لانگ مارچ سے استحکام نہیں آتا، خوشی ہوگی کہ عمران خان رہا ہو جائیں، شرجیل میمن

کراچی: سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ لانگ مارچ سے استحکام نہیں آتا، ہمیں خوشی ہوگی کہ عمران خان رہا ہو جائیں۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آزادی صحافت میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ کام پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت نے کیا ہے۔ صحافی اور سیاسی جماعت ایک ہی گاڑی کے پہیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور تنقید برداشت کی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے گزشتہ 18 سال سے بہترین کام کیے ہیں، جس سے عوام کو کئی سہولیات ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ وژن کے حوالے سے بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ بریفنگ دے چکے ہیں۔ نومبر میں محکمہ اطلاعات سکھر اور تھرپارکر میں سندھ وژن پر کانفرنس کرنا چاہ رہا ہے، جس میں پاکستان بھر سمیت غیر ملکی صحافیوں کو مدعو کیا جائے گا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ وژن میں سندھ حکومت کے کام دکھائیں گے۔ ہم نے ایسے کام کیے ہیں جنہیں دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے۔ صحت کے ادارے، ہاؤسنگ اسکیمیں اور پبلک پرائیویٹ منصوبے دنیا بھر میں مانے جاتے ہیں۔ ہاؤسنگ سیکٹر میں دنیا میں ہمارا بڑا منصوبہ چل رہا ہے۔ مینگروز میں گرین ورلڈ بک میں حکومت سندھ کا نام آیا ہے۔

سکھر اور تھرپارکر میں 2 تقاریب ہوں گی، جن میں کراچی پریس کلب بھی شامل ہوگا، یہ پروگرام محکمہ اطلاعات سندھ کرے گا۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ اکتوبر میں وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد چین جائے گا۔ 15 اکتوبر کو شنگھائی میں سرمایہ کار کانفرنس ہوگی، جس میں سندھ حکومت بھرپور شرکت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سرمایہ کار سندھ میں سرمایہ کاری کریں، اس سے سندھ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اور معاشی استحکام پاکستان کے لیے ضروری ہے۔ ہمیں صحافت کو مضبوط کرنا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ٹرانسپورٹ کی سہولیات ملی ہیں۔ یونیورسٹی روڈ پر ایک بڑی تنقید تھی، میں نے اس دن بھی کہا تھا کہ 2 ماہ کے بعد کھلے گا۔ وہ ایک ایونٹ تھا، وہ حکومت سندھ کا نہیں تھا۔ انہوں نے شامیانہ لگایا، کرسیاں لگائیں اور ریڈ کارپٹ کا ٹکڑا بھی انہوں نے ہی بچھایا تھا۔ سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلائی گئی۔ یونیورسٹی روڈ اب ٹریفک کا وبال نہیں بنے گا، سائیڈ کے روڈ بنیں گے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ایک ہزار بسیں ہماری پائپ لائن میں ہیں جبکہ ایک سو بسیں آ رہی ہیں۔ یہ نہ رکنے والا سلسلہ ہے ۔ بہتر ٹرانسپورٹ فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ سے استحکام نہیں آتا ۔ لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مہنگائی کے خلاف 9 دن مارچ کیا، ایک جگہ بھی پتھر نہیں لگا اور ایک جگہ بھی روڈ بند نہیں ہوا۔ یہاں لانگ مارچ کے ساتھ ڈنڈے اٹھائے جاتے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت نہیں ہیں، وفاقی حکومت ان سے بات چیت کرکے مسئلہ حل کرے۔ سیاسی کارکن تشدد نہیں کرتا۔ ہمیں خوشی ہوگی کہ عمران خان رہا ہوجائیں۔ ان کو کسی بیک ڈور سہارے کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ ہتھیار اٹھانا اور آگ لگانا سیاست نہیں ہے۔

سندھ حکومت کے صوبوں سے متعلق مؤقف پر شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کا صوبوں پر موقف واضح ہے۔ سندھ اسمبلی قرارداد منظور کرچکی ہے۔ سندھ اسمبلی نے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور کرلی ہے۔ آئین کے تحت صوبہ بنے گا تو سندھ اسمبلی سے بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزرا کے بیانات پر کسی کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ محسن نقوی اور صدر مملکت کے بارے میں مفروضوں پر خبریں چل رہی ہیں۔ بات ہوتی ہے تو غلط خبر ہے۔ غلط خبر چلنے پر پوری فیملی متاثر ہوتی ہے۔ خبر بیشک چلائیں، کسی کی خواہشوں پر خبر نہیں چلنی چاہیے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ اگر کوئی بے بنیاد خبریں چلا رہا ہے تو پریس کلب اور صحافیوں کی یونینز کارروائی کریں۔ جھوٹی خبریں چلانے پر کارروائی ہونی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں