تل ابیب: اسرائیل کے وزیر دفاع نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی دوبارہ کھلی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے اور یہ صورتحال آئندہ دو دن کے اندر بھی پیدا ہوسکتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ہمارے نشانے پر ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر اسرائیل کو اپنی قومی سلامتی کے خلاف کوئی سنگین خطرہ محسوس ہوا تو وہ کارروائی کے لیے کسی بیرونی منظوری یا اجازت کا انتظار نہیں کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنے دفاع کے حوالے سے خود مختار فیصلے کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اگر ضروری ہوا تو بروقت فوجی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ خطے میں جنگ بندی اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بھی مختلف سطحوں پر رابطے کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کا یہ مؤقف مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو مزید حساس بنا سکتا ہے، کیونکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی کئی مرتبہ براہ راست فوجی کارروائیوں تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن خطے کی صورتحال کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر وسیع پیمانے پر فوجی کشیدگی کی طرف جا سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب اس بیان پر ایران یا امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

