داری اور مستقل مزاجی کے ساتھ ادارے کی بہتری کے لیے کام کیا۔ ایسے حالات میں جب ایک نئے ادارے کو بے شمار مسائل، مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، اُس وقت سر آفتاب اسلم صاحب اور سر عطا مہر صاحب نے نہ صرف ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنی صلاحیتوں، تجربے اور حکمتِ عملی سے یونیورسٹی کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اُن کی انتھک محنت اور ادارے کے ساتھ وابستگی واقعی قابلِ ستائش ہے۔
سر آفتاب اسلم صاحب اپنی نفیس شخصیت، نرم مزاجی، اعلیٰ اخلاق، بردباری اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے ہر دلعزیز مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسے فرض شناس اور مخلص انسان ہیں جو ہمیشہ ادارے اور طلبہ کی بہتری کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ اُن کا شائستہ اندازِ گفتگو، تعاون پر مبنی رویہ اور ہر فرد کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا اُن کی شخصیت کا نمایاں وصف ہے۔ انہوں نے ہمیشہ مسائل کے حل، ادارے کے نظم و ضبط اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کیاہے۔
اسی طرح سر عطا مہر صاحب بھی ایک نہایت باوقار، مہربان، باصلاحیت اور مخلص شخصیت ہیں۔ اُن کی خدمات، محنت اور ادارے کے ساتھ وفاداری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف مکران کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور ہر مرحلے پر اپنی ذمہ داریاں نہایت ایمانداری اور لگن کے ساتھ نبھائیں۔ ان کی سنجیدگی، تحمل اور ادارے کے لیے فکر ہمیشہ دوسروں کے لیے ایک مثال رہی ہے۔
یہ دونوں شخصیات حقیقت میں اُن ستونوں کی مانند ہیں جنہوں نے یونیورسٹی آف مکران کو سنبھالا، اسے ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور ایک بہتر تعلیمی ماحول کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اُن کی قربانیاں، خدمات اور خلوص ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ایسے لوگ کسی بھی ادارے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے آنے والی نسلوں کے لیے روشن راستے متعین کرتے ہیں۔
ہم دل کی گہرائیوں سے سر آفتاب اسلم صاحب اور سر عطا مہر صاحب کی گراں قدر خدمات، قربانیوں اور انتھک محنت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت، خوشیاں اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے تاکہ وہ اسی جذبے، اخلاص اور لگن کے ساتھ علم و تعلیم کی خدمت جاری رکھ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں