مستونگ(این این این آئی) جمعیت علماء اسلام ضلع مستونگ کیامیر شیخ الحدیث مولانا شبیر احمد عثمانی نے دیگر رہنماؤں نے سراوان پریس کلب مستونگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحصیل کھڈکوچہ کی مقامی آبادیوں، زمینداروں اور باغات مالکان کو جبری بے دخل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کھڈکوچہ کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اس جابرانہ و ظالمانہ اقدام کی ہر فورم پر مخالفت کرے گی پریس کانفرنس میں جمعیت علماء اسلام ضلع مستونگ کینائب ضلعی امیر مولانا اختر محمد پیرکانی، ضلعی نائب امیر،مولانا غلام نبی،مفتی عصمتِ عزیز، قاری عبدالرزاق، مولانا حیات اللہ، قاری عزت اللہ، مولانا شکیل احمد ساجد، مولانا سلیمان، مولانا جان محمد، مولوی نصر اللہ اسماعیل لہڑی، اصغر رئیسانی، شریف اللہ شاہوانی، محمود عزیز، قاری محمد عیسیٰ، حافظ رحیم اللہ، حاجی محمد اقبال، مولانا امان اللہ اور دیگر رہنما موجود تھے۔۔۔رہنماؤں نے کہا کہ جب مقامی انتظامیہ کی جانب سے کھڈکوچہ کی آبادیوں کو 48 گھنٹوں کے اندر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تو علاقے کی تقریباً 80 فیصد آبادی اپنی جان و مال کے تحفظ کی خاطر جوق در جوق نقل مکانی پر مجبور ہوئی۔ اس دوران مستونگ کی مقامی و ضلعی جماعتوں نے جمعیت علماء اسلام کی مرکزی قیادت، خصوصاً مرکزی جنرل سیکرٹری و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے علاقے کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالغفور حیدری نے متعلقہ انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اگر عوام اور زمینداروں کو جبراً ان کے گھروں، زمینوں اور باغات سے بے دخل کیا گیا ہے تو ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، بنیادی سہولیات کی فراہمی کا بندوبست کیا جائے اور مزید آبادی کو جبراً بے دخل کرنے سے حکومت باز رہے۔

