رسول بخش رئیس
سیاست روزِ اول سے تدبیر اور حکمت کی محتاج ہے۔ اب ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وہ روزِ اول کب تھا۔ سیاست کے سب بنیادی اسباق کا تعلق قدیم یونان کے افکار‘ نظریات‘ فلسفوں اور سیاست کے مختلف رنگوں سے ہے۔ حکمت سب کا مرکزی نکتہ رہی ہے۔ اخلاقیات نے کبھی سیاست کا دامن نہیں چھوڑا اور نہ ہی سیاست نے اخلاقیات کو کوڑے دان میں پھینکا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ مختلف ممالک میں مختلف وقتوں میں اور ہر نوع کے حکمرانوں نے اخلاقیات کو پامال تو ضرور کیا ہے مگر اس کے نتائج کچھ مختلف نہیں نکلے۔ اخلاقیات کی سیاسی فلسفوں میں تشریح روزمرہ کے رویوں سے نہیں بلکہ سیاست کے آداب‘ سلیقے‘ اقدار جو کسی آئین کی روح ہوتی ہیں‘ سے سند پاتی ہے۔ جس نے دانائی اور سیاسی اخلاقیات کو ترک کرکے من مانی کی‘ تاریخ میں اس کا انجام ڈھونڈنا کوئی مشکل کام نہیں۔ سیاست میں جذبات کا دخل بچکانہ فعل سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ بس خیالات کا طوفان‘ جس میں آندھی کی سی طاقت تو آپ دیکھ سکتے ہیں مگر روشنی ہوتی ہے نہ کوئی آگے بڑھنے کا راستہ۔ یہ سطور لکھتے وقت خیبر پختونخوا کے دو وزرائے اعلیٰ ‘ علی امین گنڈاپورا اور موجودہ‘ محمد سہیل آفریدی صاحب ذہن میں آتے ہیں ۔ معلوم نہیں یہ ان کی اپنی سوچ رہی ہے یا انہیں کہیں سے ٹاسک ملتا رہا ہے کہ پوری تیاری کرو‘ لوگوں کو جمع کرو اور جو سواری مل جائے‘ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرو۔ ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ لانگ یا شارٹ مارچوں سے نہ ماضی میں کچھ حاصل ہوا ہے اور نہ اب ممکن ہے۔ مقصد تصادم ہے اور ایسی لڑائیاں کم از کم لانگ مارچوں سے نہیں جیتی جا سکتیں۔ لانگ مارچوں کے جواز کے لیے سیاسی مواد ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ گزشتہ ایک مضمون میں پندرہ مارچوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرا چکا ہوں ‘ اگرچہ پندرہویں نمبر کا جماعت اسلامی کا مارچ بھی ہوا میں معلق ہے۔ سولہویں کا آغاز یا انجام ہونے کو ہے۔ یہاں تحریک انصاف کے مطالبات کی جائزیت پر بحث مقصود نہیں۔ جیسا کہ عرض کیا‘ جلسے جلسوں اور تحریکوں کے لیے کسی بھی اینٹ کو اٹھائیں‘ اس کے نیچے آپ کو ان کے حق میں دلیل مل جائے گی۔ میری رائے ان لوگوں سے مختلف نہیں جو کہتے ہیں اور جنہیں یقین بھی ہے کہ انتخابات میں درجہ اول کی ہیری پھری اور سینہ زوری ہوئی تھی۔ بانی اور تحریک کے دیگر رہنمائوں کے خلاف مقدمات کی بھرمار اور پھر عدالتوں کے فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کسی سے پوشیدہ ہے اور نہ ہی کوئی غیر سیاسی اور غیر جانبدار آدمی ایسی جارحانہ کارروائیوں کی حمایت کر سکتا ہے۔ کسی سیاسی رہنما کو قید تنہائی میں رکھنا‘ جیسا کہ اکثر خبروں میں آتا رہتا ہے‘ یا قریبی رشتہ داروں‘ پارٹی کے عہدیداروں اور یہاں تک کہ وکلا تک کو ملنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا منتقم مزاجی کی غمازی کرتا ہے۔ قانون کے مطابق کارروائی بھی اگر بدنیتی پر مبنی ہو یا مقدمات جھوٹے ہوں تو یہ سب آمرانہ رویوں اور ریاستی جبر کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وہ مواد ہے جو تحریک انصاف لوگوں میں جذبات ابھارنے اور انہیں سڑکوں پر لانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ سیاسی تصادم کی فضا پیدا کرنے میں اگرچہ ذمہ داری کا تعین کرنا ہماری تاریخ میں بظاہر مشکل رہا ہے مگر اتنا مشکل بھی نہیں۔ حالات کو خراب کرنے میں ہمیشہ حکومتِ وقت کی دھونس‘ دھاندلی اور غیر جمہوری رویہ اور حزب اختلاف کے ساتھ کبھی نامناسب تو کبھی ظالمانہ برتاؤ بنیادی وجہ رہا ہے۔ موجودہ وفاقی حکومت اور اس کے سیاسی اتحادی بشمول پیپلز پارٹی‘ مانیں نہ مانیں سیاسی دال جو گزشتہ انتخابات میں تیار ہوئی اور جس میں بعد میں ”متفقہ‘‘ آئینی ترامیم کے مسالا جات سیاسی ذائقہ حسبِ شوق رکھنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں‘ اس میں کچھ کالا کسی کی نظر سے اوجھل نہیں رہا۔ اقتدار اور موروثی سیاست کے کئی ایسے ادوار ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں مگر اس مرتبہ صورت حال بہت مختلف ہے۔ ہمارے تغیر پذیر سماجی ڈھانچے‘ معیشت کی خرابی‘ آبادی کے پھیلاؤ‘ سکڑتے ہوئے وسائل اور آبادی میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے تناسب نے جس انداز میں سیاسی حرکیات کو متاثر کیا ہے اس کا ادراک ہمارے حکمران طبقات کو شاید نہیں۔ اب بھی ایسا لگتا ہے کہ ان سب تبدیلیوں کے باوجود ان کے ذہنی رجحانات نصف صدی پرانے ہیں۔ معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نہ ان میں وہ فکری صلاحیت ہے نہ تدبیر کا ہنر‘ اور نہ ہی ان سیاسی جماعتوں نے ایسے ادارے قائم کیے ہیں جو انہیں سماجی تبدیلیوں اور عام فکری رویوں پر اپنی چھاپ سے آگاہ کر سکیں۔ سب سیاسی لکیر کے فقیر معلوم ہوتے ہیں۔ بیشک منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بھی بول لیں۔ اب بات یہ ہے کہ سیاست نارمل نہ ہو‘ حالات اور حکمرانوں کے مزاج بگڑے ہوں اور یہاں تک کہ آئین اور عدلیہ کے فیصلوں کا احترام نہ رہے تو حزب اختلاف اور عوام پھر کیا کریں؟ مزاحمت جس میں دھرنے اور لانگ مارچ شامل ہیں اور یہاں تک کہ حکومت کی برخاستگی کے ردعمل میں مسلح جدوجہد بھی ہم نے دیکھی ہے۔ دکھ کی بات ہے کہ نہ ہمارے حکمرانوں اور حکومتوں نے کچھ گزرے وقتوں اپنے جیسے گرجتے برستے اہلِ اقتدار کے انجام سے سبق سیکھا اور نہ نئی سیاسی مزاحمت کو سڑکوں اور دھرنوں میں تبدیل کرنے والوں نے۔ مینڈک گول کنویں میں چکر لگاتے اپنی زندگیاں گنواتے رہتے ہیں۔
پوری قوم نہ جانے کب سے تماشائی ہے۔ یہ درویش تو فطری اور پیدائشی طور پر تماشائی ہے‘ مگر اتنا ڈرپوک کہ جہاں لانگ مارچوں اور جلسوں کے لیے میدان سجتا ہے‘ گھر میں محبوس ہو جاتا ہے اور اگر کہیں سے کنٹینر کھسکا ہوا ہو تو شہر سے راہِ فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت گردانتا ہے۔ سیاست نارمل نہیں مگر حزبِ اختلاف کا ردعمل بھی نارمل نہیں۔ کوئی ان صاحبانِ بصیرت اور جہاندیدہ لوگوں سے پوچھے کہ آپ اسلام آباد پر چڑھائی کرکے کیا حاصل کر لیں گے۔ مزاحمت کے طور طریقے اور اس کا فکری اسلوب اور تاریخ کی گواہی ان کے حق میں درکار ہو تو کچھ تاریخ کی کتابیں کھول کر دیکھ لیں۔ عام لوگوں کی زندگیوں اور ان کے روزمرہ کے کاموں‘ کاروبار اور آمدو رفت میں خلل ڈالنا کہاں کا انصاف ہے؟ ہماری تاریخ کے بڑے بڑے سیاست بازوں اور سیاسی فنکاروں نے اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے نوجوانوں کے جذبات کو ابھار کر انہیں خطرات کی آگ میں دھکیلنے سے گریز نہیں کیا۔ طالب علمی کے زمانے سے دیکھتا آیا ہوں کہ کیسے بیچارے غریب خاندانوں کے بچے تشدد کی سیاست کی نذر ہو گئے۔ اب بھی ہو رہے ہیں۔ کم از کم مرکزی دھارے کی سیاست کے کھلاڑیوں کو نوجوانوں کی جان بخشی کرنی چاہیے۔ سب کو معلوم ہے کہ اگر وہ اسلام آباد پر یلغار کریں گے تو آگے دوسرے بھی تیار بیٹھے ہیں۔ زیادہ امید تو نہیں کہ حالات اس نہج تک پہنچیں گے مگر نعرہ بازی‘ جذباتیت اور مبینہ ناانصافیوں کو انصاف کے اپنے یک رخی رنگ میں رنگنے کی کاوش حکمرانوں کی کوتاہ بینی اور خود غرضی کی سیاست سے کچھ کم نہیں۔ گزشتہ تین دنوں میں جو مذاکرات ہوئے ہم امید لگائے بیٹھے تھے کہ دونوں جانب سے حکمت اور دور اندیشی کا شاید مظاہرہ کیا جائے گا اور ہو سکتا ہے آخری وقت تک مارچ کرنے والے دریا کے اُس پار نعرہ بازی کرنے اور اپنی فتح کا اعلان کرنے پر اکتفا کریں۔ دوسری صورت میں آنے والے واقعات کے بارے میں لکھنے سے قلم معذور ہے مگر خطرات کے بادل اسلام آباد کی فضائوں میں منڈلا رہے ہیں۔ سب کے لیے عقل اور حکمت سے کام لینے کی دعا ہے۔
Load/Hide Comments

