امریکا ایران مذاکرات میں تعطل، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مستحکم

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بدھ کو بڑی حد تک مستحکم رہیں، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں تعطل نے قیمتوں میں ممکنہ کمی کو محدود رکھا۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی سپلائی میں بحالی کے باوجود ایندھن کی محدود دستیابی نے قیمتوں کو سہارا دیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے نومبر کے معاہدے کی قیمت 16 سینٹ یعنی 0.2 فیصد کمی کے بعد 102.43 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ یہ قیمت پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً دوپہر ایک بج کر 11 منٹ پر ریکارڈ کی گئی۔

برینٹ کے زیادہ فعال دسمبر کے معاہدے کی قیمت بھی 18 سینٹ کمی کے بعد 95.98 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 2 سینٹ اضافے کے ساتھ 89.40 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

رائٹرز کے مطابق تیل کی قیمتوں کو ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں خام تیل کی سپلائی بحال ہونے سے دباؤ کا سامنا ہے، لیکن دوسری جانب خطے میں جاری جنگ اور امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی سپلائی اور آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے اہم عوامل بنے ہوئے ہیں۔ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں سپلائی کے حوالے سے خدشات برقرار رہ سکتے ہیں، جس سے قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

دریں اثنا، برینٹ خام تیل رواں ماہ مجموعی طور پر نمایاں اضافے کی جانب گامزن ہے، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں