تحریر:رشیداحمدنعیم
سڑک پر نکلتے ہوئے انسان اپنی منزل کے بارے میں تو سوچتا ہے مگر انجام کے بارے میں کم ہی غور کرتا ہے حالانکہ ایک لمحے کی غفلت پوری زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔ جدید دور میں ٹریفک حادثات دنیا بھر میں اموات اور معذوری کی ایک بڑی وجہ بن چکے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے جہاں موٹر سائیکل عام سواری ہے اور حفاظتی اقدامات کو اکثر غیر ضروری سمجھ لیا جاتا ہے۔ انہی حفاظتی اقدامات میں سب سے سادہ مگر سب سے مؤثر ذریعہ ہیلمٹ ہے جو بظاہر ایک معمولی سا حفاظتی سامان دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں یہ انسانی زندگی کا خاموش محافظ ہے۔ہیلمٹ محض ایک قانون کی پابندی نہیں بلکہ شعور،ذمہ داری اور اپنی جان کی قدر کا عملی اظہار ہے۔یہ مضمون ہیلمٹ کی افادیت،اس کے سائنسی کردار، اس کی عدم موجودگی میں پیش آنے والے خطرات اور ان مشکلات کا احاطہ کرتا ہے جن سے انسان کو حادثے کے وقت ہیلمٹ نہ پہننے کی صورت میں سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انسانی جسم میں سر سب سے نازک اور اہم حصہ ہے۔ دماغ ہی وہ مرکز ہے جہاں سے پورے جسم کا نظام چلتا ہے۔ معمولی ضرب بھی دماغی چوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔
ٹریفک حادثات میں سب سے زیادہ ضرب سر پر ہی پڑتی ہے کیونکہ گرنے کی صورت میں جسم کا توازن بگڑتے ہی سر زمین یا کسی سخت چیز سے ٹکراتا ہے۔ ایسے میں اگر سر ننگا ہو تو شدید چوٹ یقینی ہو جاتی ہے۔ ہیلمٹ اسی لمحے ایک ڈھال کا کردار ادا کرتا ہے جو ضرب کی شدت کو جذب کر کے دماغ تک پہنچنے والے نقصان کو کم کر دیتا ہے۔سائنسی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ ہیلمٹ پہننے سے سر پر لگنے والی مہلک چوٹوں کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے۔ ہیلمٹ کا بیرونی سخت خول ضرب کو پھیلا دیتا ہے جبکہ اندر موجود نرم تہہ جھٹکے کو جذب کر کے دماغ کو براہ راست صدمے سے بچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہیلمٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور وہاں حادثات میں اموات کی شرح نسبتاً کم ہے۔ہیلمٹ کا کردار صرف حادثے کے بعد نہیں بلکہ حادثے کے دوران ہی فعال ہو جاتا ہے۔جب موٹر سائیکل سوار توازن کھو بیٹھتا ہے تو چند سیکنڈ میں سب کچھ غیرمتوازن ہو جاتا ہے۔ اس لمحے انسان کے پاس کوئی دوسرا حفاظتی ذریعہ نہیں ہوتا۔ اگر ہیلمٹ موجود ہو تو یہی چند سیکنڈ زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کر دیتے ہیں۔ ہیلمٹ نہ صرف سر کو بچاتا ہے بلکہ چہرے، آنکھوں،جبڑے اور گردن کے ابتدائی حصے کو بھی جزوی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ہیلمٹ نہ پہننے کی صورت میں حادثات کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ سر پر شدید چوٹ دماغی سوجن، اندرونی خون بہنے، یادداشت کے خاتمے، مستقل معذوری یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔
بہت سے افراد حادثے کے بعد زندگی تو بچا لیتے ہیں مگر عمر بھر کے لیے وہیل چیئر یا دوسروں کے سہارے کے محتاج بن جاتے ہیں۔ یہ سب وہ مشکلات ہیں جو ایک ہیلمٹ نہ پہننے کے فیصلے کا نتیجہ بن سکتی ہیں۔حادثے کے وقت جب سر براہ راست زمین یا کسی گاڑی سے ٹکراتا ہے تو کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹ سکتی ہے۔ دماغ کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور اعصابی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسے مریضوں کا علاج نہایت مہنگا طویل اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ خاندان پر مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے اور ایک فعال فرد معاشرے پر بوجھ بن سکتا ہے۔ یہ سب مسائل محض چند لمحوں کی لاپرواہی سے جنم لیتے ہیں۔ہیلمٹ ہمیں صرف شدید حادثات میں ہی نہیں بلکہ معمولی پھسلن یا اچانک بریک لگنے کے نتیجے میں گرنے سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اکثر لوگ یہ سوچ کر ہیلمٹ نہیں پہنتے کہ وہ آہستہ چل رہے ہیں یا راستہ قریب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر حادثات کم رفتار پر اور مختصر فاصلے کے دوران ہی پیش آتے ہیں۔ ایسے میں ہیلمٹ ہی وہ واحد چیز ہے جو غیر متوقع خطرے کو کم کر سکتی ہے۔ایک معیاری ہیلمٹ میں چند بنیادی خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔ اس کا بیرونی خول مضبوط ہو۔اندرونی تہہ جھٹکا جذب کرنے والی ہو۔ پٹہ مضبوطی سے بندھنے کے قابل ہو تاکہ حادثے کے وقت ہیلمٹ سر سے نہ اترے۔ شفاف شیشہ آنکھوں کو گرد و غبار اور کیڑوں سے بچاتا ہے جبکہ ہیلمٹ چہرے کو بھی محفوظ بناتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات مل کر ہیلمٹ کو ایک مکمل حفاظتی نظام بناتی ہیں۔ہیلمٹ کا درست استعمال بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اس کا پہننا۔ ڈھیلا ہیلمٹ یا بغیر بندھے ہوئے پٹے کے ساتھ پہننا اس کی افادیت کو کم کر دیتا ہے۔ حادثے کے وقت ایسا ہیلمٹ سر سے اتر سکتا ہے اور مطلوبہ تحفظ فراہم نہیں کر پاتا اس لیے ضروری ہے کہ ہیلمٹ سر کے سائز کے مطابق ہو اور ہر سفر سے پہلے اسے درست طریقے سے باندھا جائے۔
پاکستان میں ہیلمٹ کے استعمال کو اکثر محض جرمانے سے بچنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی سوچ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک ہیلمٹ کو اپنی جان کی حفاظت کا وسیلہ نہیں سمجھا جائے گا تب تک حادثات میں کمی ممکن نہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو شروع سے ہیلمٹ پہننے کی عادت ڈالیں تاکہ یہ عمل مجبوری نہیں بلکہ معمول بن جائے۔میڈیا اور قومی اخبارات کا بھی اس حوالے سے اہم کردار ہے۔ صحافتی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ ہیلمٹ کی افادیت کو محض خبروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ فکری اور شعوری مضامین کے ذریعے عوام میں یہ احساس اجاگر کیا جائے کہ ہیلمٹ زندگی کا محافظ ہے۔ حادثات کی رپورٹس میں اگر ہیلمٹ کے استعمال یا عدم استعمال کا ذکر باقاعدگی سے کیا جائے تو اس سے بھی شعور بیدار ہو سکتا ہے۔ یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ ہیلمٹ صرف موٹر سائیکل سواروں تک محدود نہیں بلکہ سائیکل سوار، تعمیراتی کام کرنے والے اور دیگر خطرناک پیشوں سے وابستہ افراد کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ہر وہ جگہ جہاں سر کو چوٹ لگنے کا اندیشہ ہو وہاں ہیلمٹ ایک خاموش محافظ کی طرح انسان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ہیلمٹ کوئی اضافی بوجھ نہیں بلکہ زندگی کی ضمانت ہے۔ یہ ایک ایسا ساتھی ہے جو بولتا نہیں مگر حادثے کے لمحے سب سے زیادہ کام آتا ہے۔ چند منٹ کی بے آرامی یا ظاہری بے ترتیبی کے بدلے پوری زندگی کا تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم خود بھی ہیلمٹ پہنیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ہیلمٹ پہننا خوف کی علامت نہیں بلکہ شعور کی دلیل ہے۔جو قومیں اپنی جان کی قدر کرنا سیکھ لیتی ہیں وہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک ذمہ دار معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں ہیلمٹ کو قانون کی مجبوری نہیں بلکہ زندگی کے محافظ کے طور پر اپنانا ہوگا کیونکہ ایک محفوظ سر ہی ایک محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے

