آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہاز پر حملہ، نامعلوم پروجیکٹائل لگنے سے آگ بھڑک اٹھی

برطانیہ کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے بعد جہاز کے عملے کے تمام افراد محفوظ رہے۔

برطانیہ کے یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا کہ اسے آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعے کی اطلاع موصول ہوئی جس کے مطابق ٹینکر کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل لگا اور اس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ایجنسی کے مطابق واقعے میں عملے کے محفوظ ہونے کی اطلاع ہے، تاہم ٹینکر کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات فوری طور پر واضح نہیں ہوسکے۔ ایجنسی نے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے احتیاط برتنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔

ابھی تک ٹینکر کا پرچم، اس کی منزل یا روانگی کی بندرگاہ ظاہر نہیں کی گئی، اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ جہاز خام تیل لے کر جارہا تھا یا مائع قدرتی گیس سمیت کوئی دوسری مصنوعات منتقل کر رہا تھا۔ واقعے کی ذمہ داری بھی تاحال کسی گروپ یا ملک نے قبول نہیں کی۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد تجارتی جہازوں کو نامعلوم پروجیکٹائل یا دیگر واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایجنسی کے ریکارڈ کے مطابق ستمبر کے دوران بھی اس آبی گزرگاہ میں متعدد ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں سے متعلق سکیورٹی واقعات رپورٹ ہوئے۔

تازہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی سپلائی پہلے ہی شدید توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ تاہم تازہ حملے کے ذمہ دار کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں