بن احسان گرین سٹی فیز ون اور گرین ویلی کا حالیہ تنازع سے کوئی تعلق نہیں، فہد احسان

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے منیجنگ ڈائریکٹر فہد احسان نے کہا ہے کہ بن احسان گرین سٹی فیز ون اور بن احسان گرین ویلی کا حالیہ تنازع سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ امروہہ، براڈوے اور گلستان سے متعلق معاملات قانونی نوٹسز اور دستاویزات کی روشنی میں متعلقہ قانونی فورمز پر طے ہوں گے۔ ان منصوبوں کے الاٹیز کا زیر بحث تنازع سے کوئی واسطہ نہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے سربراہ فیصل احسان اور اپنی وکلا ٹیم کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
فہد احسان نے حالیہ واقعات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے حوالے سے ادارے کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ بن احسان گرین سٹی فیز ون اور بن احسان گرین ویلی کے منصوبوں میں سید محمد نقی نہ تو کوئی شیئر ہولڈر ہیں اور نہ ہی کسی حیثیت سے شریک ہیں۔ ان منصوبوں پر کام ادارے کے ریکارڈ اور قانونی تقاضوں کے مطابق جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیر بحث معاملات کا تعلق صرف تین منصوبوں، امروہہ، براڈوے اور گلستان سے ہے، جن کے حوالے سے قانونی نوٹسز موصول ہوئے ہیں اور ان کے جوابات قانونی دائرے میں رہتے ہوئے دیے جا رہے ہیں۔
امروہہ بلاک کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ زمین کے مالکان سے تقریباً 180 ایکڑ اراضی کا سودا طے پایا تھا، جس کی ادائیگی کی ذمہ داری سید محمد نقی پر عائد تھی۔ ان کے بقول، زمین مالکان کے مطابق بار بار تقاضوں کے باوجود طے شدہ رقم ادا نہیں کی گئی، جس کے باعث زمین کا معاملہ تاحال زیر التوا ہے۔
براڈوے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے زیر غور انتظام سرمایہ کی فراہمی سے مشروط تھا، تاہم مطلوبہ سرمایہ فراہم نہ ہونے کے باعث یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
گلستان کے حوالے سے فہد احسان نے واضح کیا کہ یہ بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کا منصوبہ نہیں ہے۔ ادارے نے نہ تو اسے لانچ کیا، نہ اس کی ملکیت تسلیم کی اور نہ ہی اس منصوبے کے نام پر کسی سے کوئی رقم وصول کی۔ اگر کسی فرد نے گلستان کے بروشر یا لین دین میں ادارے کا نام یا لوگو استعمال کیا ہے تو یہ ادارے کی اجازت کے بغیر کیا گیا، جس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ صرف اس رقم کا ذمہ دار ہے جو اس کے باقاعدہ اکاؤنٹ میں ادارے کی مستند رسید کے ذریعے جمع ہوئی ہو۔ امروہہ، براڈوے یا گلستان کے نام پر وصول کی گئی ایسی کسی رقم کا، جو ادارے کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوئی، حساب متعلقہ قانونی فورم پر پیش کیا جائے گا۔
فہد احسان کے مطابق ادارے کے عملے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 28 اکتوبر 2026ء کو بڑی تعداد میں افراد مبینہ طور پر بغیر اجازت ادارے کے دفتر میں داخل ہوئے، فرنیچر کو نقصان پہنچایا اور ادارے کے ساتھ کام کرنے والے ایک نقشہ نویس سے ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا۔ ان کے بقول، اس واقعے کے حوالے سے پولیس کو تحریری درخواست دے دی گئی ہے اور قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کو 21 اکتوبر 2026ء کو ایک قانونی نوٹس موصول ہوا تھا، جس کا جواب ادارے کے قانونی مشیر کے ذریعے دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی نوٹس کسی ایک فریق کا دعویٰ ہوتا ہے، حتمی فیصلہ نہیں، اور ادارہ ہر دعوے کا جواب متعلقہ فورم پر دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ دے گا۔
انہوں نے الاٹیز کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کی صورت میں الاٹیز اپنے دستاویزات کے ہمراہ ادارے کے دفتر میں قائم ڈیسک سے تصدیق کروا سکتے ہیں۔ کسی بھی ادائیگی سے قبل یہ اطمینان کر لیا جائے کہ رسید ادارے کی جانب سے جاری کردہ ہے اور رقم ادارے کے باقاعدہ اکاؤنٹ میں جمع ہو رہی ہے۔
فہد احسان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ادارے کے دفتر اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یکطرفہ ویڈیوز کی بنیاد پر خبر نشر کرنے سے قبل متعلقہ ادارے کا موقف ضرور حاصل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز اپنے تمام قانونی حقوق محفوظ رکھتا ہے۔
فوٹو کیپشن: بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے منیجنگ ڈائریکٹر فہد احسان کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ادارے کے سربراہ فیصل احسان اور وکلا ٹیم کے ارکان بھی موجود ہیں۔
بن احسان گرین سٹی فیز ون اور گرین ویلی کا حالیہ تنازع سے کوئی تعلق نہیں، فہد احسان
امروہہ، براڈوے اور گلستان کے معاملات قانونی فورمز پر طے ہوں گے، ادارے کا مؤقف؛ غیر مجاز لین دین سے لاتعلقی کا اظہار، شفاف تحقیقات کا مطالبہ:
بن احسان بلڈرز کا امروہہ، براڈوے اور گلستان تنازع سے متعلق وضاحتی بیان: گرین سٹی فیز ون اور گرین ویلی کے الاٹیز کا تنازع سے کوئی تعلق نہیں، تمام معاملات دستاویزی شواہد کے ساتھ قانونی فورمز پر پیش کریں گے، فہد احسان
امروہہ، براڈوے اور گلستان کے معاملات قانونی فورمز پر طے ہوں گے، کسی بھی رقم کی ذمہ داری صرف ادارے کی باقاعدہ رسید اور اکاؤنٹ میں جمع شدہ ادائیگی تک محدود ہے، کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے منیجنگ ڈائریکٹر فہد احسان نے کہا ہے کہ بن احسان گرین سٹی فیز ون اور بن احسان گرین ویلی کا حالیہ تنازع سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ امروہہ، براڈوے اور گلستان سے متعلق معاملات قانونی نوٹسز اور دستاویزات کی روشنی میں متعلقہ قانونی فورمز پر طے ہوں گے۔ ان منصوبوں کے الاٹیز کا زیر بحث تنازع سے کوئی واسطہ نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے سربراہ فیصل احسان اور اپنی وکلا ٹیم کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔فہد احسان نے حالیہ واقعات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے حوالے سے ادارے کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ بن احسان گرین سٹی فیز ون اور بن احسان گرین ویلی کے منصوبوں میں سید محمد نقی نہ تو کوئی شیئر ہولڈر ہیں اور نہ ہی کسی حیثیت سے شریک ہیں۔ ان منصوبوں پر کام ادارے کے ریکارڈ اور قانونی تقاضوں کے مطابق جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ زیر بحث معاملات کا تعلق صرف تین منصوبوں، امروہہ، براڈوے اور گلستان سے ہے، جن کے حوالے سے قانونی نوٹسز موصول ہوئے ہیں اور ان کے جوابات قانونی دائرے میں رہتے ہوئے دیے جا رہے ہیں۔امروہہ بلاک کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ زمین کے مالکان سے تقریباً 180 ایکڑ اراضی کا سودا طے پایا تھا، جس کی ادائیگی کی ذمہ داری سید محمد نقی پر عائد تھی۔ ان کے بقول، زمین مالکان کے مطابق بار بار تقاضوں کے باوجود طے شدہ رقم ادا نہیں کی گئی، جس کے باعث زمین کا معاملہ تاحال زیر التوا ہے۔براڈوے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے زیر غور انتظام سرمایہ کی فراہمی سے مشروط تھا، تاہم مطلوبہ سرمایہ فراہم نہ ہونے کے باعث یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
گلستان کے حوالے سے فہد احسان نے واضح کیا کہ یہ بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کا منصوبہ نہیں ہے۔ ادارے نے نہ تو اسے لانچ کیا، نہ اس کی ملکیت تسلیم کی اور نہ ہی اس منصوبے کے نام پر کسی سے کوئی رقم وصول کی۔ اگر کسی فرد نے گلستان کے بروشر یا لین دین میں ادارے کا نام یا لوگو استعمال کیا ہے تو یہ ادارے کی اجازت کے بغیر کیا گیا، جس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ صرف اس رقم کا ذمہ دار ہے جو اس کے باقاعدہ اکاؤنٹ میں ادارے کی مستند رسید کے ذریعے جمع ہوئی ہو۔ امروہہ، براڈوے یا گلستان کے نام پر وصول کی گئی ایسی کسی رقم کا، جو ادارے کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوئی، حساب متعلقہ قانونی فورم پر پیش کیا جائے گا۔فہد احسان کے مطابق ادارے کے عملے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 28 اکتوبر 2026ء کو بڑی تعداد میں افراد مبینہ طور پر بغیر اجازت ادارے کے دفتر میں داخل ہوئے، فرنیچر کو نقصان پہنچایا اور ادارے کے ساتھ کام کرنے والے ایک نقشہ نویس سے ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا۔ ان کے بقول، اس واقعے کے حوالے سے پولیس کو تحریری درخواست دے دی گئی ہے اور قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کو 21 اکتوبر 2026ء کو ایک قانونی نوٹس موصول ہوا تھا، جس کا جواب ادارے کے قانونی مشیر کے ذریعے دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی نوٹس کسی ایک فریق کا دعویٰ ہوتا ہے، حتمی فیصلہ نہیں، اور ادارہ ہر دعوے کا جواب متعلقہ فورم پر دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ دے گا۔انہوں نے الاٹیز کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کی صورت میں الاٹیز اپنے دستاویزات کے ہمراہ ادارے کے دفتر میں قائم ڈیسک سے تصدیق کروا سکتے ہیں۔ کسی بھی ادائیگی سے قبل یہ اطمینان کر لیا جائے کہ رسید ادارے کی جانب سے جاری کردہ ہے اور رقم ادارے کے باقاعدہ اکاؤنٹ میں جمع ہو رہی ہے۔فہد احسان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ادارے کے دفتر اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یکطرفہ ویڈیوز کی بنیاد پر خبر نشر کرنے سے قبل متعلقہ ادارے کا موقف ضرور حاصل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز اپنے تمام قانونی حقوق محفوظ رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں