آنرایبل لارڈ کلائیو کا خواب میں آنا

محمد اظہارالحق
پہلے یہ ہوتا تھا کہ کوئی جب گھر سے باہر جاتا تو گھر والے پریشان ہوتے تھے کہ اللہ کرے خیریت سے واپس آ جائے۔ باہر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ٹریفک کی لاقانونیت کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ پولیس والے پکڑ کر حوالات میں بند کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی جان لے سکتی ہے۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ شام پڑ جائے اور بچے واپس نہ پہنچیں تو گھر والے دروازے پر کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگ جاتے تھے۔ مگر اب معاملہ الٹ ہو گیا ہے۔ اب جو گھر سے باہر ہے‘ اسے فکر لاحق ہے کہ پیچھے گھر والوں پر کوئی افتاد نہ آ پڑے۔ اب گھر کے اندر بھی حادثہ ہو سکتا ہے۔ چاردیواری کے اندر رہ کر بھی آپ محفوظ نہیں۔ یہی گزشتہ ہفتے میرے ساتھ ہوا!
میں اتوار بازار سے سودا سلف لے رہا تھا کہ بیٹے کا فون آیا۔ وہ سخت گھبرایا ہوا تھا۔ کہنے لگا: ابو! جلد گھر پہنچیں۔ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ عجیب سی آواز آئی۔ جیسے کسی نے اس کے ہاتھ سے فون چھین لیا ہو۔ پھر اس کے چیخنے کی آوازیں آئیں۔ مجھے نہیں معلوم واپسی پر میں گاڑی چلا رہا تھا یا ہوا میں اُڑ رہا تھا۔ گھر کے قریب پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گھر کے سامنے جمع ہیں۔ اندر داخل ہوا تو عجیب وغریب منظر دیکھا۔ کچھ لوگ ہمارے صحن میں گڑھا کھود رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: تم لوگ کون ہو اور میرے صحن میں کیا کر رہے ہو؟ پاس کرسی پر بیٹھے‘ نیم بابو اور نیم افسر قسم کے شخص نے اونچی آواز میں کہا کہ یہ گھر کا مالک لگتا ہے‘ اسے بھی اندر لے جاؤ۔ دو قوی ہیکل‘ حبشی نما افراد مجھے دھکیل کر میرے ہی گھر کے ایک کمرے میں لے گئے‘ اور دروازہ باہر سے بند کر دیا۔ میری اہلیہ اور بیٹا بھی وہیں‘ فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بیٹے سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ لوگ بجلی کے محکمے سے ہیں اور بجلی کا کھمبا ہمارے صحن میں لگا رہے ہیں۔ بیٹے اور اس کی ماں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو دونوں کو کمرے میں بند کر دیا گیا۔ شام کو ہماری قید ختم ہوئی۔ باہر نکل کر دیکھا تو صحن کے بیچوں بیچ ایک آسماں بوس کھمبا نصب تھا۔ صحن برباد ہو چکا تھا۔ اب اس میں بچے کھیل سکتے تھے نہ شام کو کرسیاں بچھا کر بیٹھنے کی جگہ باقی بچی تھی۔ ہم پولیس کے پاس گئے۔ پولیس والے رو پڑے اور کہا کہ وہ بے بس ہیں۔ ہم نے قاضی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ بھی ہمیں گلے سے لگا کر زار و قطار رویا اور پھر اپنی بے چارگی کا بتا کر مزید رویا۔ ابھی ہم اس بلائے بے درماں سے سنبھلے بھی نہ تھے کہ ایک دن دوپہر کے وقت ٹیلی فون کے محکمے والے آ گئے۔ انہوں نے بھی ہمیں کمرے میں بند کیا۔ باہر نکلے تو دیکھا کہ اب کے ہمارے لاؤنج کے عین درمیان ایک کھمبا نصب تھا۔ چھت میں سوراخ تھا جس سے کھمبا اوپر گیا تھا۔ ہم نے پھر متعلقہ اداروں کے پاس جا کر داد رسی چاہی مگر سب نے یہی کہا کہ معاملہ ان کے اختیار سے بہت اوپر کا ہے۔ پھر گیس والے آئے۔ ہمارے کمروں کے فرش اکھاڑے گئے اور ان کے نیچے سے پائپ گزارے گئے۔ ہم نے فرش کی ازسر نو تعمیر کا خرچ مانگا تو ہمیں بتایا گیا کہ اگر دوبارہ ایسی بات کی تو دو کروڑ روپے کا جرمانہ کیا جائے گا۔ ہم سب گھر والے چوہوں کی طرح دبک کر بیٹھ گئے۔ اب ہمارے گھر میں صرف ایک کمرہ سلامت رہ گیا تھا۔ سب افرادِ خانہ اسی میں رہنے پر مجبور تھے۔ یہی کھانے کا کمرہ تھا‘ یہی مہمان خانہ تھا اور یہی خواب گاہ تھی۔ ہم نے حالات سے سمجھوتا کر لیا اور ریاست کا شکریہ ادا کیا کہ چلو ایک کمرہ تو چھوڑ دیا۔ افسوس! یہ خوش فہمی بھی جلد دور ہو گئی۔ ایک دن سرشام گھر کے باہر‘ گلی میں شور سنائی دیا۔ باہر نکل کر دیکھا تو بہت سے لوگ صفیں باندھے کھڑے تھے۔ سب سے آگے امام صاحب تھے اور ان کے سامنے چارپائی پر‘ کفن میں لپٹی میت رکھی تھی۔ جنازہ ختم ہوا تو سب ہمارے گھر میں گھس آئے۔ بتایا گیا کہ قبرستانوں کی قلت ہو گئی ہے۔ طاقتور خاندانوں نے اُن ساری زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا جو قبرستانوں کیلئے مختص تھیں۔ ان طاقتوروں میں وہ معززین بھی شامل تھے جو بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کے مالکان تھے۔ ظاہر ہے کہ انہیں روکنا ناممکنات سے تھا۔ چنانچہ نئی قانون سازی کی گئی جس میں یہ طے پایا کہ آئندہ مرنے والوں کو کسی بھی جگہ دفنایا جا سکے گا۔ مزاحمت کرنے والوں کو کوڑے مارے جائیں گے۔ جرمانہ الگ ہو گا اور جیل کی سزا الگ۔ ہمارے ایک کمر ے میں‘ جو باقی بچا تھا اور جس میں ہم سب رہ رہے تھے‘ قبر بنائی گئی اور میت کو دفن کیا گیا۔ مرحوم کے لواحقین رات بھر قبر کے گرد بیٹھ کر تسبیح وعبادت میں مشغول رہتے۔ اب گھر میں ہمارے سونے کی جگہ باقی نہیں رہی تھی۔ ہم باہر گلی میں سونے لگے!!
یہ اُس رات کی بات ہے جو خاصی ڈراؤنی تھی۔ بادل گرج رہے تھے۔ میں نے سر سے پاؤں تک لحاف اوڑھا ہوا تھا اور سونے کی کوشش کر رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد گلی سے گزرنے والے راہگیروں کے قدموں کی آواز نیند کے غلبے میں دبنے لگ گئی۔ یہ ایک ایسی کیفیت تھی جو خواب کی تھی نہ بیداری کی! مجھے کسی نے جگایا۔ لحاف سر سے ہٹا کر دیکھا تو صاحب بہادر‘ آنرایبل لارڈ کلائیو کھڑے تھے۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ چارپائی سے نیچے اترنا چاہا تو لارڈ صاحب نے روک دیا۔ میں نے دست بستہ معذرت کی کہ صاحب بہادر!! میرے پاس گھر ہی نہیں‘ مہمان خانہ کہاں سے لاؤں جہاں آپ تشریف فرما ہوں۔ صاحب بہادر آنرایبل لارڈ کلائیو میرے ساتھ چارپائی پر ہی بیٹھ گئے۔ کہنے لگے کہ بس ایک دو ضروری باتیں کر کے چلا جاؤں گا۔ عرض کیا: حضور فرمائیے! ہمہ تن گوش ہوں۔ کہنے لگے: تم ان لکھاریوں میں سے ہو جو ہندوستان پر برطانوی قبضے کی مذمت میں لگے رہتے ہو۔ تمہارے قلم سے سامراج دشمنی کے علاوہ کچھ اور نکلتا ہی نہیں۔ مگر اب تو تمہاری آنکھیں کھل جانی چاہئیں! ہم جتنے بھی برے تھے تم لوگوں کی ذاتی جائدادیں تو محفوظ تھیں۔ یہ درست ہے کہ ہم نے نوابوں اور راجوں مہاراجوں کے تخت وتاج پر قبضہ کیا‘ بغاوتیں بھی کچلیں مگر دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ کیا تم لوگوں کے مکانوں‘ کھیتوں‘ جائدادوں کو کوئی خطرہ لاحق تھا؟ کسی انگریز کو بھی اجازت نہ تھی کہ کسی ہندوستانی کے گھر پر یا گھر کے کسی حصے پر قبضہ کرے یا اس پر کوئی تعمیری سرگرمی دکھائے۔ اب جب تمہاری اپنی حکومت ہے تو حالت یہ ہے کہ نجی کمپنیاں تمہیں در بدر کر سکتی ہیں‘ تمہاری جاگیروں پر‘ تمہارے کھیتوں کھلیانوں پر‘ تمہارے رہائشی مکانوں پر‘ تمہارے پارکوں‘ باغوں اور سیر گاہوں پر‘ تمہارے دالانوں‘ ڈیوڑھیوں‘ بر آمدوں‘ غلام گردشوں اور آنگنوں پر کوئی بھی‘ ملکی کمپنی ہو یا غیر ملکی‘ قبضہ کر سکتی ہے۔ تم مزاحمت کرو تو کروڑوں کا جرمانہ بھرو گے۔ کہیں کوئی شنوائی نہیں‘ کوئی انصاف نہیں۔ ہم پر الزام تھا کہ ہم برصغیر کی دولت برطانیہ منتقل کر رہے تھے۔ اب تو تمہارے حکمران تمہی میں سے ہیں۔ کیا ان سے کبھی پوچھا ہے کہ ان کی دولت کہاں ہے؟ جرائم کا اندازہ لگا لو۔ اُس وقت زیادہ تھے یا آج زیادہ ہیں۔ تب پولیس فورس تعداد میں کم تھی۔ اب کئی گنا زیادہ ہے مگر جرائم کی کوئی حد نہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں رات دن لوٹ رہی ہیں۔ باڑ کھیت کو کھا رہی ہے۔ ابھی تو تم گلی میں سو رہے ہو۔ کیا عجب کچھ عرصہ کے بعد گلی بھی لے لی جائے!
وضاحت: یہ ایک فرضی کہانی ہے‘ کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہو گی!

اپنا تبصرہ بھیجیں