اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی اور زیتون کی فصل کی کٹائی میں مدد کے لیے آنے والے 14 غیر ملکی انسانی حقوق کے رضاکاروں کو فوری ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی حکام نے جمعے کے روز رام اللہ کے قریب ایک واقعے کے بعد ان رضاکاروں کو گرفتار کیا تھا جہاں مبینہ طور پر ان کی اسرائیلی آبادکاروں کے ساتھ تلخ کلامی اور جھڑپ ہوئی تھی۔
ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز فنڈ کے مطابق یہ رضاکار فلسطینی کسانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں اسرائیلی آبادکاروں کے مبینہ حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے مغربی کنارے پہنچے تھے۔
رضاکاروں کا مقصد فلسطینی کسانوں کو زیتون کی سالانہ فصل کی کٹائی کے دوران تحفظ فراہم کرنا تھا۔
رواں سیزن میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی کسانوں پر حملوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں کسانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ان کی فصلیں چرانے کے واقعات بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا مؤقف ہے کہ گرفتار غیر ملکی کارکنوں پر امن عامہ میں خلل ڈالنے کا شبہ تھا اور تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وہ اسرائیل مخالف میڈیا مہم چلانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ پولیس کے مطابق بعض کارکن بائیکاٹ، ڈیویسٹمنٹ اینڈ سینکشنز (بی ڈی ایس) تحریک کے حامی بھی ہیں۔
فلسطینی کارکنوں کی تنظیم فضاعہ کے مطابق اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 17 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں 12 غیر ملکی رضاکار، دو غیر ملکی صحافی اور تین فلسطینی شامل تھے۔
اسرائیلی حکام نے غیر ملکی کارکنوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ گرفتار فلسطینیوں کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل فلسطینی کسانوں کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ ہے تاہم آبادکاروں کے حملوں اور زرعی زمینوں تک رسائی میں رکاوٹوں کے باعث کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

