عزیز سنگھور
بلوچستان میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنانے کے بعد حکومتی اداروں نے شاید یہ سمجھا ہوگا کہ ایک عدالتی حکم کے ذریعے ایک سیاسی تحریک کو کمزور کیا جا سکتا ہے، مگر أج یعنی 24 جون کی شٹر ڈاؤن ہڑتال نے اس خوش فہمی کو چکنا چور کر دیا۔ کوئٹہ سے مکران، مستونگ سے خضدار، قلات، نوشکی اور سوراب تک بند بازاروں نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ یہ ہڑتال صرف کاروبار کی بندش نہیں تھی بلکہ بلوچستان کے عوام کا اجتماعی سیاسی اعلان تھا کہ وہ اس فیصلے کو اپنا فیصلہ تسلیم نہیں کرتے۔
عدالت نے اپنا حکم سنایا، مگر عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا۔ تاریخ میں ایسے بے شمار مواقع آئے ہیں جب طاقتور ریاستوں نے عدالتوں اور قوانین کے ذریعے سیاسی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی، لیکن عوامی شعور کے سامنے ایسے فیصلے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکے۔ بلوچستان میں ہونے والی مکمل ہڑتال بھی اسی حقیقت کا أئینہ ہے۔ بند بازار، سنسان سڑکیں اور احتجاجی فضا دراصل ایک عوامی ریفرنڈم ہے جس میں بلوچ عوام نے واضح طور پر سرکاری بیانیے کو مسترد کر دیا۔
اس پورے منظرنامے کا سب سے اہم اور معنی خیز پہلو بلوچ خواتین کا کردار ہے۔ وہ خواتین جنہوں نے گزشتہ چند برسوں میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور سیاسی جبر کے خلاف مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کی، آج بھی اسی جدوجہد کی پہلی صف میں کھڑی ہیں۔ جب بلوچ خواتین نے اپنے ہاتھوں کی چوڑیاں اتار کر پھینکیں تو وہ صرف جذباتی ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ یہ چوڑیاں ان سرداروں، نوابوں اور قبائلی اشرافیہ کے لیے تھیں جو خود کو بلوچ قوم کا نمائندہ کہتے ہیں لیکن آج اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر بلوچ عوام کے زخموں پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
یہ بلوچستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے اور سب سے بڑی تبدیلی بھی ہے۔ ایک طرف وہ سردار ہیں جو وزارتوں، مراعات اور سرکاری پروٹوکول کے حصار میں محفوظ ہیں، دوسری طرف وہ بلوچ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں جو لاپتہ افراد کی تصویریں اٹھائے سڑکوں پر کھڑی ہیں۔ ایک طرف اقتدار کے دسترخوان پر بیٹھے ہوئے قبائلی عمائدین ہیں، دوسری طرف جیلوں، عدالتوں اور احتجاجی کیمپوں میں موجود بلوچ خواتین ہیں۔ آج اگر بلوچ عوام کسی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں تو وہ سرکاری ایوانوں میں بیٹھے ہوئے سردار نہیں بلکہ وہ خواتین ہیں جنہوں نے اپنے آنسوؤں کو مزاحمت میں تبدیل کر دیا ہے۔
24 جون کی ہڑتال نے ایک اور حقیقت بھی بے نقاب کر دی۔ بلوچستان میں سیاسی اخلاقی اختیار اب آہستہ آہستہ روایتی قبائلی اشرافیہ کے ہاتھوں سے نکل کر عوامی مزاحمت کی قیادت کے پاس منتقل ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہڑتال کی کال کسی سرکاری جماعت، کسی پارلیمانی اتحاد یا کسی بااثر سردار نے نہیں دی تھی، لیکن پورے بلوچستان نے اس کا جواب دیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ عدالتیں فیصلے سنا سکتی ہیں، حکومتیں سزائیں دے سکتی ہیں، جیلیں بھر سکتی ہیں، مگر عوام کے دلوں میں موجود سیاسی سچائی کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان کی جاری ہڑتال اسی سیاسی سچائی کا اظہار ہے۔ یہ صرف ایک احتجاج نہیں ہے بلکہ ایک واضح اعلان ہے کہ بلوچ عوام اپنی قیادت، اپنی نمائندگی اور اپنی جدوجہد کا تعین خود کریں گے، اور ان کے نزدیک آج اس جدوجہد کا چہرہ بلوچ خواتین ہیں، نہ کہ وہ سردار اور نواب جو اقتدار کے ایوانوں میں خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

