تحریر:خان فہد خان
بین الاقوامی سیاست میں تعلقات کبھی مستقل نہیں رہتے۔ مفادات کی بنیاد پر دوستیاں اور دوریاں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں بھارت اور چین کے تعلقات میں بتدریج قربت جبکہ بھارت اور امریکہ کے درمیان دوریوں میں اضافہ عالمی منظرنامے پر ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف ایشیائی خطے کی سفارت کاری اور معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ مستقبل میں عالمی طاقت کے توازن کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ تغیرات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے قومی مفادات براہِ راست اس نئی صورتحال سے جڑے ہوئے ہیں۔موجودہ دور میں عالمی سیاست کے تیز رفتار تغیرات نے ایشیا کو دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ چین اور بھارت دو بڑی طاقتیں ہیں جو اپنی آبادی، معیشت اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ حالیہ برسوں میں بھارت اور چین کے تعلقات میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف دونوں ممالک اپنے کئی تنازعات اور اختلافات کے باوجود معاشی قربت بڑھا رہے ہیں۔بھارت اپنی صنعت، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور مشینری کی ضرورت ہے۔ چین اس ضرورت کو پورا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ چین بھارت کو الیکٹرانکس، موبائل پرزہ جات، فارماسیوٹیکل اجزاء اور مختلف صنعتی سامان کم لاگت پر فراہم کرتا ہے، جس سے بھارت کی تجارتی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مالی سال 2024-25میں بھارت اور چین کے درمیان تجارت کا حجم 127 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گیا، جو بھارت کے کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ تجارتی حجم سے کہیں زیادہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ، جغرافیائی اور علاقائی عوامل بھی دونوں ممالک کو قریب لاتے ہیں۔ بھارت اور چین ایک دوسرے کے ساتھ طویل سرحد بانٹتے ہیں، لہٰذا تعلقات رکھنا ان کی جغرافیائی مجبوری بھی ہے۔ مزید برآں، دونوں ممالک عالمی اور علاقائی پلیٹ فارمز جیسے BRICS اورSCOمیں مل کر کام کرتے ہیں، جس سے نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی تعاون کے نئے راستے کھل رہے ہیں۔حال ہی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کیلئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چین کے دورے پر نظر آئے۔ اس دورے پر جانے سے قبل ہی بھارتی وزیراعظم نے چینی شہریوں پر بھارت کے ویزے کی پابندی ختم کرتے ہوئے بھارت اور چین کے درمیان ڈائریکٹ فلائٹس شروع کرنے کا بھی اعلان کر دیا تھا۔ سرحدی علاقوں میں بارڈر ٹریڈ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ان تمام معاملات میں بہتری آنے پر کہا جاسکتا ہے کہ بیجنگ جانے سے قبل بھارت نے چین سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے کافی کام کیا۔ بھارت یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن قائم رکھے اور صرف امریکہ پر انحصار نہ کرے۔ چین کے ساتھ تعلقات کو بڑھانا اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ عالمی سیاست میں بھارت ایک متوازن کردار ادا کر سکے۔توانائی اور قدرتی وسائل کی ضرورت بھی بھارت کو چین کے قریب کرتی جا رہی ہے۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بھارت کے چین سے تعلقات بڑھانے کی بنیادی وجوہات توانائی اور وسائل کی طلب، علاقائی سیاست میں توازن قائم رکھناہے لیکن امریکہ سے تجارتی ٹیرف کے حوالے سے چلتاتنازعہ بھی ان تعلقات کے بہتر ہونے کی وجوہات میں شامل ہے۔اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مسابقت اور تنازعات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر مفاد پر مبنی تعلقات انہیں ایک دوسرے کے قریب ہونے پر مجبور کررہے ہیں۔چین اوربھارت میں بڑھتی قربت ایک عالمی منظرنامے میں مثبت تبدیلی ہے اور کسی حد تک خطے کو اسکا فائدہ ہوگا وہیں پاکستان میں تشویش پائی جارہی ہے کہ اگر بھارت اور چین کے تعلقات مزید گہرے ہوتے ہیں تو پاکستان کی سفارتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، کیونکہ چین اپنے معاشی مفاد کے لیے بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔بھارت پاکستان سے بڑی منڈی ہے تو چین اپنی توانائیاں پاکستان کے بجائے بھارت پر زیادہ مرکوز کر سکتا ہے، جس سے سی پیک کے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس طرح بظاہر پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ موجودہے۔پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بھارت پہلے ہی خطے میں ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اگر چین بھی بھارت کے ساتھ زیادہ قریب ہوتا ہے تو خطے میں طاقت کا توازن مزید بھارت کے حق میں جھک سکتا ہے، جس سے پاکستان کی سلامتی اور دفاعی حکمتِ عملی پر براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ تمام خدشات اپنی جگہ درست ہیں لیکن اس بدلتی صورت حال کے باوجود بھی پاکستان کی پوزیشن کمزور نہیں ہوسکتی کیونکہ بھارت اگرچہ چین کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات بڑھا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تاریخی سرحدی تنازعات اور اسٹریٹجک مسابقت ختم نہیں ہوئی۔ چین کے دفاعی اور علاقائی مفادات پاکستان کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں، اس لیے چین کے لیے پاکستان ایک ناگزیر شراکت دار رہے اور رہے گا۔لہذٰا اس تناظر میں پاکستان اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔اسی طرح امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتی دوریاں پاکستان کو ایک اور اہم موقع فراہم کرتی ہیں۔ امریکہ خطے میں اپنے اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار تلاش کرے گا، اور پاکستان اگر اپنی سفارت کاری کو مؤثر انداز میں آگے بڑھائے تو وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں نئی جہت پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو تجارتی رعایت، ٹیکنالوجی و تعلیمی شعبہ میں تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ عالمی تبدیلیاں پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہیں۔ اگر پاکستان معاشی اصلاحات کرے، اپنی سفارت کاری کومزید بہتر انداز میں فعال بنائے اور چین و امریکہ دونوں کے ساتھ مفاد پر مبنی تعلقات قائم رکھے تو یہ صورتحال پاکستان کو نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک زیادہ مؤثر اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر ابھار سکتی ہے۔

