رسول بخش رئیس
ہمارے ملک میں جب بیٹیوں کی زمینوں کی طرف ذہن جاتا ہے تو بے شمار المناک قصے تکلیف دہ تصویر بن کر یادو ں کی دھند سے ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ زندگی کئی واقعات کی شاہد ہے کہ بیٹیوں کو زمین کے ملکیتی حقوق سے محروم رکھنے کے لیے والد نے ساری زمین بیٹے یا بیٹوں کے نام منتقل کر دی۔ دکھ کی بات ہے کہ اکثریت ایسا ہی کرتی آ رہی ہے۔ مذہب‘ اخلاقیات‘ قانون اور انسانیت اس پدرسری معاشرے میں بچیوں کے ملکیتی حقوق کے ضمن میں کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ نتائج اکثر ایسے والدین کی توقعات کے برعکس نکلے جو سب کچھ اپنی نرینہ اولاد کے سپرد کرکے دنیا سے رخصت ہوئے۔ کئی خاندانوں کو تباہ ہوتے دیکھا ہے۔ بیٹوں نے ایسا طرزِ عمل اور ایسا طرزِ زندگی اختیار کیا کہ سب کچھ لٹ گیا۔ جو کچھ بچا سکے اس میں بھی سکون اور اطمینان ہمیں تو نظر نہیں آیا۔ کئی داستانیں ہیں جنہیں لکھنے کو جی کرتا ہے‘ کچھ پہلے بھی ان صفحات میں سپردِ تحریر کر چکا ہوں۔ لوگوں کے ایسے معاملات پر ہم افسوس توکرتے ہیں لیکن اگر کسی صوبے کی حکومت بیٹیوں کی زمین پر نظریں جمائے‘ اسے ہتھیانے کے درپے ہو تو سوچیں کہ ہم یا وہ ہزاروں بے زبان بچیاں کس سے فریاد کریں‘ کہاں جا کر آواز اٹھائیں‘ کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں‘ کس شاہی محل کے باہر لٹکتی زنجیرِ عدل کو ہلائیں؟ ایسے کام انتہائی صفائی اور ہنرمندی سے اور راتوں رات کیے جاتے ہیں کہ لوگوں کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ پتا اُس وقت چلتا ہے جب جامعات کی زمینوں پر سرکاری اور غیر سرکاری راہداریاں‘ سڑکیں اور بہت کچھ تعمیر ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ خبر ایک اخبار میں پڑھی تو یقین نہ آیا مگر جگر کو ایک زہریلے نوک دار تیر کی طرح چیرتی ہوئی پار ہو گئی۔ اس خبر کے لیے کچھ انتظار کریں‘ پہلے عرض کردوں کہ مرکزی اور شمالی پنجاب میں بچیوں کی اعلیٰ تعلیم میں دلچسپی غیر معمولی سماجی پیشرفت ہے۔ میں اسے ایک انقلاب خیال کرتا ہوں کہ ہزاروں بچیاں دور دراز کے دیہات سے روزانہ ویگنوں‘ بسوں اور رکشوں کے ذریعے جامعات جاتی ہیں۔ سرگودھا اور گجرات کی سرکاری جامعات میں لڑکیوں کی تعداد کئی برسوں سے لڑکوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ آپ انہیں سائنسی اور عمرانی علوم‘ طب‘ ٹیکنالوجی‘ قانون اور دیگر شعبوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ مخلوط جامعات کے علاوہ خواتین کے لیے مختص جامعات بھی ملک کے ہر حصے میں اور ہر بڑے شہر میں موجود ہیں‘ جہاں قابل اور مستند خواتین اساتذہ تعلیم وتدریس میں مصروف ہیں۔ ایسی ہی ایک یونیورسٹی سیالکوٹ میں ہے‘ وہ سیالکوٹ جو ہمارے شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا شہر اور ملک میں برآمدی صنعتوں کا ایک عرصہ سے مرکز ہے۔ یہاں کے صنعتکار بڑے بڑے کاموں اور منصوبوں کی پہل کاری میں بھی اپنا مقام رکھتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے اس شہر کی طرف عازمِ سفر ہونے کی فرصت نہ ملی‘ مگر اب اپنی بیٹیوں کی زمینوں کو بچانے کے لیے وہاں جانا ضروری ہوا تو کسی وقت جا نکلیں گے۔ پھر سوچتا ہوں کہ ہمارے جیسے درویشوں کے جانے سے اہلِ اقتدار کے فیصلے کیونکر بدلیں گے؟
اب آتے ہیں اس افسوسناک کارروائی کی طرف‘ جو صوبے کے اعلیٰ تعلیم کے محکمے نے بیٹیوں کی زمین ہتھیانے کے سلسلے میں کی ہے۔ سیالکوٹ ویمن یونیورسٹی تقریباً تیرہ سال قبل قائم ہوئی‘ حکومتِ پنجاب نے اُسے شہر کے قریب دو سو ایکڑ زمین الاٹ کی۔ اس نہایت ہی مختصر عرصہ میں اس یونیورسٹی کی انتظامیہ اور اساتذہ نے تندہی سے کام کرتے ہوئے اسے ایسے مقام پر پہنچا دیا کہ اب وہاں گیارہ ہزار بچیاں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ سرکاری جامعات میں امیر لوگوں کے بچے داخلہ نہیں لیتے۔ ہمارے ملک کی اعلیٰ تعلیم کے وہ دن اب رخصت ہو چکے جب محمود و ایاز ایک صف میں کھڑے ہوتے تھے۔ بلکہ اب تو اعلیٰ متوسط طبقے کے گھرانے بھی سرکاری جامعات اور کالجوں سے دور بھاگتے ہیں۔ پبلک یونیورسٹیوں میں اب صرف غریبوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ وہاں فیس کم ہے۔ سیالکوٹ ویمن یونیورسٹی کی اس دو سو ایکڑ زمین پر عمارتیں بنی ہوئی ہیں‘ ہاسٹلز ہیں‘ جہاں تقریباً 300 بچیاں رہائش پذیر ہیں‘ چاردیواری ہے‘ سکیورٹی کے لیے کیمرے نصب ہیں۔ یعنی تسلی بخش حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ تاہم اب خطرہ کہیں باہر سے نہیں بلکہ خود حکومت سے ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی سرکاری جامعات کے حوالے سے ایک مضمون لکھ چکا ہوں کہ کس طرح پرائیویٹ پبلک شراکت داری کے ڈھکوسلوں سے جامعات کی زمینوں پر حرص اور لالچ کے ماروں نے نظریں جما رکھی ہیں۔ سیالکوٹ کی خواتین یونیورسٹی کی 120 ایکڑ زمین اب محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کارندوں نے سیالکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی ہے تاکہ وہاں وہ سرکاری دفاتر‘ عدالتیں اور رہائش گاہیں بھی بنا لیں۔ عجیب بات ہے کہ جب یہ زمین اس یونیورسٹی کے نام پر معروف سیکشن چار لگا کر حاصل کی گئی تو یونیورسٹی کے نام کرنے کے بجائے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے یہ اپنے نام کرا لی۔ پہلے تو کبھی کسی نے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا کہ زمین جامعات کے نام منتقل کرنے کے بجائے صوبے کا کوئی محکمہ اپنے نام کرا لے۔ شنید ہے اس کارروائی کے پیچھے کسی کا سیاسی اثر ونفوذ‘ انتخابی سیاست اور کچھ ذاتی سیاسی منصوبہ بندی ہے۔ وہ جانیں اور اُن کے دھندے‘ مگر جو اس وقت سامنے ہے‘ وہ یہ ہے کہ لوگ اس معاملے کو لاہور ہائیکورٹ لے گئے ہیں۔ ہمیں انصاف کی توقع رکھنی چاہیے۔
جو بات دل کو مسلسل ٹھیس پہنچا رہی‘ بلکہ باریک سوئیوں کی طرح چبھ رہی ہے‘ وہ پنجاب کابینہ کا یہ فیصلہ ہے کہ ایک سو ایکڑ زمین بیٹیوں سے لے کر ضلعی انتظامیہ کے دفتروں کے لیے مختص کر دی جائے۔ یہاں دو باتیں عرض کرنا ضروری ہیں۔ انگریزی دور سے سیالکوٹ ضلع ہے اور اس کے دفاتر موجود ہیں‘ انہیں مزید پھیلانے کے بجائے جہاں ہیں‘ وہاں بلند وبالا عمارتیں بنا لیں۔ ویسے بھی یہ بااختیار لوگ ہیں‘ کسی اور جگہ دفاتر اور رہائش گاہوں کے لیے زمین خرید لیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ دو سو خواتین اساتذہ اور گیارہ ہزار بچیوں کی زمین انہیں تر نوالہ نظر آتی ہے‘ کہ یہ بے بس مخلوق ان طاقتوروں کا کیا بگاڑ سکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جامعات کے لیے دو سو ایکڑ زمین بھی بہت کم ہے۔ ہم نے دنیا کے ان سب ممالک میں‘ جہاں جانے کا اتفاق ہوا ہے‘ جامعات کو دیکھا ہے۔ بہت عرصہ وہا ں گزارا ہے۔ جامعات کی ہزارہا ایکڑ زمینیں ہیں۔ ان کے اندر پورے شہر آباد ہیں۔ کاش ان اہلِ اقتدار لوگوں کو کبھی کسی مغربی دنیا‘ امریکہ یا اپنے پڑوس کے ممالک کی جامعات میں جانے کا اتفاق ہوتا۔ جامعات کے لیے پانچ دس ہزار ایکڑ معمولی بات ہے۔
جامعات قومی ورثہ ہوتی ہیں۔ آنے والی نسلوں کے لیے مختص کی جاتی ہیں۔ یونیورسٹی صرف کلاس رومز یا چند عمارتوں کا نام نہیں بلکہ علم وادب اور زندگی کے تجربے کی ایک وسیع و عریض دنیا ہے‘ جس میں پارک‘ باغات یہاں تک کہ قدرتی جنگل تک موجود ہوتے ہیں۔ ہماری دنیا سب سے الگ ہے۔ یہاں جو معتبر‘ طاقتور اور بااثر ہیں انہیں جامعات اور بچیوں کی جامعات کی حرمت اور افادیت کے بارے میں کچھ عرض کریں تو منہ حقارت سے دوسری طرف کر لیتے ہیں۔
Load/Hide Comments

