گبد بارڈر پر کشیدگی، الزام تراشی اور انتشار کسی کے مفاد میں نہیں

(ملا شے مرید)

گبد بارڈر نہ صرف ایک تجارتی گزرگاہ ہے بلکہ یہ پورے خطے کی معیشت، روزگار اور باہمی روابط کا ایک اہم مرکز ہے۔ اس بارڈر سے سینکڑوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے اور یہ علاقہ کئی دہائیوں سے امن، بھائی چارے اور باہمی تعاون کی روشن مثال رہا ہے۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی پیدا کرنا، معززینِ علاقہ کی کردار کشی کرنا یا بے بنیاد الزامات کے ذریعے ماحول کو خراب کرنا نہ صرف قابلِ افسوس عمل ہے بلکہ یہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
حالیہ دنوں واجہ ھوت عبدالغفور کے خلاف مختلف ذرائع سے منظم انداز میں الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور میڈیا کے ذریعے ان کی شخصیت کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، مگر بغیر ثبوت کسی فرد یا خاندان کی عزت و وقار کو نشانہ بنانا نہ اخلاقی اقدار کے مطابق ہے اور نہ ہی بلوچ روایات اس کی اجازت دیتی ہیں۔ ہم اس طرزِ عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور تمام فریقین سے تحمل، بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ گبد بارڈر کے ابتدائی ادوار میں مرحوم واجہ ھوت بخش اللہ نے اپنی محنت، لگن، بصیرت اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر اس سرحدی تجارت کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف خود یہاں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا بلکہ گرد و نواح کے لوگوں کو بھی تجارت اور روزگار کے نئے مواقعوں کی جانب راغب کیا۔ ان کی کاوشوں نے اس خطے کی معاشی سرگرمیوں میں نئی روح پھونکی اور بے شمار خاندانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولے۔
مرحوم واجہ ھوت بخش اللہ کی رحلت کے بعد ان کے بھائی واجہ ھوت عبدالغفور نے اس ذمہ داری کو سنبھالا اور بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے مطابق بارڈر کو جدید سہولیات اور بہتر انتظامی نظام سے آراستہ کیا۔ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج گبد بارڈر ایک اہم تجارتی حب اور کاروباری زون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں افراد براہِ راست اور بالواسطہ طور پر معاشی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس ترقی میں ان کی شبانہ روز محنت اور عملی کردار شامل رہا ہے۔
دوسری جانب عبدالغفار رند اور ان کے ساتھی بھی اسی خطے کے باشندے ہیں۔ ہمارے ان کے ساتھ دیرینہ سماجی تعلقات، رشتہ داریاں اور باہمی احترام پر مبنی روابط موجود ہیں۔ ان کا کاروبار مند بارڈر پر پہلے ہی کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور ہم ان کے کاروباری حق اور عزت کا بھی مکمل احترام کرتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ تمام فریقین باہمی احترام، رواداری اور بھائی چارے کے ماحول میں اپنے کاروباری معاملات جاری رکھیں کیونکہ ترقی اور خوشحالی کا راستہ تصادم نہیں بلکہ تعاون سے نکلتا ہے۔
یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر علاقے کے وسائل، مواقع اور کاروباری سرگرمیوں میں سب سے پہلا اخلاقی حق وہاں کے مقامی باشندوں اور مکینوں کا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں یہی اصول رائج ہے کہ مقامی آبادی کے مفادات اور حقوق کو مقدم رکھا جاتا ہے، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دوسرے علاقوں کے لوگوں کے لیے دروازے بند کر دیے جائیں۔ بلکہ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام لوگ باہمی افہام و تفہیم اور احترام کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔
اصل مسئلہ، جیسا کہ عوام بخوبی جانتے ہیں، سابقہ واجبات اور جی ڈی (GD) کی مد میں واجب الادا رقم کا ہے۔ اگر کسی فرد یا فریق پر مالی واجبات باقی ہیں تو ان کی ادائیگی نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی بنتی ہے۔ ایسے معاملات کو میڈیا ٹرائل، الزام تراشی اور عوامی انتشار کے ذریعے حل کرنے کے بجائے گفت و شنید، روایتی جرگوں اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ گوادر، مند، گبد اور دیگر علاقوں کے لوگ نفرت، تقسیم اور الزام تراشی کی سیاست سے دور رہیں اور اپنے خطے کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کشیدگی سے کسی ایک فرد یا خاندان کا نہیں بلکہ پورے علاقے کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ امن، بھائی چارہ اور باہمی تعاون ہی وہ راستہ ہے جو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
آئیں ہم سب مل کر گبد بارڈر کو تنازعات کا نہیں بلکہ ترقی، روزگار، بھائی چارے اور معاشی استحکام کی علامت بنائیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں