–”آزادیِ صحافت“۔۔۔ حقیقت یا فریب؟؟؟

تحریر:رشیداحمدنعیم
سوچوں پہ خوف کے پہرے، ہونٹوں پہ جبر کے تالے اور تخیلات ظلم کی زنجیروں میں جکڑے ہوں تو ایسے ماحول کو آزادی کا نام دینا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ”یومِ آزادی ِصحافت“ منایا جا تا ہے یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی صحافت آزاد ہے؟ اگر قلم حرکت سے پہلے اجازت کا محتاج ہو، سچ بولنے سے پہلے انجام کا خوف دامن گیر ہو اور خبر کی اشاعت مفادات کے ترازو میں تولی جائے تو جشن کا شور دراصل ایک اجتماعی خاموشی کو چھپانے کی کوشش بن جاتا ہے۔صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی آنکھ، کان اور زندہ ضمیر ہوتی ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو اندھیروں میں سمت متعین کرتی ہے۔ طاقتور کے احتساب کو ممکن بناتی ہے۔ کمزور کی آواز کو وقعت دیتی ہے مگر جب یہی قوت دباؤ، خوف اور مصلحت کے حصار میں قید ہو جائے تو معاشرہ معلومات کے باوجود بصیرت سے محروم رہتا ہے۔ آج کا المیہ یہی ہے کہ سچ کو سچ کہنے کے لیے جرات نہیں بلکہ اجازت درکار ہے۔
ہر سال تین مئی کو”یومِ آزادیِ صحافت“ کے موقع پر بیانات، سیمینارز اور خصوصی اشاعتیں سامنے آتی ہیں۔ صحافیوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے اور آزادیِ اظہار کی اہمیت دہرائی جاتی ہے مگر زمینی حقیقت مختلف دکھائی دیتی ہے۔ کیا صحافی بغیر دباؤ کے حقائق بیان کر سکتے ہیں؟ کیا ادارے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کرتے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہو تو یہ دن رسمی تقاریب تک محدود رہ جاتا ہے اور اصل مسئلہ جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔آج کا صحافی ایک کٹھن دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف طاقتور حلقوں کا دباؤ ہے تودوسری طرف معاشی عدم استحکام ہے۔ ایک جانب سنسرشپ کے سائے ہیں تو دوسری طرف روزگار کے چھن جانے کا خوف سر پہ منڈلاتا رہتا ہے۔ ایسے میں سچ یا تو دب جاتا ہے یا اس کی آواز مدھم ہو جاتی ہے۔ میڈیا ہاؤسزبھی بتدریج کاروباری مفادات کے زیرِ اثر آ چکے ہیں جہاں خبر کی معنویت نہیں بلکہ اس کی افادیت دیکھی جاتی ہے۔ جو خبر فائدہ دے وہ نمایاں ہوتی ہے اور جو نقصان کا باعث بنے اسے پسِ پردہ رکھ دیا جاتا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ دور میں صحافت آزادی سے زیادہ بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی جان، ملازمت اور مستقبل کے تحفظ کے بارے میں بھی فکر مندہیں۔ ایسے ماحول میں غیر جانبداری اور جرات کا تقاضا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ جب قلم پر غیر مرئی پہرے ہوں، زبان پر غیر اعلانیہ تالے ہوں اور سوچ پر دباؤ کی زنجیریں ہوں تو آزادی کا دعویٰ محض لفظی رہ جاتاہے۔اس کے ساتھ ساتھ صحافت کی داخلی کمزوریاں بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔ سنسنی خیزی، ریٹنگ کی دوڑ اور ذاتی مفادات نے اس پیشے کو متاثر کیا ہے۔ جب خبر کو”تجارتی چیز“ بنا دیا جائے، جب حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے اور جب عوام کی رہنمائی کی بجائے انہیں الجھایا جائے تو صحافت اپنی ساکھ کھونے لگتی ہے۔ یہ رجحانات نہ صرف اعتماد کو مجروح کرتے ہیں بلکہ آزادیِ صحافت کے تصور کو بھی کمزور کرتے ہیں۔تاہم اس تاریکی میں امید کی کرن ابھی بھی باقی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سچ کو مکمل طور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جنہوں نے جبر کے سامنے ڈٹ کر حق کا علم بلند رکھا۔ آج بھی ایسے صحافی موجود ہیں جو تمام تر خطرات کے باوجود سچ کی تلاش میں سرگرم ہیں۔ یہی لوگ صحافت کی اصل روح کے امین ہیں اور انہی کی بدولت یہ پیشہ زندہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادیِ صحافت کو محض نعرہ یا سالانہ تقریب نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے عملی شکل دی جائے۔ ایسے قوانین درکار ہیں جو صحافیوں کو تحفظ فراہم کریں۔ ایسے ادارے ضروری ہیں جو دباؤ کو مسترد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایسا معاشرہ بھی لازم ہے جو سچ سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جب تک یہ عناصر یکجا نہیں ہوں گے، آزادیِ صحافت ایک ادھورا خواب ہی رہے گی۔آج مسئلہ صرف صحافت کی آزادی کا نہیں بلکہ معاشرتی رویوں کا بھی ہے۔ اگر معاشرہ خود سچ سے گریزاں ہو، اگر اختلافِ رائے کو برداشت نہ کیا جائے اور اگر سوال اٹھانے والوں کو مشکوک نگاہ سے دیکھا جائے تو صحافت پر دباؤ بڑھنا فطری امر بن جاتا ہے۔ اس لیے آزادیِ صحافت کا تحفظ صرف صحافیوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جدید دور میں اطلاعات کے ذرائع میں وسعت آئی ہے مگر اس کے ساتھ چیلنجز بھی بڑھے ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں اظہار کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں وہیں غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے دروازے بھی کھول دئیے ہیں۔ ایسے میں ذمہ دار صحافت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر مستند صحافت کمزور پڑ جائے تو جھوٹ اور افواہیں تیزی سے جگہ بنا لیتی ہیں جس سے معاشرتی انتشار میں اضافہ ہوتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مصنوعی آزادی کے پردے کو ہٹایا جائے اور صحافت کو اس کا اصل مقام واپس دلایا جائے۔ اس کے لیے صرف صحافیوں کا نہیں بلکہ ریاست، اداروں اور عوام سب کا کردار اہم ہے۔ جب تک سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا اجتماعی حوصلہ پیدا نہیں ہوگا تب تک سچ بولنے والے تنہا رہیں گے۔ یہ جنگ صرف قلم کی نہیں بلکہ ضمیر کی جنگ ہے اور بیدار ضمیر کو زیادہ دیر تک قید نہیں رکھا جا سکتا۔
تاریخ ہمیشہ سچ اور جبر کے درمیان لکھی جاتی ہے۔ جبر وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے مگر سچ کی روشنی کو مکمل طور پر بجھایا نہیں جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس تاریخ میں اپنا کردار کیا متعین کرتے ہیں؟ کیا ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے یا سچ کا ساتھ دینے والوں میں شامل ہوں گے؟ کیونکہ اگر آج ہم نے سچ کا ساتھ نہ دیا تو کل ہماری خاموشی بھی ہمارے خلاف گواہی بن جائے گی۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے یا تو حقیقی آزادی جنم لے سکتی ہے یا غلامی کی زنجیریں مزید مضبوط ہو سکتی ہیں۔ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے اور وقت ہمارے فیصلے کا منتظر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں