غلام رسول بلوچ
تاریخ کو مسخ کرکے پیش کرنا نہ دانشمندی ہے اور نہ ہی دیانت داری۔ یہ دراصل آنے والی نسلوں کی فکری میراث کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ تاریخ محض واقعات، تاریخوں اور ناموں کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ قوموں کی اجتماعی یادداشت، شعور اور شناخت کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ جب حقائق پر تعصب، ذاتی مفادات یا وقتی خواہشات کی گرد ڈال دی جائے تو سچائی کا چہرہ دھندلا جاتا ہے اور حقیقت اپنی اصل صورت کھو بیٹھتی ہے۔
اسی تناظر میں پروگریسیو یوتھ مومنٹ کی تاریخ کو بھی حقائق کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔ تنظیم کے مستقبل کے حوالے سے ہونے والے طویل غور و خوض اور جمہوری مشاورت کے بعد اکثریتی قیادت اس نتیجے پر پہنچی کہ تنظیمی تسلسل اور نظریاتی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے پروگریسیو یوتھ مومنٹ کو قائم رکھا جائے۔ اگرچہ کونسلروں کی ایک بڑی تعداد اس رائے کی حامل تھی کہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل وقت کی ضرورت ہے، لیکن سینیئر قیادت نے زمینی حقائق، محدود وسائل اور سیاسی امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایک مؤثر سیاسی جماعت کا قیام اور اسے مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ایک نہایت کٹھن اور وسائل طلب عمل ہے، جس کے لیے اُس وقت مطلوبہ حالات میسر نہیں تھے۔
چنانچہ اکثریتی قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ساتھی جو عمر اور سیاسی تجربے کے اعتبار سے یوتھ کی حدود سے آگے نکل چکے ہیں، اپنی سیاسی جدوجہد کو وسیع تر قومی اور نظریاتی دھارے میں جاری رکھنے کے لیے مناسب سیاسی پلیٹ فارمز کا انتخاب کریں۔ اسی پس منظر میں شکیل بلوچ، جو پہلے ہی پاکستان نیشنل پارٹی سے وابستہ تھے، اپنی سیاسی سرگرمیاں وہاں جاری رکھے رہے، جبکہ بعد ازاں رازق بگٹی نے بھی اسی اجتماعی سیاسی حکمتِ عملی اور تنظیمی فیصلے کی روشنی میں میر صاحب کی جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ یہ فیصلے کسی شخصی مفاد، گروہی خواہش یا وقتی مصلحت کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ جمہوری روایت، نظریاتی وابستگی اور سیاسی بصیرت کے تسلسل کا اظہار تھے۔
رازق بگٹی نے نہ کبھی کسی جماعت پر قبضہ جمانے کی کوشش کی اور نہ ہی اقتدار یا عہدے کی سیاست کو اپنی جدوجہد کا محور بنایا۔ وہ نظریات، اصولوں، رفاقت اور اجتماعی فیصلوں کا احترام کرنے والے سیاسی کارکن تھے۔ ان کی سیاست شخصیت پرستی کے بجائے فکری وابستگی اور عوامی خدمت پر استوار تھی۔ آج بھی رازق بگٹی اور کہور خان کے ساتھی انہی جمہوری روایات، نظریاتی اصولوں اور فکری دیانت کے علمبردار ہیں جنہیں انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا حاصل سمجھا۔ ان کے نزدیک شخصیات فانی ہوتی ہیں مگر نظریات زندہ رہتے ہیں، اور یہی نظریاتی وفاداری ان کے کردار کی سب سے نمایاں پہچان ہے۔
رازق بگٹی سیاسی اور نظریاتی اعتبار سے ایک قدآور، باوقار اور صاحبِ بصیرت شخصیت تھے۔ ان کی عوامی وابستگی، فکری پختگی اور مسلسل جدوجہد نے انہیں اپنے عہد میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ شاید بعض حلقے اسی حقیقت سے خائف تھے کہ رازق بگٹی جیسے بلند قامت رہنما کی موجودگی میں ان کی سیاسی اہمیت اور کردار نمایاں نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ وہ ان کے سیاسی اثر و رسوخ اور نظریاتی وزن کو اپنے لیے ایک چیلنج تصور کرتے تھے۔
اللہ بخش بزدار نے رازق بگٹی کے بارے میں لکھا تھا:
“رازق سنڈیمن سسٹم سے جمہور کی نجات کا خواہاں تھا۔ وہ بلوچوں کو قبائلیت کی حالت میں منقسم و منتشر رکھنے کے بجائے انہیں جدید اداروں کے سائے میں ایک نامیاتی اکائی کے طور پر ڈھلتے اور نشوونما پاتے دیکھنے کا متمنی تھا۔ وہ اس خیال کا حامی تھا کہ بلوچوں کو اپنے نسلی پس منظر میں بحیثیت قوم زندہ رہنے کے امکانات تلاشنے چاہئیں، لیکن وہ ہرگز نسل پرست نہ تھا۔ اُس کا سلسلۂ نسب آدم سے جڑتا تھا۔ وہ انسانیت کا عاشق تھا۔ حریتِ فکر اور جمہوری اقدار کا فروغ اُس کے ایمان کا حصہ تھے۔”
یہ چند سطریں دراصل رازق بگٹی کی پوری سیاسی اور فکری شخصیت کا نچوڑ ہیں۔ وہ ایسے سیاسی کارکن تھے جو قوم پرستی کو انسان دوستی سے جدا نہیں سمجھتے تھے، جو جمہوریت کو محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ سماجی شعور کی بنیاد تصور کرتے تھے، اور جو آزادیٔ فکر کو معاشرتی ترقی کی پہلی شرط گردانتے تھے۔
رازق بگٹی نے اپنے خیالات، اپنے خوابوں اور اپنی جدوجہد کو تحریروں اور عملی سیاست کے ذریعے وقت کے آئینے کے سپرد کر دیا۔ وقت گزر سکتا ہے، گرد و غبار چھا سکتی ہے، جذبات اور تعصبات حقیقت کو وقتی طور پر دھندلا سکتے ہیں، مگر سچائی کی روشنی کو ہمیشہ کے لیے مدھم نہیں کیا جا سکتا۔ جب تعصب کی گرد چھٹے گی، جب تاریخ کو غیر جانبداری کی آنکھ سے دیکھا جائے گا، تو رازق بگٹی کا چہرہ ایک بار پھر اپنی اصل تابانی کے ساتھ ابھرے گا، اور وہ اپنے نظریات، جدوجہد اور عوامی وابستگی کے سبب دوبارہ ایک فکری و سیاسی رہنما کے طور پر پہچانا جائے گا۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ وقتی شور سے نہیں بلکہ کردار، نظریات اور جدوجہد کی پائیداری سے ہوتا ہے، اور رازق بگٹی کا نام انہی لوگوں میں شمار ہوگا جنہوں نے اپنے عہد پر محض زندگی نہیں گزاری بلکہ اپنے افکار اور عمل سے اس پر ایک گہرا نقش ثبت کیا۔

