مسائل کیوں نہیں حل ہو رہے؟ … (2)

محمد اظہارالحق
چوتھا بڑا مسئلہ جو مصیبت بن کر ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے‘ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ہم بکری کی حفاظت کیلئے شیر کو بھرتی کرتے ہیں۔ چھیچھڑوں پر بلی کو پہریدار بناتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی کئی خوفناک مثالیں ہیں۔ بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے ہر حکومت میں کمیشن بنتے رہے ہیں۔ تقریباً ہر بار ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کو کمیشن کا چیئرمین بنایا جاتا ہے۔ وہ بیورو کریسی سے نکل گئے مگر بیوروکریسی ان کے اندر سے نہ نکلی۔ جیسے ایک نیم سیاسی‘ نیم مذہبی جماعت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بندہ اس میں سے نکل جاتا ہے مگر وہ بندے میں سے نہیں نکلتی۔ میرے جیسا شخص گاؤں سے نکلتا ہے مگر گاؤں اس میں سے نہیں نکلتا۔ ڈاکٹر عشرت حسین واقعی قابل شخص ہیں‘ مگر ہیں اصلاً بیورو کریٹ!! چینی کا مسئلہ دیکھ لیجیے۔ صرف شوگر مافیا کہنے سے مسئلہ نہیں حل ہو گا۔ ہر سال یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔ پہلے چینی برآمد ہوتی ہے‘ پھر درآمد کی جاتی ہے۔ چینی مافیا کے ارکان کو اربوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ عام صارف لہو لہان ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ فیصلے کرنے میں وہ طاقتور لوگ شامل ہوتے ہیں جن کے چینی کے کارخانے ہیں! انصاف یا عوامی مفاد سے ان کا تعلق اتنا ہی ہے جتنا پوپ کا اسلام سے ہے! انہوں نے فیصلہ اپنے حق میں کرنا ہے اور کرتے رہیں گے۔ سب سے زیادہ ہولناک اور عبرتناک مثال بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (آئی پی پیز) کی ہے۔ ذرا تھوڑی سی تکلیف کر کے دیکھیے یہ کمپنیاں کن کن افراد کی ہیں؟ یہ انہی اربابِ قضا و قدر کی ملکیت میں ہیں جو اس سلسلے میں پالیسیاں بناتے ہیں اور فیصلے صادر کرتے ہیں۔ کیا کوئی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار ے گا؟ کیا اپنے بچوں اور اپنے اعزہ و اقربا کے خلاف فیصلے کرے گا؟ آپ نے سینکڑوں بار پڑھا اور سنا ہو گا کہ پولیس کے ملازموں سے جرم سرزد ہو تو پولیس ہی کے افراد انکوائری پر مقرر کیے جاتے ہیں۔ مفادات کے ٹکراؤ کی بدترین مثال سالِ رواں کے جون میں سپریم جوڈیشل کونسل کا وہ فیصلہ ہے جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج کے خلاف دائر کی گئی شکایت پر کیا گیا تھا۔ اخبارات میں شائع شدہ تفصیل کے مطابق معروف وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم نے سپریم جوڈیشل کونسل کے حضور کیس دائر کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فلاں جج کا سو لہ سالہ بیٹا ایک بڑی گاڑی (ایس یو وی) چلارہا تھا کہ دو لڑکیاں اس کی گاڑی کے نیچے آکر ہلاک ہو گئیں۔ مگر جج نے اپنی سرکاری پوزیشن کا غلط استعمال کر کے اور دباؤ ڈال کر بیٹے کو بچا لیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے یہ درخواست خارج کر دی لیکن خارج کرنے کی وجوہات نہ بتائیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان ججوں پر ہی مشتمل ہوتے ہیں۔ بے حسی کی انتہا دیکھیے کہ شکایت وجہ بتائے بغیر خارج کرنے کی یہ خبر روزنامہ دنیا کے علاوہ کسی اردو اخبار نے شائع ہی نہیں کی۔ مفادات کا ٹکراؤ ہمیں ہر جگہ اس ملک کو پیچھے دھکیلتا نظر آتا ہے۔ بدقسمتی سے صنعتی پالیسی کی تشکیل میں صنعتکار بیٹھے ہوتے ہیں۔ زرعی پالیسی بنانے میں وہ وزیر شامل ہوتے ہیں جو خود وڈیرے ہیں۔ اگر یہی ہوتا رہا تو یہ ملک مافیاز اور گروہوں کے ہاتھوں میں یرغمال ہی رہے گا۔
