چینی ہیکرز نے سابق امریکی حکام کا روپ دھار کر امریکی تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں کام کرنے والے اے آئی پالیسی ماہرین کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے.
سائبر سیکیورٹی کمپنی پروف پوائنٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ہیکرز نے وائٹ ہاؤس کے آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کی سابق ڈپٹی ڈائریکٹر لین پارکر اور مشہور اے آئی کمپنی Anthropic کے ملازمین کی جعلی شناخت کا استعمال کیا۔
ہیکرز ہدف بنائے گئے ماہرین کو مصنوعی ذہانت کے فروغ اور باہمی تعاون کی پیشکش پر مبنی جعلی ای میلز بھیجتے ہیں اور پھر انہیں ایسی ویب سائٹس پر لے جاتے ہیں جہاں ان کے لاگ ان پاس ورڈز چوری کر لیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ہیکرز کا بنیادی مقصد براہ راست اے آئی ٹیکنالوجی چوری کرنا نہیں، بلکہ امریکی AI ریگولیشن، ایکسپورٹ کنٹرولز (برآمدی پابندیوں) اور قومی اے آئی حکمت عملی سے متعلق اہم انٹیلی جنس اور حساس معلومات اکٹھی کرنا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس کارروائی کا ذمہ دار چین سے منسلک ہیکنگ گروپ “TA419” کو ٹھہرایا ہے، جو طویل عرصے سے جاپانی اور امریکی دفاعی مہمات اور تھنک ٹینکس کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بیجنگ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی سائبر جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے۔

