حوثیوں کے سعودی عرب پر مسلسل حملوں اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو بڑھتے خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً دو ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کو عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر 24 سینٹ اضافے کے بعد 106.19 ڈالر فی بیرل ہوگئی جو 29 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
امریکا کا عالمی معیار کا خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی ایک ڈالر 11 سینٹ، یعنی 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 92.96 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی جس میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اس حالیہ بڑے اضافے کی وجہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔ آبنائے ہرمز مکمل بند اور باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی ہے۔
یاد رہے کہ حوثیوں نے ہفتے کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اسی طرح گزشتہ پیر کو ریاض کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کے ایک اور حملے میں پائلٹ جاں بحق جبکہ 11 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر رواں ماہ بڑھتے حملے بھی عالمی منڈی کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ ان واقعات سے ستمبر میں مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں ہونے والی بحالی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی ڈیزل کی نئی برآمدات اور روس یوکرین توانائی جنگ بندی کی پیش رفت کو سراہنے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا۔

