تحریر:محمدمظہررشید چودھری (03336963372)
کسی بھی شہر کی ترقی کا اندازہ صرف اس کی سڑکوں، عمارتوں اور سرکاری دفاتر سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ وہاں کے شہریوں کو تفریح، سماجی میل جول اور معیاری عوامی سہولتوں کے کتنے مواقع میسر ہیں۔ جدید دنیا میں فوڈ اسٹریٹس صرف کھانے پینے کی جگہیں نہیں رہیں بلکہ یہ شہری ثقافت، سماجی سرگرمیوں اور مقامی معیشت کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ اوکاڑہ میں زیر تعمیر پہلی فوڈ اسٹریٹ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جو مستقبل میں شہر کی شناخت کا حصہ بن سکتی ہے۔ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے قریب لنک نہر لوئر باری دوآب کے کنارے تعمیر کی جانے والی یہ فوڈ اسٹریٹ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ ایک جانب بہتی ہوئی نہر، دوسری طرف سرسبز درختوں کی قطاریں اور قریب موجود جناح پارک اس منصوبے کو قدرتی حسن سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آنے والا شخص پہلی نظر میں اس مقام کی خوبصورتی اور پْرسکون ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔منصوبے کی مجموعی لاگت آٹھ کروڑ روپے بتائی گئی ہے جبکہ اب تک تقریباً چھ کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تعمیراتی کام اسی فیصد مکمل ہو چکا ہے اور بقیہ سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ اگر کام اسی رفتار سے جاری رہا تو جلد ہی یہ منصوبہ عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔فوڈ اسٹریٹ کے ڈیزائن میں شہری سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اس کے دو داخلی و خارجی راستے ہیں۔ ایک راستہ مین گیٹ جناح پارک اور ریلوے پھاٹک کی طرف کھلتا ہے جبکہ دوسرا ٹینک چوک کے سامنے ڈسٹرکٹ کمپلیکس روڈ پر واقع ہے۔ یہ دونوں راستے شہریوں کو مختلف سمتوں سے آسان رسائی فراہم کرتے ہیں جو کسی بھی عوامی منصوبے کی کامیابی کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔اس منصوبے کا ایک مثبت پہلو اس کی مجموعی تعمیراتی خوبصورتی ہے۔ مختلف سائز کے جستی کیبنز تعمیر کیے گئے ہیں تاکہ مختلف نوعیت کے کاروبار کرنے والوں کو مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ بڑے اور چھوٹے کیبنز کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ منصوبہ سازوں نے مختلف مالی استطاعت رکھنے والے کاروباری افراد کو بھی مدنظر رکھا ہے۔نہر کے کنارے نصب جدید شیڈز، بنچز اور میزیں شہریوں کے لیے آرام دہ ماحول فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مختلف رنگوں کی ٹف ٹائلز اور سرکل ڈیزائن اس منصوبے کو ایک جدید طرز کا تاثر دیتے ہیں۔ رات کے اوقات میں برقی لیمپ اور دیگر روشنیاں اس مقام کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیں گی۔ بظاہر یہ تمام عناصر ایک ایسی جگہ کی تشکیل کر رہے ہیں جہاں خاندان، نوجوان اور دوست احباب خوشگوار وقت گزار سکیں گے۔لیکن کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی اصل جان صرف اس کی خوبصورت عمارتوں اور جدید ڈیزائن میں نہیں ہوتی۔ اصل امتحان اس کے انتظامی ڈھانچے، معیار اور پائیداری کا ہوتا ہے۔ اوکاڑہ کی اس فوڈ اسٹریٹ کے حوالے سے بھی چند ایسے سوالات موجود ہیں جن پر ابھی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔سب سے اہم مسئلہ حفاظتی انتظامات کا ہے۔ فوڈ اسٹریٹ کے ساتھ بہنے والی نہر اس منصوبے کی خوبصورتی میں اضافہ تو کرتی ہے لیکن بچوں اور خاندانوں کی موجودگی میں یہ ایک ممکنہ خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ فی الحال نہر کے کنارے مضبوط حفاظتی باڑ یا جنگلے کا انتظام دکھائی نہیں دیتا۔ اگر مستقبل میں یہاں رش بڑھتا ہے تو حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے انتظامیہ کو چاہیے کہ افتتاح سے قبل اس پہلو کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے۔دوسرا اہم سوال معیارِ خوراک کا ہے۔ پاکستان میں متعدد فوڈ اسٹریٹس اور عوامی مقامات کی مثالیں موجود ہیں جہاں ابتدا میں بڑے دعوے کیے گئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ صفائی، معیار اور قیمتوں کے مسائل نے عوام کی دلچسپی کم کر دی۔ اوکاڑہ کی فوڈ اسٹریٹ کو اس انجام سے بچانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کو مؤثر نگرانی کا نظام وضع کرنا ہوگا۔صفائی کا مستقل انتظام، معیاری خوراک کی فراہمی، مناسب قیمتیں اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد اس منصوبے کی کامیابی کے بنیادی ستون ہوں گے۔ اگر شہریوں کو صاف ستھرا ماحول اور معیاری خوراک میسر آئی تو یہ مقام خود بخود مقبول ہو جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ پارکنگ، سکیورٹی، پینے کے صاف پانی اور دیگر شہری سہولتوں جیسے پہلو بھی خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ فوڈ اسٹریٹ کے دونوں اطراف دو، دو واش رومز تعمیر کیے گئے ہیں جو عوامی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اہم سہولت ہیں۔ تاہم ان واش رومز کی باقاعدہ صفائی، دیکھ بھال اور فعال حالت میں رکھنا انتظامیہ کی مستقل ذمہ داری ہوگی، کیونکہ کسی بھی عوامی مقام پر صفائی کا معیار ہی وہاں آنے والوں کے تاثر اور اطمینان کا بنیادی پیمانہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ معذور افراد کے لیے وہیل چیئر کی آسان رسائی، ہموار راستے، مخصوص پارکنگ اور واش رومز میں خصوصی سہولتوں کا انتظام بھی یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ یہ فوڈ اسٹریٹ معاشرے کے ہر طبقے کے لیے یکساں طور پر قابلِ رسائی اور پْرسکون تفریحی مقام بن سکے۔ اگر ان تمام سہولتوں کی مناسب دیکھ بھال اور مؤثر انتظام کو یقینی بنایا گیا تو یہ منصوبہ شہری سہولتوں کی ایک کامیاب مثال بن سکتا ہے۔ جدید شہری منصوبہ بندی میں ان عناصر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ صرف خوبصورت تعمیرات کسی منصوبے کو کامیاب نہیں بناتیں بلکہ عوامی سہولتیں اور بہتر انتظام ہی اس کی اصل شناخت بنتے ہیں۔اوکاڑہ کی پہلی فوڈ اسٹریٹ بلاشبہ ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین منصوبہ ہے۔ یہ نہ صرف شہریوں کو ایک نیا تفریحی مقام فراہم کرے گی بلکہ مقامی کاروبار، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔ تاہم اس منصوبے کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ افتتاح کے بعد ہوگا، جب یہ دیکھا جائے گا کہ انتظامیہ معیار، صفائی، سکیورٹی اور عوامی سہولتوں کو کس حد تک برقرار رکھ پاتی ہے۔اگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھاتے ہیں تو لنک نہر لوئر باری دوآب کے کنارے قائم یہ فوڈ اسٹریٹ مستقبل میں اوکاڑہ کی ایک نمایاں شناخت بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہ بھی محض ایک خوبصورت تعمیراتی منصوبہ بن کر رہ جائے گی۔ امید یہی ہے کہ یہ منصوبہ اوکاڑہ کے شہریوں کی توقعات پر پورا اترے گا اور شہر کی ترقی کی ایک کامیاب مثال ثابت ہوگا٭

