تحریر:مفتی سید نوازش علی نجفی
آپؑ سلسلہ امامت کے نویں چراغ تھے۔ آپؑ کی ولادتِ باسعادت 10 رجب 195 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی، اور شہادت 29 ذیقعدہ کو زہر کے سبب سے ہوئی۔ آپؑ کو عراق کے شہر کاظمین میں دفن کیا گیا۔ یہ مقام آج بھی لاکھوں زائرین کے لیے مرکزِ سکون ہے۔ آپؑ کا نام محمد، کنیت ابوجعفر، لقب تقی جواد ہے۔ والدِ گرامی حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور والدہ ماجدہ حضرت سبیکہ خاتون تھیں، جو تقویٰ و طہارت میں ممتاز تھیں۔ آپؑ کا سلسلہ? نسب رسولِ اکرم ص سے جا ملتا ہے، جو آپؑ کے روحانی مقام کی بنیاد ہے۔ آپؑ نے ایک ایسے علمی و روحانی ماحول میں پرورش پائی جہاں علم محض معلومات نہیں بلکہ ہدایت کا ذریعہ تھا۔ یہی پس منظر آپؑ کی شخصیت میں غیر معمولی پختگی کا سبب بنا۔ آپؑ کی عمر مبارک 25 سال تھی۔
اہلِ بیتِ اطہارؑ کی تاریخ میں حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ذات ایک منفرد شان رکھتی ہے۔ آپؑ نے نہایت کم عمری میں امامت کی ذمہ داری سنبھالی اور علم، تقویٰ اور حکمت کے ذریعے ایسے نقوش چھوڑے جو رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپؑ کی زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ منصبِ امامت اللہ کی عطا ہے، جو عمر یا ظاہری اسباب کا محتاج نہیں ہوتا۔کم سنی میں امامت آپؑ کے لیے ایک عظیم امتحان تھا۔ امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے وقت آپؑ کی عمر تقریباً 8 سال تھی۔ اس موقع پر بعض لوگوں کے دلوں میں سوالات پیدا ہوئے، مگر جلد ہی آپؑ کے علم نے ہر شک کو ختم کر دیا۔ بڑے بڑے علماء نے آپؑ سے سوالات کیے، اور آپؑ کے جوابات نے یہ واضح کر دیا کہ امامت عمر کی نہیں بلکہ الٰہی انتخاب کی مرہونِ منت ہوتی ہے (بحار الأنوار، ج 50)۔مامون عباسی نے بھی آپؑ کے علم کو آزمانے کے لیے ایک بڑا علمی اجتماع منعقد کیا، جس میں قاضی یحییٰ بن اکثم کو آپؑ کے مقابل لایا گیا۔ یحییٰ نے سوال پوچھا:محرم اگر شکار کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟امامؑ نے حیرت انگیز جواب دیا اور فرمایا: یہ بتاؤ: شکار حرم میں تھا یا باہر؟ جان بوجھ کر کیا یا بھول کر؟ آزاد تھا یا غلام؟ پہلی بار کیا یا بار بار؟یہ سن کر دربار میں خاموشی چھا گئی، اور سب کو اندازہ ہو گیا کہ یہ علم عام انسانی علم نہیں (الإرشاد، شیخ مفید)۔
حضرت امام تقی جوادؑ نے کم عمری کے باوجود علمِ دین کو اس انداز میں پیش کیا کہ بڑے بڑے علماء آپؑ کے شاگرد بن گئے۔ آپؑ کی مجالس علم و حکمت کا مرکز تھیں۔
اسی طرح ایک مرتبہ مامون عباسی نے علمِ امامت کا امتحان لیا۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ مامون عباسی شکار سے واپس آ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک مچھلی تھی جسے اس نے پانی سے نکالا تھا۔ راستے میں اس نے ایک کم سن بچے امام تقی جوادؑ کو دیکھا۔ مامون نے امتحان کے طور پر مچھلی کو ہاتھ میں چھپا لیا اور پوچھا: میرے ہاتھ میں کیا ہے؟امامؑ نے فوراً فرمایا: اللہ نے اپنی قدرت سے آسمان میں بادل پیدا کیے، ان سے بارش نازل کی، اس سے دریا بھرے، اور ان دریاؤں میں مچھلیاں پیدا ہوئیں، اور بادشاہ ان میں سے ایک مچھلی لے کر اہلِ بیتؑ کے بچے کو آزما رہا ہے۔یہ سن کر مامون حیران رہ گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ یہ علم عام نہیں بلکہ علمِ امامت ہے۔
روایت میں آتا ہے کہ لوگ دور دراز سے سوالات لے کر آتے تھے، اور امامؑ ہر سائل کے سوال کا ایسا جواب دیتے جو نہ صرف مسئلہ حل کرتا بلکہ سوال کرنے والے کی فکری اصلاح بھی کر دیتا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امامؑ کا علم صرف معلوماتی نہیں بلکہ تربیتی اور ہدایت دینے والا علم تھا۔آپؑ فرماتے ہیں: جو بغیر علم کے عمل کرے، وہ اصلاح سے زیادہ فساد کرتا ہے (بحار الأنوار، ج 75)۔یہ قول آج کے دور میں خاص طور پر اہم ہے، جب معلومات کی کثرت کے باوجود تحقیق اور فہم کی کمی نظر آتی ہے۔ امامؑ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ عمل کی بنیاد علم ہونا چاہیے، ورنہ نیک نیتی بھی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے جب بھی کوئی فیصلہ کرو، پہلے اچھی طرح اس کے بارے میں علم حاصل کر لو۔ بغیر علم کے عمل کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ آج کے دور میں بھی بہت سے مسائل اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگ تحقیق کے بغیر دین یا دنیا کے معاملات میں قدم اٹھاتے ہیں۔
امامؑ کی تعلیم یہ ہے کہ ہر عمل علم کی بنیاد پر ہونا چاہیے، اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ پر کامل بھروسہ رکھے۔ امامؑ ہمیں سکھاتے ہیں کہ مادی اسباب کے ساتھ ساتھ قلبی توکل بھی ضروری ہے، کیونکہ حقیقی اثر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ پر بھروسہ انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ مادی وسائل کے ساتھ ساتھ روحانی اعتماد بھی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھنا نہیں بلکہ کوشش کے ساتھ اللہ پر مکمل اعتماد رکھنا ہے۔اور عالم کون ہوتا ہے؟ امام فرماتے ہیں: عالم وہ ہے جو اپنی قدر پہچانے۔امامؑ کے نزدیک حقیقی عالم وہ ہے جو اپنی حدود، اپنی ذمہ داری اور اپنے مقام کو پہچانے۔ ایسا علم انسان کو تکبر سے بچاتا ہے اور اسے خدمتِ خلق کی طرف لے جاتا ہے۔آپؑ کی سخاوت اس قدر مشہور تھی کہ آپؑ کو ”جواد” کہا جانے لگا۔ آپؑ غریبوں کی مدد کرتے، خفیہ صدقات دیتے، آپؑ ضرورت مندوں کی مدد خاموشی سے کرتے اور کسی کی عزتِ نفس کو مجروح نہیں ہونے دیتے تھے۔ آپؑ کا یہ انداز ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی نیکی وہ ہے جس میں دکھاوا نہ ہو بلکہ اخلاص ہو۔ آپ لوگوں کے ساتھ انتہائی محبت اور عاجزی سے پیش آتے تھے۔ اخلاق کے میدان میں بھی امام جوادؑ کی شخصیت مثالی تھی۔
حضرت امام جوادؑ کی زندگی ہمیں واضح پیغام دیتی ہے:تعلیم و تربیت بچپن سے شروع ہونی چاہیے،علم کے بغیر عمل نقصان دہ ہے،مشکل حالات میں بھی حق کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے،کردار ہی انسان کی اصل پہچان ہے،حضرت امام محمد تقیؑ کی زندگی مختصر ضرور تھی، مگر اثر کے لحاظ سے نہایت عظیم تھی۔ آپؑ نے ثابت کیا کہ اللہ کے برگزیدہ بندے حالات سے نہیں ڈرتے بلکہ انہیں بدل دیتے ہیں۔امام محمد تقیؑ کی زندگی کئی اہم پیغامات دیتی ہے۔ اول، قیادت کے لیے عمر نہیں بلکہ صلاحیت اور کردار اہم ہوتے ہیں۔ دوم، علم کے بغیر عمل نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ سوم، مشکل حالات میں بھی اصولوں پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔ اور چہارم، اخلاق اور خدمتِ خلق انسان کو حقیقی عزت عطا کرتے ہیں۔
آج کے دور میں، جب نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اکثر شبہ کیا جاتا ہے، امام جوادؑ کی زندگی ایک مضبوط دلیل فراہم کرتی ہے کہ اگر تربیت درست ہو اور مقصد واضح ہو تو کم عمری بھی عظیم کارناموں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ اسی طرح، جب معاشرہ سطحی معلومات اور جلد بازی کا شکار ہو، تو امامؑ کی تعلیمات ہمیں تحقیق، تدبر اور حکمت کی طرف بلاتی ہیں، جن کے ذریعے انسان ہر میدان میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
ایک روایت میں بیان ہوا ہے: کسی چیز کو پختہ ہونے سے پہلے ظاہر کرنا اس کے لیے نقصان دہ ہے۔
یہ آپؑ کی حکمت عملی اور تدبر کی علامت ہے۔ لہٰذا جب بھی کوئی کام کرو، جب تک اسے عملی شکل نہ دو اس وقت تک اسے لوگوں کے سامنے پیش نہ کرو، اس طرح تم کامیاب ہو جاؤ گے۔تاریخِ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہیں جو اپنے زمانے ہی نہیں بلکہ ہر دور کے لیے معیار قائم کرتی ہیں۔ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام بھی انہی ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے نہایت کم عمری میں علم، قیادت اور کردار کا ایسا نمونہ پیش کیا جو آج بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔سیاسی طور پر آپؑ کا دور آسان نہیں تھا۔ عباسی حکمران اہلِ بیتؑ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خائف تھے۔ مامون نے بظاہر احترام کا رویہ اپنایا، مگر درحقیقت امامؑ کو نگرانی میں رکھا۔ بعد ازاں معتصم کے دور میں دباؤ میں مزید اضافہ ہوا اور بالآخر آپؑ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔
حضرت امام محمد تقیؑ کی مختصر مگر بامعنی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حق اور علم کا چراغ وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، مگر بجھایا نہیں جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی آپؑ کا پیغام زندہ ہے اور رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔حضرت امام جوادؑ کی شہادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کا راستہ قربانیوں سے خالی نہیں ہوتا۔ لہٰذا مشکلات میں مصیبت کے وقت انسان کے لیے بہترین چیز فرمانِ معصوم کے مطابق صبر ہے۔ امام فرماتے ہیں: مصیبت پر صبر کرنا دشمن کے لیے خود مصیبت بن جاتا ہے۔ اگر ہم ان کی سیرت کو اپنائیں تو ہم اپنی زندگیوں کو سنوار سکتے ہیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتؑ کی سچی محبت اور ان کی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اے فرزندِ امام علی رضاؑ! آپؑ نے کم سنی میں امامت کا حق ادا کر کے دنیا کو یہ سکھا دیا کہ اللہ کے منتخب بندے عمر کے محتاج نہیں ہوتے۔آپؑ نے علم کو عبادت، سخاوت کو زندگی، اور صبر کو طاقت بنا کر دکھایا۔ آج ہمیں بھی اپنے اندر وہی تقویٰ، وہی علم، اور وہی اخلاص پیدا کرنا ہے— تاکہ ہم بھی آپؑ کے ماننے والے ہی نہیں بلکہ آپؑ کے سچے پیروکار بن سکیں۔خداوندِ عالم! ہمیں امام محمد تقی جوادؑ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں ان کے صدقے علمِ نافع، قلبِ خاشع، اور عملِ صالح نصیب فرما۔ آمین۔

