تحریر: محمد مظہررشید چودھری (03336963372)
کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی امید اس کے بچے ہوتے ہیں۔ یہی بچے مستقبل کے معمار، سائنس دان، ڈاکٹر، استاد، انجینئر، محقق اور رہنما بنتے ہیں۔ والدین اپنی خواہشات قربان کر کے، اپنے آرام اور آسائش کو پسِ پشت ڈال کر اپنے بچوں کو اس امید کے ساتھ تعلیم دلواتے ہیں کہ شاید ان کی آنے والی نسل کی تقدیر بدل جائے۔ مگر جب یہی معصوم بچے کتابیں ہاتھ میں لے کر علم حاصل کرنے نکلیں اور چند گھنٹوں بعد ان کی لاشیں ملبے سے نکالی جائیں تو صرف ایک گھر نہیں اجڑتا، پوری قوم سوگوار ہو جاتی ہے۔لاہور کے علاقے کاہنہ میں نجی ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے چودہ معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع اور متعدد بچوں کا زخمی ہونا صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی اجتماعی غفلت، کمزور نگرانی، ناقص تعمیرات، غربت اور ریاستی بے حسی کا ایسا المیہ ہے جو ہم سب سے جواب مانگ رہا ہے۔ یہ سانحہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ ترقی، تعمیر اور خوشحالی کے دعووں کے باوجود ہم اپنے بچوں کو ایک محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں کس حد تک ناکام ہو چکے ہیں۔تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، لیکن یہ حق اس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب تعلیمی ادارہ ہی موت کا دروازہ بن جائے۔ ہر ماں اپنے بچے کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتی ہے اور ہر باپ اس امید میں دن بھر محنت کرتا ہے کہ اس کا بچہ پڑھ لکھ کر اس کی محرومیوں کا ازالہ کرے گا۔ کاہنہ کے والدین نے بھی یہی خواب دیکھے تھے، مگر ان کے خواب ایک لمحے میں ملبے تلے دب گئے۔عینی شاہدین کے مطابق عمارت پہلے ہی خستہ حال تھی۔ چھت پر مرمت کا کام جاری تھا، اضافی بوجھ موجود تھا اور حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔ اگر صرف چند روز کے لیے کلاسیں معطل کر دی جاتیں، اگر انسانی جانوں کو وقتی مالی نقصان پر ترجیح دی جاتی تو شاید آج کئی گھرانوں کے چراغ نہ بجھتے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں احتیاط اکثر حادثے کے بعد یاد آتی ہے۔اس سانحے کا ایک اور دردناک پہلو غربت ہے۔ یہ بچے کسی امیر خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ ان کے والدین محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کو ٹیوشن بھیجتے تھے تاکہ وہ بہتر تعلیم حاصل کر سکیں۔ مگر جب ریاست معیاری سرکاری تعلیمی نظام فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو غریب آدمی کم فیس والے نجی ٹیوشن سنٹروں کا رخ کرتا ہے، جہاں اکثر حفاظتی انتظامات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی بلکہ انسان کو ایسے فیصلوں پر مجبور کر دیتی ہے جن کی قیمت کبھی کبھی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔سانچ کے قارئین کرام! خاتون ٹیچر انیلا کا اسپتال میں روتے ہوئے صرف ایک جملہ، ’میری بھی ایک بچی ہے‘، پورے سانحے کی شدت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایک استاد اپنے شاگردوں کو صرف کتابیں نہیں پڑھاتا بلکہ ان سے جذباتی رشتہ بھی قائم کرتا ہے۔ اپنے ہی طلبہ کو ملبے تلے دبے دیکھنا کسی بھی استاد کے لیے عمر بھر کا زخم ہے۔ اس سانحے نے بچوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی روحوں کو بھی زخمی کر دیا ہے۔لیکن اس حادثے کے بعد ایک سوال مسلسل ذہن میں گردش کرتا ہے۔ کیا واقعی اس سانحے کا واحد ذمہ دار مکان کا مالک ہے؟ کیا تمام ذمہ داری ایک ایسے شخص کے کندھوں پر ڈال دینا انصاف ہوگا جو خود بھی اسی مکان میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہ رہا تھا؟ اطلاعات کے مطابق وہ فروٹ کی ریڑھی لگا کر رزق کما رہا تھا اور جب اس سے بھی گھر کا خرچ پورا نہ ہوا تو اس کی اہلیہ نے گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دی تاکہ مہنگائی کے اس دور میں بچوں کا پیٹ پال سکیں۔ وہ خاندان خود بھی اسی چھت کے نیچے زندگی گزار رہا تھا جس نے آج ان سے سب کچھ چھین لیا۔ کوئی شخص دانستہ اپنے ہی گھر والوں کو موت کے منہ میں نہیں دھکیلتا۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اگر کسی قسم کی قانونی یا حفاظتی غفلت ہوئی ہے تو اس کا تعین نہ کیا جائے یا ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا نہ دی جائے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ مکمل تحقیقات ہوں اور جہاں قصور ثابت ہو، وہاں قانون حرکت میں آئے۔ مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ ایسے حالات پیدا ہی کیوں ہوتے ہیں جہاں ایک غریب خاندان روزگار اور تعلیم دونوں کے لیے ایک خستہ حال مکان پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے؟اصل ذمہ داری صرف ایک فرد پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اصل ذمہ دار وہ حالات ہیں جو ایک عام آدمی کو غربت، بے بسی اور مجبوری کی دیوار سے لگا دیتے ہیں۔ اصل ذمہ داری ان پالیسی سازوں پر بھی عائد ہوتی ہے جن کی معاشی پالیسیاں عام آدمی کی زندگی کو دن بدن مشکل بناتی جا رہی ہیں۔ جب پٹرول، بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں، جب باعزت روزگار کے مواقع کم ہوتے جائیں، جب تعلیم اور رہائش محفوظ نہ رہیں تو ایسے سانحات محض حادثے نہیں رہتے بلکہ اجتماعی ناکامی کی علامت بن جاتے ہیں۔ریاست کی ذمہ داری صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانا نہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بھی ہے۔ اگر نجی تعلیمی اداروں اور ٹیوشن سینٹروں کی باقاعدہ نگرانی ہوتی، اگر ہر عمارت کا انجینئرنگ فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جاتا، اگر مرمت کے دوران تدریسی سرگرمیوں پر پابندی ہوتی اور اگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرتے تو شاید آج یہ معصوم بچے زندہ ہوتے۔اسلامی تاریخ میں حکمرانی کا ایک ایسا معیار ملتا ہے جو آج بھی ہر صاحبِ اقتدار کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ روایت ہے کہ اگر فرات کے کنارے ایک پیاسا جانور بھی مر جائے تو عادل حکمران خود کو اس کا جواب دہ سمجھتا ہے۔ یہی احساسِ ذمہ داری ریاستوں کو مضبوط اور معاشروں کو محفوظ بناتا ہے۔ پھر جب علم حاصل کرنے والے چودہ معصوم بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو یہ صرف ایک مکان یا ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی، نگرانی اور ریاستی ذمہ داری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔سانچ کے قارئین کرام! اس دل گداز موقع پر پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے جاں بحق بچوں کے ورثا کے لیے بیس لاکھ روپے اور زخمی بچوں کے لیے پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان یقیناً ایک مثبت اور انسانی قدم ہے۔ یہ امداد ان غریب خاندانوں کے لیے سہارا ضرور بنے گی، لیکن حقیقت یہی ہے کہ کوئی مالی معاوضہ ماں کی گود واپس نہیں لا سکتا، باپ کے خواب زندہ نہیں کر سکتا اور بہن بھائیوں کی محرومی کا ازالہ نہیں کر سکتا۔ اصل خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ آئندہ کسی بچے کو ایسی موت نہ مرنا پڑے۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت، متعلقہ ادارے، تعلیمی انتظامیہ، انجینئرنگ محکمے اور مقامی انتظامیہ سب اپنی ذمہ داریوں کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ تمام نجی سکولوں اور ٹیوشن سنٹروں کی رجسٹریشن، عمارتوں کا سالانہ حفاظتی آڈٹ، ایمرجنسی اخراج کے راستے، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور مرمت کے دوران کلاسوں کی بندش کو قانون کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ ساتھ ہی سرکاری تعلیمی نظام کو اس قدر مضبوط کیا جائے کہ کوئی غریب خاندان مجبوری میں غیر محفوظ تعلیمی مراکز کا رخ نہ کرے۔کاہنہ کے یہ معصوم بچے صرف اعداد و شمار نہیں تھے۔ وہ خواب تھے، امیدیں تھے، اپنے والدین کی زندگی بھر کی کمائی اور دعاؤں کا حاصل تھے۔ ان کے بستوں میں کتابیں تھیں، آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب تھے اور دلوں میں کامیابی کی خواہش تھی۔ افسوس کہ وہ خواب ملبے تلے دفن ہو گئے۔اگر اس سانحے کے بعد بھی ہم نے سبق نہ سیکھا، اگر ذمہ داری صرف ایک کمزور شخص کے کندھوں پر ڈال کر نظام کو بری الذمہ قرار دے دیا، اگر پالیسیوں، نگرانی اور قانون پر عمل درآمد کو بہتر نہ بنایا گیا تو کل کسی اور شہر میں کسی اور ماں کی گود اجڑ سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان تمام شہید بچوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمی بچوں کو مکمل صحت عطا فرمائے، متاثرہ خاندانوں کو صبرِ جمیل دے اور ہمارے حکمرانوں، اداروں اور معاشرے کو یہ احساس عطا فرمائے کہ قوموں کا مستقبل صرف عمارتیں بنانے سے نہیں بلکہ اپنے بچوں کی جانوں کی حفاظت سے محفوظ ہوتا ہے۔ آمین٭

