اسلام آباد: وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے لیے درخواستوں پر کارروائی کا دورانیہ کم کرکے 15 کاروباری دن تک محدود کر دیا گیا جب کہ دستاویزات کی تعداد 25 سے کم کرکے صرف 5 کر دی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزیراعظم اپنا گھر، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی اور مالی وسائل تک رسائی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، عطاء اللہ تارڑ، ریاض حسین پیر زادہ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی ، جے ایس بینک، عسکری بینک، الائیڈ بینک، حبیب میٹرو بینک، بینک آف خیبر اور ایم سی بی اسلامک بینک کے سی ای اوز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
اجلاس کو ہاؤسنگ، زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی کے اعداد وشمار پیش کیے گئے۔ بتایا گیا کہ بینکوں کی جانب سے تینوں ترجیحی شعبوں کے لیے ادارہ جاتی استعداد بڑھائی جا رہی ہے، ڈیویلپرز فنانس کے فروغ کے لیے کام جاری ہے اور اس ضمن میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت اب تک 448 ارب روپے مالیت کے 75 ہزار 198 قرضوں کی منظوری ہوئی ہے، اب تک 14 ہزار افراد کو 76 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، رواں سال 125,000 رہائشی یونٹس کے لیے 700 ارب روپے کے قرضوں کی فراہمی کا ہدف رکھا گیا ہے، ہاؤسنگ فنانس کے حوالے سے درخواستوں پر کارروائی کا دورانیہ کم کرکے صرف 15 کاروباری دن تک محدود کر دیا گیا ہے، ہاؤسنگ فنانس کے لیے دستاویزات کی تعداد 25 سے کم کرکے صرف 5 کر دی گئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے کے لیے قرضوں کا مجموعی حجم 1352 ارب روپے ہے، جس سے 34 لاکھ 55 ہزار افراد مستفید ہوئے، جون 2027 تک زرعی قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والوں کی تعداد 45 لاکھ کا ہدف مقرر ہے، ایس ایم ای شعبے کے 3 لاکھ 52 ہزار سے زائد کاروباری افراد کو 1,137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جون 2027 تک ایس ایم ای شعبے کے قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کی تعداد 5 لاکھ 75 ہزار کا ہدف مقرر ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ ایس ایم ایز کے لیے نظرثانی شدہ ضوابط اور ہاؤسنگ فنانس کے طریقہ کار کو مزید آسان اور مؤثر بنانے کےلئے اقدامات لئے جارہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپنا گھر، ایس ایم ایز اور زراعت کے شعبوں کو قرضوں کی بروقت فراہمی ملکی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔
وزیراعظم نے قومی تعمیر و ترقی کے لیے ان ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی اور کہا کہ جن بینکوں کی کارکردگی اب تک غیر تسلی بخش ہے وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں تاکہ انکو بھی حکومتی حوصلہ افزائی ملے۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں، سیکرٹریز اور اسٹیٹ بینک کو ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ فنانس کے شعبوں سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہدایت کی اور کہا کہ جاری اسکیموں کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز حاصل کی جائیں۔
وزیراعظم نے مشاورتی عمل رواں ماہ کے اختتام تک مکمل کرکے سفارشات پیش کرنے، غیر فعال پاسکو کے گوداموں اور سائلوز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی ہدایت کی اور کہا کہ ان گوداموں اور سائلوز کی نجی شعبے کے تعاون سے کسانوں کی اجناس محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھائی جائے۔
وزیراعظم نے الائیڈ بینک کے اجناس کے ذخیرے کے گوداموں کے قیام اور ذخیرہ شدہ اجناس کے عوض کسانوں کو قرضوں کی فراہمی کے ماڈل کی پذیرائی کی، وزیراعظم نے اس ماڈل کو نجی شعبے کی شمولیت سے وسعت دینے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے الائیڈ بینک کے مجوزہ ایس ایم ای پارک کے قیام کےلئے سرمایہ کاری کے منصوبے کی بھی پذیرائی کی، وزیراعظم نے اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم سے مستفید ہونے کے متمنی افراد کے لیے کوائف فراہم کرنے کا عمل مزید آسان کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ہاؤسنگ فنانس کے لیے غیر متنازع ملکیتی دستاویزات (Unencumbered Title Deed) کا حصول آسان بنایا جائے۔
وزیراعظم نے ڈیویلپرز فنانس سے متعلق کمیٹی کی سفارشات کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر پیش کرنے کی ہدایت کی۔