پانچواں بڑا مسئلہ سزاؤں کا نہ ہونا ہے یا سزاؤں کا بہت کم ہونا ہے۔ آپ چاہیں تو اس مسئلے کو نظامِ عدل سے ملا لیں یا انتظامیہ سے‘ جس میں پولیس شامل ہے۔ طاقتوروں کیلئے سزاؤں کا وجود ہی نہیں۔ اگر آپ وڈیرے ہیں یا سیاستدان یا بلوچ سردار تو قتل ایک نہیں کئی کریں‘ آپ کا بال بھی کوئی نہیں بیکا کر سکتا۔ منصفوں کی اولاد کو کھلی چھٹی ہے کہ غریبوں کے بچوں کو قیمتی گاڑیوں کے نیچے کچل دیں۔ کراچی میں ایک بڑے برانڈ والوں کی بہو نے آدھی فیملی مار دی۔ کوئی سزا نہیں ملی۔ طاقتور حکمران کے نواسے کو چھوڑ دیا گیا۔ ظاہر جعفر صاحب زندہ و سلامت ہیں۔ ایک نہیں کئی ظاہر جعفر جرم کر کے کھلے دندناتے پھر رہے ہیں۔ بے شمار ایسی مثالیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ من حیث القوم ہماری ہلاکت کا فیصلہ آسمانوں میں ہو چکا ہے۔ ”تم سے پہلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں جب ان کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی سا آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی‘‘۔ یہ جو نام نہاد دہشت گردی ہے‘ یہ جو بلوچستان کی صورتحال ہے‘ یہ جو مہنگائی کا عفریت منہ پھاڑے کھڑا ہے‘ یہ جو ہر مرد اور ہر عورت ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں‘ یہ سب ہلاکت کے پیش خیمے ہیں۔ چیلنج ہے کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کسی کچہری سے زمین یا مکان کا انتقال رشوت دیے بغیر کرا کے دکھا دیں۔ ترقیاتی اداروں سے مکان کا نقشہ رشوت دیے بغیر پاس کرا کے دکھا دیجیے۔ حکمرانوں کی ناک کے عین نیچے جرائم ہو رہے ہیں۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ کوئی سزا نہیں۔ جہاں سزائیں موجود ہیں وہاں سزائیں بہت کم ہیں۔ سزاؤں کا کم ہونا جرائم کا خاتمہ نہیں کر سکتا۔ لاکھوں لوگ ٹرالیوں‘ ٹریکٹروں اور ڈمپروں کے نیچے کچلے جا چکے ہیں۔ یہ کالم نگار اس قتلِ عام کے خلاف کئی کالم لکھ چکا۔ سوائے حافظ نعیم صاحب کے کسی سیاستدان نے اس بربریت کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ ان ڈرائیوروں کو کوئی سزا نہیں ملتی۔ ہمارے ملک میں دنیا کا بدترین ٹریفک سسٹم ہے۔ اس لیے کہ سزائیں کم ہیں۔ چالان ہوتا ہے تو چند سو کی رقم کا جرمانہ ہوتا ہے۔ ایک قریبی عزیزہ کا امریکہ میں چالان ہوا تو چار سو ڈالر کی سزا ملی۔ ہوش ٹھکانے آ گئے۔ بڑے بڑے مجرم بھاؤ تاؤ کر کے بچ جاتے ہیں۔ اربوں کی لوٹ مار ہے تو چند کروڑ واپس دے کر باقی زندگی آزاد پھرتے ہیں۔
کیا یہی پانچ مسائل ہیں جو ہمیں لاحق ہیں؟ نہیں! قارئین حق بجانب ہوں گے اگر کہیں کہ مسائل کے تو انبار لگے ہیں۔ مولانا ظفر علی خان یاد آ گئے:
حذر ہیں اور بھی واجب مگر کہاں تک میں
بتائے جاؤں گا تم کو فلاں فلاں سے بچو
مگر کہیں سے تو تطہیر کی ابتدا ہونی ہے۔ مندرجہ بالا پانچ مسائل ہی حل کر دیجیے تو بہت سے دیگر مسئلے خود ہی ان کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ ایک غلط کار شخص ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اصلاح کی گزارش کی۔ حضرت نے صرف اتنا فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ کہنے لگا جی بہتر! یہ کون سا مشکل کام ہے‘ مگر دو چار دن میں بے شمار عاداتِ بد چھوڑنا پڑیں۔ یہ رقم کہاں سے آئی ہے؟ رات کہاں تھے؟ ڈاکا مارا؟ جھوٹ بول نہیں سکتا تھا۔ جرائم سے بھی توبہ کر لی۔ تین چار مسئلوں کا خاتمہ بھی بڑی بات ہے۔ مگر طوطی کی آواز نقار خانے میں کس نے سننی ہے۔ میں نے لکھ دیا۔ آپ نے پڑھ لیا۔ مسائل کا حل جن کی جیب میں ہے وہ کہاں پڑھیں گے۔ کسی نے غلطی سے پڑھ بھی لیا تو زہر خند کے ساتھ لکھے کو دیوانے کی بڑ قرار دیں گے! اقتدار کی کرسی دنیا کی بہترین لکڑی سے بھی بنائیں تو بھی اسے گھمنڈ کی دیمک ضرور لگتی ہے! اس کرسی پر بیٹھنے والوں کی آنکھوں میں ناقابلِ علاج قسم کا موتیا اُتر آجاتا ہے جس کے کارن انہیں ہر طرف اپنی ہی تصویر نظر آتی ہے۔ پھولوں کے ہار سے لدی ہوئی تصویر! مگر تا بکے؟ کب تک؟ تم ایک جہاز سے اترتے ہو تو دوسرا منتظر ہوتا ہے۔ تمہارے دسترخوانوں پر ماکولات اور مشروبات کا شمار ہی ممکن نہیں جبکہ خلقِ خدا علاج کیلئے‘ روٹی کیلئے‘ انصاف کیلئے ترس رہی ہے۔ آہ!! ”مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے‘‘۔ (الشعرا)

اپنا تبصرہ بھیجیں