سانچ : گرین الیکٹرک بسوں کا آغاز، ترقی، ماحول اور عوامی سہولت کا نیا سفر

تحریر:محمدمظہررشید چودھری (03336963372)

پنجاب میں جدید اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب حکومت کا گرین ٹرانسپورٹ ویژن اب عملی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ لاہور سے شروع ہونے والا الیکٹرک بسوں کا سفر ساہیوال کے بعد اب اوکاڑہ تک پہنچ چکا ہے، جو نہ صرف ضلع بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ منصوبہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ترقی صرف نئی سڑکیں بنانے کا نام نہیں بلکہ شہریوں کو محفوظ، باوقار، معیاری اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کرنا بھی جدید ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔حکومت پنجاب نے الیکٹرک بسوں کا منصوبہ مرحلہ وار ترتیب دیا ہے۔ اس کا آغاز 2025 میں لاہور سے کیا گیا، بعد ازاں ساہیوال سمیت دیگر شہروں میں اس کا دائرہ کار بڑھایا گیا اور اب 2026 میں اوکاڑہ بھی ان اضلاع میں شامل ہو گیا ہے جہاں شہری جدید گرین ٹرانسپورٹ سے مستفید ہوں گے۔ سرکاری منصوبے کے مطابق رواں سال(اپریل یا جون) بسوں کی فراہمی تین مراحل میں مکمل کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں 100، دوسرے مرحلے میں 350 اور تیسرے مرحلے میں 264 الیکٹرک بسیں شامل ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 714 نئی الیکٹرک بسیں پنجاب کے مختلف اضلاع کے لیے مختص کی گئی ہیں، جو صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔اوکاڑہ جیسے زرعی اور تجارتی اہمیت کے حامل ضلع میں اس منصوبے کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد تعلیم، روزگار، کاروبار، سرکاری دفاتر، ہسپتالوں اور دیگر ضروریات کے لیے سفر کرتے ہیں۔ ماضی میں شہریوں کا انحصار رکشوں، ویگنوں اور نجی ٹرانسپورٹ پر تھا، جہاں کرایوں میں بے ضابطگی، رش، غیر معیاری سہولیات اور وقت کی پابندی جیسے مسائل عام تھے۔ الیکٹرک بسوں کی آمد ان مشکلات کے حل کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔اس منصوبے کی سب سے بڑی خوبی صرف جدید بسیں نہیں بلکہ ان کے لیے متعین کیے گئے جامع روٹس بھی ہیں، جن کے ذریعے اوکاڑہ شہر کے ساتھ مضافاتی علاقوں کو بھی جوڑا گیا ہے۔ پہلا روٹ جنرل بس اسٹینڈ اوکاڑہ سے اخترآباد تک رکھا گیا ہے، جس کی لمبائی 27 کلومیٹر ہے۔ یہ بس کرماں والا، اڈہ کسان، اوکاڑہ یونیورسٹی اور رینالہ خورد سے گزرتے ہوئے تقریباً 40 منٹ میں اپنی منزل تک پہنچے گی۔ اس روٹ پر 8 بسیں چلیں گی اور ہر 10 منٹ بعد ایک بس دستیاب ہوگی۔دوسرا روٹ جنرل بس اسٹینڈ اوکاڑہ سے جنرل بس اسٹینڈ دیپالپور تک ہے، جس کا فاصلہ 25.7 کلومیٹر ہے۔ یہ بس ڈی ایچ کیو ہسپتال، 49/2-L بائی پاس، چورستہ 38/D اور پٹرولنگ چوکی 48/2-L سے گزرتے ہوئے تقریباً 50 منٹ میں دیپالپور پہنچے گی۔ اس روٹ پر 10 بسیں چلائی جائیں گی اور ہر 10 منٹ بعد بس کی سہولت میسر ہوگی۔تیسرا روٹ جنرل بس اسٹینڈ اوکاڑہ سے فتح پور تک ہے، جس کی لمبائی 26.6 کلومیٹر ہے۔ یہ بس پرانی کچہری، ستگھرا موڑ، بابا فرید شوگر ملز، کیڈٹ کالج، نعمت گھی فیکٹری، ینگ پور اور بنگلہ گوگیرہ سے گزرتے ہوئے تقریباً 50 منٹ میں فتح پور پہنچے گی۔ اس روٹ کے لیے بھی 10 بسیں مختص کی گئی ہیں اور ہر 10 منٹ بعد سروس دستیاب ہوگی۔چوتھا روٹ جنرل بس اسٹینڈ اوکاڑہ سے اڈہ گیمبر تک ہے، جس کا فاصلہ 15.4 کلومیٹر ہے۔ یہ بس دیپالپور چوک، چونگی نمبر 6 اور 7، پل 4/L، اڈہ تبروک اور اوکاڑہ کینٹ سے گزرتے ہوئے تقریباً 30 منٹ میں اپنی منزل تک پہنچے گی۔ اس روٹ پر 6 بسیں چلیں گی۔پانچواں اور اہم شہری روٹ ساہیوال بائی پاس سے کے ایف سی بائی پاس تک ہے، جس کی لمبائی 16 کلومیٹر ہے۔ یہ بس پل 4/L، ڈی سی آفس، ہارنیاں والا چوک، محبوب عالم چوک، ڈی ایچ کیو ہسپتال، فیکٹو چوک، ایم سی ماڈل ہائی اسکول، گورنمنٹ ڈگری کالج، دیپالپور چوک، جنرل بس اسٹینڈ، 14L پھاٹک، سپیریئر کالج، ایسپائر کالج اور دربار کرماں والا سے گزرتے ہوئے تقریباً 35 منٹ میں منزل تک پہنچے گی۔ اس روٹ پر بھی 6 بسیں چلائی جائیں گی اور ہر 10 منٹ بعد بس دستیاب ہوگی۔یہ روٹس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منصوبہ صرف شہر کے مرکزی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، صنعتی مراکز، سرکاری دفاتر، ہسپتالوں اور مضافاتی آبادیوں کو بھی ایک مربوط سفری نظام سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر ان روٹس کو مستقبل میں مزید وسعت دے کر حجرہ شاہ مقیم، حویلی لکھا، بصیرپور اور دیگر اہم علاقوں سے بھی منسلک کیا جائے تو ضلع کی بڑی آبادی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکے گی۔الیکٹرک بسوں کی ایک نمایاں خصوصیت خواتین کے لیے علیحدہ نشستوں کا انتظام بھی ہے، جو انہیں زیادہ محفوظ اور باوقار سفر فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ بسیں کم شور پیدا کرتی ہیں، ایندھن پر انحصار کم کرتی ہیں اور فضائی آلودگی میں نمایاں کمی کا باعث بنتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر مستقبل میں صوبے کے زیادہ تر شہروں میں یہی نظام نافذ کر دیا جائے تو نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی بلکہ درآمدی ایندھن پر خرچ ہونے والے اربوں روپے بھی بچائے جا سکیں گے۔تاہم کسی بھی منصوبے کی اصل کامیابی اس کے آغاز سے زیادہ اس کے مستقل اور مؤثر انتظام میں ہوتی ہے۔ بسوں کی بروقت آمدورفت، مناسب کرایے، صفائی، جدید ٹکٹنگ سسٹم، چارجنگ اسٹیشنز، تربیت یافتہ عملہ اور بروقت مرمت کا نظام اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔ اگر ان پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا تو ایک بہترین منصوبہ بھی اپنی افادیت کھو سکتا ہے۔اوکاڑہ کے عوام نے اس منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حکومت صرف بسیں فراہم کرنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ان کی تعداد، روٹس اور سہولیات میں بھی وقت کے ساتھ اضافہ کرے گی۔ اگر عوامی ضروریات کے مطابق اس منصوبے کو مسلسل بہتر بنایا گیا تو یہ نہ صرف شہریوں کے روزمرہ سفر کو آسان بنائے گا بلکہ ضلع کی معاشی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار دے گا۔گرین الیکٹرک بسوں کی آمد دراصل اوکاڑہ کے لیے ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ یہ سفر صرف ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا نہیں بلکہ جدید، صاف، محفوظ اور پائیدار شہری زندگی کی جانب پیش قدمی کا سفر ہے۔ اب ذمہ داری متعلقہ اداروں اور شہریوں دونوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس قومی اثاثے کی حفاظت کریں تاکہ آنے والی نسلیں بھی ایک بہتر، صاف ستھرے اور جدید سفری نظام سے مستفید ہو سکیں ٭

اپنا تبصرہ بھیجیں