خاران (رپورٹ محمدعیسی محمدحسنی )بیوہ کی قربانیوں سے بچوں کی کامیابی تک:
ضلع خاران کی ماہ بی بی کی لازوال جدوجہد
یہ رخشان ڈویژن، بلوچستان کے ضلع خاران کے ایک دور آفتادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی غیور اور مایہ ناز خاتون کی سچی کامیابی کی کہانی (Success Story) ہے، جس نے جوانی میں شوہر کے انتقال کے بعد نہ صرف نامساعد حالات کا دلیری سے مقابلہ کیا، بلکہ اپنی انتھک محنت سے بچوں کو اعلیٰ مقام تک پہنچا کر پورے علاقے کے لیے ایک روشن مثال قائم کی۔
موضوع: بیوگی کے بعد معاشی جدوجہد، تعلیم کی اہمیت، اور خواتین کی خودمختاری
1۔ پس منظر اور کڑا وقت
ماہ بی بی کی زندگی کا آغاز انتہائی کٹھن حالات میں ہوا۔ ابھی ان کے تینوں بچے بہت چھوٹے تھے کہ ان کے شوہر کا جوانی میں ہی انتقال ہو گیا۔ دورِ حاضر کے اس پسماندہ دیہی علاقے میں، جہاں روزگار کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے، ایک بیوہ خاتون کے لیے تین بچوں کی کفالت کرنا اور انہیں ایک باوقار زندگی دینا کسی بڑے چیلنج سے کم نہ تھا۔
2۔ رزقِ حلال کے لیے ابتدائی جدوجہد
شوہر کی وفات کے بعد ماہ بی بی نے حالات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے محنت مزدوری کا راستہ چنا۔ انہوں نے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے گاؤں کے میر و معتبرین کے گھروں میں روٹی پکانے کا کام شروع کیا۔
* وہ دن بھر معتبرین کے گھروں پر سخت محنت کرتیں اور شام کو وہاں سے ملنے والی روٹی اور کھانا لا کر اپنے یتیم بچوں کو کھلاتیں۔
* اس شدید غربت اور معاشی تنگی کے باوجود انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی بچوں کو مانگنے پر مجبور کیا۔ ان کا واحد مقصد بچوں کو پڑھا لکھ کر ایک اچھا انسان بنانا تھا۔
3۔ تعلیم کی تکمیل اور لیڈی ہیلتھ ورکر (LHW) کی نوکری
ماہ بی بی کے اندر آگے بڑھنے اور اپنے حالات بدلنے کی سچی تڑپ موجود تھی۔ بچوں کو پالنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی تعلیم کو بھی دوبارہ شروع کیا اور میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
میٹرک کی اسی تعلیمی بنیاد پر ان کی محنت رنگ لائی اور انہیں محکمہ صحت میں بطور لیڈی ہیلتھ ورکر (LHW) کی ملازم رکھ لیا گیا۔ اس نوکری نے ان کی زندگی میں ایک بڑا معاشی سہارا دیا اور وہ گاؤں گاؤں جا کر خواتین اور بچوں کی صحت کے حوالے سے خدمات سرانجام دینے لگیں، جس سے ان کی آمدنی میں کچھ استحکام آیا۔
4۔ پہلے اور تیسرے بیٹے کی پولیس میں شمولیت
ماہ بی بی کا سب سے بڑا خواب اپنے بچوں کو برسرِ روزگار دیکھنا تھا۔ انہوں نے اپنے سب سے بڑے بیٹے کو بڑی تنگی ترشی سے پڑھایا جس نے ایف ایس سی (FSc) پاس کی۔ اس کے بعد اس بیٹے نے محکمہ صحت میں بطور ڈسپنسر کا امتحان پاس کیا ۔ وہ اس وقت محکمہ صحت میں بطور ڈسپنسر اپنے علاقے کے لوگوں کے خدمت کررہے ہیں
حیرت انگیز طور پر، ماں کی تربیت کا اثر دیکھیے کہ ماہ بی بی کے تیسرے (سب سے چھوٹے) بیٹے نے محکمہ ایجوکیشن میں بطور ٹیچر جوائن کر لی۔ اب ماہ بی بی کے بیٹے اچھے عہدوں پر فائز ہیں، جس سے گھر کا معاشی نظام مکمل طور پر بدل چکا ہے۔
ماہ بی بی کا ایک بیٹا پڑھائی میں انتہائی ذہین تھا۔ انہوں نے اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے کوئٹہ بھیجا جہاں اس نے بلوچستان یونیورسٹی سے بی بی اے (BBA) کی ڈگری مکمل کی۔
اپنی قابلیت اور والدہ کی دعاؤں کی بدولت اب اس دوسرے بیٹے کا انتخاب اعلیٰ تعلیم کے اسکالرشپ لیے جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں ہو چکا ہے، اور وہ مزید پڑھائی اور روشن مستقبل کے لیے جرمنی روانگی کی تیاریوں کے آخری مراحل میں ہے۔ یہ ماہ بی بی کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔
6۔ روایات کے برعکس بیٹی کی اعلیٰ تعلیم
عام طور پر ہمارے روایتی بلوچ معاشرے میں بچیوں کی تعلیم پر اس طرح توجہ نہیں دی جاتی، لیکن ماہ بی بی نے اس فرسودہ سوچ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی برابر موقع فراہم کیا، اور ان کی بیٹی اس وقت بلوچستان یونیورسٹی سے بی ایس آرٹس (BS Arts) کی تعلیم حاصل کر رہی ہے تاکہ وہ بھی پڑھ لکھ کر معاشرے کا ایک کارآمد حصہ بن سکے۔
7۔ کامیابی کا نتیجہ اور موجودہ صورتحال
آج ماہ بی بی کا گھرانہ الحمدللہ ایک خوشحال اور معزز زندگی گزار رہا ہے۔ جس خاتون نے کبھی دوسروں کے گھروں میں روٹیاں پکا کر بچوں کو پالا تھا، آج اس کے بیٹے ان کے معاشی سہارا بنے ہوئے ہیں، ایک بیٹا بین الاقوامی سطح پر جرمنی جا رہا ہے اور بیٹی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہے۔
اسی معاشی اور سماجی استحکام کی بدولت ماہ بی بی نے حال ہی میں اپنے بڑے بیٹے کی دھوم دھام سے شادی بھی کروائی ہے، اور اب ان کا گھر خوشیوں کا گہوارہ بن چکا ہے۔
8۔ کیس اسٹڈی کے اہم نتائج اور اسباق
* عزمِ مصمم: ماہ بی بی کی کہانی یہ سکھاتی ہے کہ بیوگی یا غربت کسی عورت کی کامیابی کے آڑے نہیں آ سکتی اگر اس کے ارادے مضبوط ہوں۔
* تعلیم کی طاقت: میٹرک کی ڈگری نے ماہ بی بی کو ہیلتھ ورکر کی نوکری دلائی، جس نے ان کے بچوں کی یونیورسٹی اور تک رسائی کو ممکن بنایا۔
* علاقائی فخر: ضلع خاران جیسے پسماندہ علاقے سے بچوں کا اچھے عہدوں پر فائز اور جرمنی تک پہنچنا پورے رخشان ڈویژن کے لیے فخر کا باعث ہے۔
رازداری کا نوٹ: سچی معلومات اور خاندانی وقار و تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے “ماہ بی بی” کا نام فرضی استعمال کیا گیا ہے۔ رخشان ڈویژن کے زمینی حقائق کے مطابق اس کہانی کو ترتیب دیا گیا ہے، تاہم کسی بھی قسم کی آفیشل اشاعت یا تشہیر سے قبل متعلقہ خاندان کی باخبر رضامندی لازمی ہے۔

