کوئٹہ(این این آئی) کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت کوئٹہ ڈویژن میں پولیو کی مجموعی صورتحال اور آئندہ پولیو مہم کے انتظامات کے حوالے سے ڈویژنل ٹاسک فورس آن لائن اجلاس منعقد ہوا، جس میں پولیو مہم کی کارکردگی، مسڈ چلڈرن، ریفیوزلز، نو ڈوز بچوں کی کوریج، سکیورٹی، مانیٹرنگ اور ویکسینیشن کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈویژنل کوآرڈینیٹر ٹاسک فورس ڈاکٹر صفدر،اے سی او ڈاکٹر عزیز احمد،اے سی او محمد سہیل احمد،ڈویژنل آفیسر ڈاکٹر امداد علی کے علاؤہ ڈبلیو ایچ او اور دیگر اداروں کے افسران موجود تھے جبکہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی،ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام خان کے علاؤہ صوبائی کوآرڈینیٹر ای پی ائی بلوچستان ڈاکٹر آفتاب کاکڑ،ڈی ایچ اوز،ڈپٹی ڈی ایچ اوز،یونیسیف،نیشنل پروگرام،ڈبلیو ایچ او اور دیگر اداروں کے افسران نے آن لائن اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ مسڈ چلڈرن، ریفیوزلز اور نو ڈوز بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور آئندہ پولیو مہم سے قبل ٹیموں کی تربیت کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔ کمشنر نے کہا کہ جن یونین کونسلز میں ریفیوزلز کی تعداد زیادہ ہے، وہاں ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ضرورت کے مطابق نئی ٹیمیں تعینات کی جائیں۔ مستونگ میں نو ڈوز بچوں کی زیادہ تعداد کے پیشِ نظر مہم کی منصوبہ بندی پر نظرثانی کرنے اور کوریج بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ زیرو ڈوز بچوں کی تعداد 10 ہزار سے کم ہو کر 8 ہزار 708 رہ گئی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ بار بار رہ جانے والے بچوں کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کرنے، مستقل مسڈ بچوں کی نشاندہی اور ان تک رسائی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ جن یونین کونسلز میں سکیورٹی یا رسائی کے مسائل کے باعث مانیٹرنگ نہیں ہو رہی، وہاں متعلقہ حکام مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔کمشنر ذیشان لاشاری نے ہدایت کی کہ کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی یونین کونسلز کی الگ الگ جانچ پڑتال کی جائے اور متعلقہ افسران سے کارکردگی کے بارے میں وضاحت طلب کی جائے۔ انہوں نے پولیو مہم کے دوران ٹیموں کی تربیت، نگرانی اور فیلڈ میں عملی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں صوبائی کوآرڈینیٹر بلوچستان ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے ای پی آئی پروگرام کی گزشتہ دو ماہ کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ میں ویکسینیشن کوریج کے بعض اشاریوں میں بہتری آئی ہے، تاہم مستونگ سمیت مختلف علاقوں میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی ٹیکوں کی کوریج، ڈیٹا انٹری، ڈراپ آؤٹ اور زیرو ڈوز بچوں کے اعدادوشمار میں بہتری لانا ضروری ہے۔ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے کوئٹہ میں خسرے کے کیسز کے تناظر میں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بڑھانے، بروقت ڈیٹا انٹری اور فیلڈ ریکارڈ کی درستگی یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کو بنیادی مراکزِ صحت کے دورے کرنے، ادویات کی دستیابی اور عملے کی حاضری چیک کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ویکسینیٹرز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ زیرو ڈوز بچوں کو ویکسین نہ لگانے یا مقررہ اہداف حاصل نہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔ متعلقہ حکام کو ویکسینیٹرز کی فہرستیں حاصل کرکے ان کے اہداف اور کارکردگی کی تصدیق کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ای پی آئی پروگرام کو مؤثر بنانا، حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بڑھانا، درست اعدادوشمار مرتب کرنا اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

