ڈاکٹر حسین احمد پراچہ
سفارتی محاذ پر پاکستان کو بڑی پذیرائی اور سرخروئی نصیب ہوئی۔ اب ذرا ہمارے حکمران گھر کی بھی کچھ خبر لیں جہاں حالات خراب ہی نہیں بہت خراب ہیں۔ کسی بھی حکومت کا یہ اوّلین فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال کا مکمل تحفظ کرے۔ حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ اس کی گورننس سے لگایا جاتا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران ایسے بہت سے دلخراش واقعات رونما ہوئے ہیں جن پر محض دل کی تسلی کیلئے کچھ عرض کرنا ضروری ہے۔ پاکستانی نژاد آسٹریلین بچی ہانیہ کے چکوال میں قتل پر آسٹریلین میڈیا نے کئی روز تک اس واقعے کا ذکر کیا۔ ان تجزیوں اور تبصروں کے مطابق پاکستان کا داخلی امیج یہ تھا کہ پہلے اس آسٹریلوی فیملی کو ڈاکوؤں نے گھیرا۔ اُن سے جان چھڑانے کے بعد فیملی کی گاڑی پر پولیس نے محض شبہے کی بنا پر گولیوں برسا دیں۔ مغربی میڈیا کے مطابق دنیا کا کوئی قانون پولیس کو اتنے لامحدود اختیارات نہیں دیتا کہ وہ جسے چاہے محض شبہے کی بنا پر موت کے گھاٹ اتار دے۔ ”سب اچھا‘‘ کی رپورٹیں اپنی جگہ مگردنیا بھر میں مقیم اوور سیز پاکستانیوں میں زبردست بے چینی پائی جاتی ہے۔ ہم خود طویل عرصے تک اوورسیز پاکستانی رہے ہیں‘ اس لیے ہمیں ان کے احساسات و جذبات کا اندازہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پاکستان کے بارے میں بڑی دلکش کہانیاں سنا کر اپنے وطنِ مالوف لاتے ہیں مگر جب انہیں یہاں پر ایسے واقعات سے گزرنا پڑتا ہے تو وہ سوال کرتے ہیں یہ ہے آپ کا پاکستان؟
اربابِ بست و کشاد کو یاد دلا دوں کہ جنوری 2019ء میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ ساہیوال کے قریب پیش آیا تھا جہاں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ایک گاڑی میں سوار بے گناہ فیملی کی گاڑی کو روکنے‘ اُن سے تفتیش کرنے کے بجائے اسے گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ اس واقعے میں میاں بیوی‘ 13سالہ بیٹی اور ڈرائیور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ تین بچے آنسو بہانے کیلئے پیچھے رہ گئے۔ کیا اس سے بڑی ٹریجڈی کا تصور ہو سکتا ہے۔ اس وقت بھی اسی طرح مقدمات درج ہوئے تھے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بات ہوئی تھی مگر جیسا کہ دانا لوگوں کا خیال تھا کہ پولیس اہلکاروں کو بچا لیا جائے گا اور وہ بچا لیے گئے۔
ابھی ہانیہ احمد کا زخم تازہ ہی تھا کہ سرگودھا سے دل فگار خبر آئی کہ ایک آٹھ سالہ بچی کو ایک کریانہ سٹور کی عمارت میں درندگی کا نشانہ بنانے کے بعدنہایت ہولناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بعد ازاں یہ خبر بھی آئی کہ ملزم ایک مبینہ پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ سارے شہر نے بچی کے قاتل کے ساتھ شدید نفرت کا اظہار کیا۔ ہم نے سرگودھا میں اپنے ذرائع سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی شہر میں تین چار بچوں کے اغوا کی ایف آئی آر درج ہے اور کئی روز سے ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں۔ اس سے قبل سرگودھا سے شاید ہی کبھی اس طرح کا کوئی لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہو۔ شہر میں راتوں کو بھی پولیس جاگتی تھی تاکہ شہری سکون کی نیند سو سکیں۔ مگر اب حکمرانوں کا خیال ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اپنی تعریفوں کے پُل باندھنے اور پولیس کو لامحدود اختیارات دینے سے امن و قائم ہو جائے گا۔ یہ محض خام خیالی اور کوتاہ نظری کے علاوہ کچھ نہیں۔
عوام ابھی سرگودھا کا دلخراش واقعہ ہی نہیں بھول پائے تھے کہ ایک ایسا ہی انتہائی ہولناک سانحہ کراچی میں پیش آیا کہ جہاں تین سالہ بچی کو ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کرکے اس کی لاش کو اس کے گھر کے باہر پھینک دیا گیا۔ یوں تو کراچی جرائم کی آماجگاہ ہے مگر اس لرزہ خیز سانحے کے بعد سارے شہر میں سوگ کی سی فضا تھی۔ بچی کا پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن نے کہا کہ پوسٹ مارٹم میرا کام ہے مگر بچوں کے ساتھ زیادتی کا کوئی واقعہ سامنے آتا ہے تو میری روح کانپ جاتی ہے۔ اس بچی کا کیس بحیثیت سرجن میری زندگی کا سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا تھا۔ پولیس سرجن نے پُرنم آنکھوں کے ساتھ رپورٹروں کو بتایا کہ تین سالہ بچی کے ساتھ اس وحشیانہ واردات کے ثبوت موجود ہیں‘اوریہ کہ معصوم بچی کی مزاحمت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ایسی گھناؤنی وارداتیں پنجاب اور سندھ میں بکثرت اور باقی صوبوں میں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ ایسی وارداتوں اور خواتین اور بچیوں کے ساتھ ہولناک اور بدسلوکی کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتی ہیں مگر مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے کبھی اس طرح کی وارداتوں کے حوالے سے ضلع کی سطح پر ایسی کمیٹیاں تشکیل دی ہوں کہ جن میں پولیس کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نمائندے‘ علماء کرام اور دیگر عمائدینِ شہر شامل ہوں۔ تبھی تو ہم بار بار بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح شہر کا ایک ایک باسی اپنی اپنی گلی محلے کا محافظ بن جاتا ہے۔ محض جرم اور مجرم سے نفرت سے ایسے گھناؤنے جرائم کا قلع قمع نہیں ہو سکتا۔
حکمرانوں کی طرف سے اپنے شہریوں کی جان کے تحفظ کیلئے ان کی کارکردگی کی ایک جھلک ہم نے آپ کے سامنے رکھی ہے۔ اب ذرا اپنے شہریوں کے مال کے تحفظ کی بھی ایک جھلک دیکھ لیجئے۔آئین کسی جمہوری ملک کا ہو یا آمرانہ ملک کا‘ اس میں شہریوں کے مال و متاع اور ان کی جائیداد کے مکمل قانونی تحفظ کی شق نمایاں ترین ہوتی ہے مگر وطن عزیز میں آئین میں لکھا کچھ اور ہوتا ہے اور عمل کچھ اور ہوتا ہے۔ اب یہ راز راز نہیں رہا کہ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ٹاور لگانے کیلئے اپنے وطن کے پارک‘ میدان‘ کھیت اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہی نہیں عوام کے گھروں کو بھی پیش کر دیا۔ اس بل کے مطابق کمپنی جہاں چاہے گی‘ جس گھر کے سامنے یا اوپر چاہے گی وہاں اپنا ٹاور نصب کر دے گی۔ اگر وہ گھر والوں کو کچھ دے گی تو وہ صبر و شکر کے ساتھ اسے قبول کریں وگرنہ انکار کی صورت میں انہیں پانچ کروڑ تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ ہماری بے خبری یا بے بسی کا حال یہ ہے کہ یہ بل کمیٹی سے پاس ہوتا ہوا کابینہ تک پہنچا اور وہاں سے بھی منظور ہو کر اسمبلی تک آ پہنچا اور وہاں سے بھی پاس ہو کر سینیٹ میں پہنچا تو وہاں پیپلز پارٹی کے رکن سینیٹ پلوشہ خان نے واردات پکڑ لی تو شور مچا تو اب شہریوں کی ذاتی پراپرٹی پر قبضہ کرنے کی شق کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اگر کوئی باخبر اور باہمت کابینہ ہوتی تو مکھی پر مکھی نہ مارتی اور بغیر پڑھے منظوری دینے سے انکار کر دیتی۔ اگر کوئی جاندار پارلیمنٹ ہوتی تو یہ سوال ضرور اٹھاتی کہ عوام اپنی جائیدادیں ٹاورز لگانے کیلئے بغیر کسی معاوضے کے اپنی زمین کیوں پیش کر دیں۔
آخر میں حکومتی گورننس کی ایک اور جھلک بھی دیکھ لیجئے۔ آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو آغاز میں ہی مفاہمت اور مذاکرات سے حل کرنے کی ضرورت تھی مگر یہاں بھی ”دھونس پالیسی‘‘ سے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی جس سے صورتحال اور بگڑ گئی۔ قومی اسمبلی میں بھی اس معاملے پر شدید احتجاج ہوا اور بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی وزرا کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ اب مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین حافظ نعیم الرحمن اور مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ آزاد کشمیر کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر حکومت محتاط رہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کشمیریوں نے اپنی ہر تحریک پاکستانی پرچم تلے چلائی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت آگے آئے اور کشمیریوں کے ساتھ بات چیت شروع کرے۔ آزادیٔ کشمیر کے بیس کیمپ کو کبھی بھی ناراض نہیں کر سکتے۔ حکومت ایسے سارے لوگوں کو ساتھ لے کر بات چیت کرے جو مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت گھر کی خبر لے۔ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت‘ چادر چار دیواری کا تحفظ اور گڈ گورننس اس کا اوّلین فرض ہے۔
Load/Hide Comments

