پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے، جس سے بچاؤ پولیو ویکسین کے دو قطرے پلانے سے ممکن ہے الیاس کبزئی

سیوی (نامہ نگار) پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے، جس سے بچاؤ پولیو ویکسین کے دو قطرے پلانے سے ممکن ہے ۔ والدین 2 نومبر سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے دوران اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو ویکسین کے دو قطرے لازمی پلوائیں تاکہ مستقبل کے معماروں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے پولیو کے خاتمے اور عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لیے منعقدہ آگاہی واک کے دوران میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی سربراہی میں پولیو کے خاتمے اور ویکسین کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف محکموں کے افسران، طلباء اور شہریوں نے شرکت کی۔ واک کا مقصد عوام میں پولیو کے خلاف شعور بیدار کرنا اور والدین کو بچوں کی ویکسینیشن کی اہمیت سے آگاہ کرنا تھا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر الیاس کبزئی نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج مرض ہے، جو بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے دوچار کر سکتا ہے، تاہم بروقت ویکسینیشن کے ذریعے بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ پولیو ویکسین کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت نہ برتیں اور ہر مہم کے دوران اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں انہوں نے بتایا کہ ضلع سیوی میں 2 نومبر سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے دوران مجموعی طور پر 43 ہزار 178 بچوں اور بچیوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ یہ مہم 6 نومبر تک جاری رہے گی انہوں نے متعلقہ حکام اور مہم میں حصہ لینے والے عملے پر زور دیا کہ وہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے ڈپٹی کمشنر نے میڈیا نمائندگان، والدین، علمائے کرام اور علاقائی معتبرین سے اپیل کی کہ وہ پولیو کے خاتمے کی قومی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں، عوام میں شعور بیدار کریں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں تعاون کریں تاکہ ضلع سیوی کو پولیو سے پاک بنانے اور بچوں کے روشن مستقبل کو محفوظ بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں