کراچی (اسٹاف رپورٹر) تنظیم الاخوان پاکستان کے تحت ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور موجودہ نظام میں اصلاحات کے حوالے سے تنظیم الاخوان سندھ کے صدر کیپٹن ملک امین کی رہائش گاہ پر سیمینار منعقد ہوا، جس کی صدارت تنظیم الاخوان سندھ کے صدر کیپٹن ملک امین نے کی۔ سیمینار میں سیاسی، سماجی، علمی اور صحافتی شخصیات نے شرکت کی اور ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ موجودہ نظام کی خامیوں اور ان کے تدارک پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
سیمینار میں مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر، کراچی الائنس کے سربراہ محمد اسلم خان، مرکزی مسلم لیگ کے رہنما ندیم اعوان، سابق رکن قومی اسمبلی آفتاب جہانگیر، سابق ڈی ایس پی زاہد حسین، سردار اقبال راشد اعوان، سابق رکن سندھ اسمبلی اقبال قریشی، ڈاکٹر سلمان عامر، ہمایوں افتخار ایڈووکیٹ، ظفر الجمیل شیخ، تحریک عوام پاکستان کے چیئرمین زاہد اعوان، فیصل بلوچ، صحافی احمد ملک، اسلم شاہ سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں اور اہلِ علم نے شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان میں انتظامی امور کو بہتر بنانے، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مسائل کے فوری حل کے لیے نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، تاہم صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ موجودہ انتظامی و حکومتی نظام میں بنیادی اصلاحات اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے بعد عوام کو بہتر انتظامیہ، تعلیم، صحت، روزگار، بلدیاتی سہولیات اور دیگر بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے واضح حکمتِ عملی مرتب کرنا ہوگی۔ صوبوں کی تشکیل کا مقصد محض سیاسی یا انتظامی تقسیم نہیں بلکہ عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات اور انصاف کی فراہمی ہونا چاہیے۔
مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کے موجودہ مسائل محض نظام تبدیل کرنے سے حل نہیں ہوں گے بلکہ نظام کو چلانے کے لیے اہل، باصلاحیت، دیانتدار اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار افراد کا انتخاب بھی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نظام وہی رہے اور اسے چلانے والے نااہل یا بدعنوان ہوں تو نئے صوبے بھی عوام کے مسائل کا مؤثر حل فراہم نہیں کرسکیں گے۔
سیمینار کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو ایک ایسے مؤثر، شفاف اور عوام دوست نظام کی ضرورت ہے جس میں میرٹ، دیانتداری اور قابلیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہو، جبکہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر قومی سطح پر سنجیدہ، بامقصد اور وسیع تر مشاورت کا آغاز کیا جانا چاہیے

