سیاسی اختلاف کا جواب کردارکشی اور پروپیگنڈے سے دینا دلیل کی کمزوری اور سیاسی دیوالیہ پن کا مظہر ہے،مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد محمد حسنی، مولانا سعید احمد، حافظ سراج الدین، مفتی محمد روزی خان بادیزئی، مولانا محمد شعیب جدون، رحیم الدین ایڈووکیٹ اور مولانا محمد عارف شمشیر نے کہا ہے کہ قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈا مہم اور کردارکشی کے لیے مخصوص عناصر کو استعمال کرنا جمہوری اقدار کی صریح نفی اور قابلِ مذمت طرزِ عمل ہے۔ سیاسی مخالفین کو دبانے اور ان کی آواز خاموش کرنے کے لیے منفی مہمات کا سہارا لینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ آئین کی بالادستی، جمہوریت اور عوام کے حقِ حکمرانی کی بات کی ہے، یہی اصولی سیاست مخالف قوتوں کو کھٹکتی ہے۔ قائدِ جمعیت کے خلاف زہر افشانی کرنے والے عناصر پہلے اپنے کردار اور طرزِ عمل کا جائزہ لیں پھر دوسروں پر انگلی اٹھائیں سیاسی اختلاف کا جواب کردارکشی اور پروپیگنڈے سے دینا دراصل دلیل کی کمزوری اور سیاسی دیوالیہ پن کا مظہر ہے۔ رہنماؤں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ قائدِ جمعیت کے خلاف کسی بھی منفی مہم کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جمعیت علماء اسلام کا ہر کارکن اپنے قائد کے دفاع جماعت کے نظریاتی تشخص اور اصولی مؤقف کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہے کسی قسم کا دباؤ قبول کیا جائے گا نہ پروپیگنڈے سے مرعوب ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں