کنساس: امریکی ریاست کنساس میں ڈیموکریٹ امیدوار اور پادری ایڈم ہیملٹن نے ری پبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دے کر تاریخ رقم کردی۔
1932 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کنساس سے کسی ڈیموکریٹ امیدوار نے امریکی سینیٹ کی نشست جیتی ہے۔
ایڈم ہیملٹن نے 51.1 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف اور موجودہ سینیٹر راجر مارشل کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کنساس کو اس سال غیر متوقع طور پر سخت انتخابی مقابلے والی ریاستوں میں شمار کیا جارہا تھا۔
62 سالہ ہیملٹن طویل عرصے سے پادری ہیں اور کنساس سٹی کے علاقے میں قائم یونائیٹڈ میتھوڈسٹ چرچ آف دی ریزرکشن کی سربراہی کرتے ہیں، جو امریکا کی سب سے بڑی میتھوڈسٹ جماعتوں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی کامیابی کی تقریر میں بائبل کے حوالے دیے اور نیک سلوک کے اصول پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن میں سیاست دان دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو وہ اپنے لیے چاہتے ہیں تو امریکی پالیسیاں اور سیاسی ماحول مختلف ہوسکتا ہے۔
کنساس میں انتخابی مقابلہ سخت ہونے کی ایک بڑی وجہ ایندھن اور کھاد کی بڑھتی قیمتیں بھی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث ڈیزل اور کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے زرعی شعبے سے وابستہ افراد متاثر ہوئے۔
کنساس کی معیشت میں زراعت کا اہم کردار ہے اور ریاست کا تقریباً 88 فیصد رقبہ زرعی زمین پر مشتمل ہے۔ ہیملٹن نے انتخابی مہم کے دوران مہنگائی میں کمی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا اور دی گارڈین کو انٹرویو میں کہا کہ ان کی اولین ترجیح ایران جنگ ختم کرانا ہوگی۔
انہوں نے خود کو معتدل خیالات رکھنے والا ڈیموکریٹ قرار دیا اور دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان کو مل کر مسائل حل کرنے کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ری پبلکن سینیٹر جیری موران کے ساتھ بھی مل کر کام کریں گے، جو کنساس کی دوسری سینیٹ نشست پر فائز ہیں۔
66 سالہ راجر مارشل 2021 سے کنساس کے سینیٹر تھے اور اس سے قبل دو مرتبہ ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ ان کی انتخابی مہم کے دوران مریضوں سے واجبات کی وصولی کے لیے دائر مقدمات کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔
رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ مارشل نے اپنے متعدد مریضوں کے خلاف علاج کے واجبات کی عدم ادائیگی پر مقدمات دائر کیے تھے، جن میں سے بعض افراد عدالتی پیشیوں سے غیر حاضر رہنے پر گرفتار بھی ہوئے۔
ہیملٹن نے انتخابی مہم میں عوام کے لیے زیادہ قابلِ رسائی رہنے اور سیاسی اختلافات کے باوجود مسائل کے حل کے لیے تعاون کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کی کامیابی کو کنساس میں ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

