آزادیٔ صحافت پر قدغنیں، صحافیوں کی برطرفیوں اور معاشی استحصال کے خلاف تربت پریس کلب کے زیر اہتمام احتجاج

تربت (رپورٹر) ملک بھر کی طرح تربت میں بھی آزادیٔ صحافت پر پابندیوں، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی برطرفیوں، معاشی استحصال اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں درپیش مشکلات کے خلاف تربت پریس کلب کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

منگل کے روز دوپہر دو بجے تربت پریس کلب کے سامنے منعقدہ احتجاج میں صحافیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر شرکت کی جب کہ پریس کلب کی عمارت پر سیاہ پرچم بھی لہرایا گیا۔ اس موقع پر تربت پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی، سابق صدر طارق مسعود اور صحافی الطاف بلیدی نے خطاب کیا۔

مقررین نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی جانب سے آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پیش کیے گئے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صحافیوں کو مختلف نوعیت کے دباؤ، پابندیوں اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے جب کہ میڈیا اداروں میں ملازمت کے تحفظ اور معاشی حقوق کی صورتحال بھی تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحافی اپنی زندگی کے قیمتی سال، پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور تجربات کسی میڈیا ادارے کو دیتے ہیں لیکن بعض میڈیا مالکان کی جانب سے بغیر کسی معقول وجہ کے انہیں ملازمت سے فارغ کرکے بے روزگار کردیا جاتا ہے۔ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ایسی برطرفیاں نہ صرف ان کے معاشی مستقبل کو متاثر کرتی ہیں بلکہ صحافتی شعبے میں عدم تحفظ اور بے یقینی کو بھی جنم دیتی ہیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو میڈیا مالکان کی انتظامی آمریت اور جبر کے ساتھ ساتھ آزادیٔ اظہار پر قدغنوں کا بھی سامنا ہے۔ صحافیوں کی تنخواہوں اور واجبات کی بروقت ادائیگی، ملازمت کا تحفظ اور پیشہ ورانہ آزادی یقینی بنانا میڈیا اداروں اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔

احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ میڈیا اداروں سے برطرف کیے گئے صحافیوں اور ملازمین کو بحال کیا جائے، تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، صحافیوں کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے پیکا (PECA) ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے، بلوچستان سمیت ملک بھر میں صحافیوں کے خلاف قائم مقدمات ختم کرنے، آزادیٔ صحافت پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور ٹی وی چینلز کے انتظامی دفاتر کی بندش کا معاملہ حل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافتی تنظیمیں صحافیوں کے پیشہ ورانہ، معاشی اور بنیادی حقوق کے تحفظ، میڈیا اداروں کی خودمختاری اور ملک میں آزادانہ صحافت کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں