مختار مائی: ظلم کے خلاف آواز بننے والی بہادر عورت کی جدوجہد

ہ عورت جسکا بھری پنجائیت کے سامنے ریپ کیا گیا ۔ درندگی یہاں ختم نہی ہوتی بلکہ برہنہ حالت میں اسے گھسیٹتے رہے ۔ اسکو مارنا چاہتے تھے مگر وہ دنیا کی تمام مظلوم عورتوں کی اواز بن گی ۔۔

‏اور پھر ایسی طاقتور عورت بنی مشرف جیسا ڈیکٹیٹر بھی اس سے خوف کھاتا تھا ۔ سیاست دان جاگیردار مقامی وڈیرے سب اس سے دور بھاگتے تھے ۔۔

‏جون 2002 کی ایک جلتی ہوئی دوپہر تھی۔

‏ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی کا ایک چھوٹا سا گاؤں میر والا اپنی گلیوں میں دھوپ سمیٹے خاموش پڑا تھا اور اس خاموشی میں ایک ایسا ظلم ہوا جس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

‏مختار مائی کے بارہ سالہ بھائی شکور پر الزام لگایا گیا کہ اس کا تعلق مستوئی قبیلے کی ایک لڑکی کے ساتھ ہے اور یہ الزام بھی اس طاقتور قبیلے نے گھڑا تھا جس کے ہاتھ میں اس دیہات کی زمین بھی تھی اور ضمیر بھی۔

‏جرگہ بیٹھایا گیا

‏وہی جرگہ جسے گاؤں والے انصاف کا نام دیتے ہیں
‏مستوئی قبیلے کے سرداروں نے فیصلہ سنایا کہ مختار مائی کو معافی مانگنے کے لیے بلایا جائے اور جب وہ آئیں تو انہیں ایک کمرے میں گھسیٹ کر چار مردوں نے اجتماعی زیادتی کی جبکہ دس افراد باہر کھڑے رہے
‏اور یہ سب ہوتا رہا
‏اور کوئی نہ روکا
‏اس کے بعد انہیں برہنہ حالت میں گاؤں کی گلیوں میں پریڈ کرایا گیا۔

‏سوچیں ایک لمحے کے لیے
‏ایک عورت جس نے کچھ نہیں کیا تھا
‏جس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اس گھر میں پیدا ہوئی
‏اسے اس طرح توڑا گیا
‏اس طرح ذلیل کیا گیا۔

‏کہ معاشرہ چاہتا تھا وہ گھر جائے اور خاموشی سے مر جائے۔رواج یہی کہتا تھا کہ ایسی عورت کو خودکشی کر لینی چاہیے ۔

‏لیکن مختار مائی نے یہ نہیں کیا
‏انہوں نے پولیس رپورٹ درج کرائی
‏عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا
‏اور پوری دنیا کو بتایا کہ یہ ظلم ہوا ہے
‏یہ وہ لمحہ تھا جب ایک غریب ان پڑھ عورت نے پورے نظام کو للکارا۔

‏یکم ستمبر 2002 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے چھ ملزمان کو موت کی سزا سنائی ۔لگا شاید انصاف ہوگا۔

‏لیکن پھر وہی ہوا جو اس ملک میں طاقتوروں کے ساتھ ہمیشہ ہوتا ہے۔

‏2005 میں لاہور ہائی کورٹ نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر پانچ ملزمان کو بری کر دیا اور چھٹے کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا
‏اور پھر اس سے بھی بڑا ظلم ہوا

‏اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے مختار مائی کو ملک سے باہر جانے سے روکا کیونکہ وہ پاکستان کی بدنامی نہیں چاہتے تھے ۔

‏یعنی سچ کو دبانا ضروری تھا
‏عزت اس ملک کی بچانی تھی
‏اس عورت کی نہیں جو مٹی میں رولی گئی تھی
‏وزیر کا پیغام آیا کہ مختار مائی ملزمان کے خلاف مقدمہ واپس لے لیں ورنہ سپریم کورٹ میں فیصلہ ان کے حق میں نہیں ہوگا
‏یہ ہے ہمارا نظام
‏یہ ہے ہماری انصاف کی حقیقت
‏لیکن مختار مائی نے ہار نہیں مانی۔

‏انہوں نے حکومت سے ملنے والے معاوضے کو اپنے گاؤں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول بنانے پر لگا دیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ تعلیم ہی اس ظلم کا علاج ہے ۔

‏وہ عورت جو خود کبھی اسکول نہیں گئی
‏اس نے دوسروں کے لیے اسکول کھولے
‏وہ عورت جسے توڑا گیا تھا۔اس نے دوسروں کو جوڑنا شروع کر دیا۔

‏مختار مائی نے خود کہا کہ ان کی کہانی نے گاؤں کی دوسری عورتوں کو بھی اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کی ہمت دی ۔

‏آج ضلع مظفرگڑھ کی اس بیٹی کو دنیا جانتی ہے
‏گلیمر میگزین نے انہیں سال کی بہترین خاتون کا اعزاز دیا
‏اقوام متحدہ نے انہیں بلایا
‏امریکہ نے انہیں سنا
‏لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے
‏کہ میر والا کی ایک عام عورت نے ثابت کر دیا
‏کہ اگر ارادہ ہو تو ایک اکیلا انسان پورے نظام کو آئینہ دکھا سکتا ہے
‏مختار مائی صرف ایک واقعے کا نام نہیں۔

‏وہ ہر اس عورت کی آواز ہیں جو خاموش کر دی گئی
‏وہ ہر اس انسان کی امید ہیں جسے لگتا ہے کہ اکیلا لڑنا بے کار ہے۔

‏اور وہ ہر اس سوال کا جواب ہیں جو ہم سے پوچھتا ہے کہ کیا ظلم کے سامنے سر جھکانا ضروری ہے
‏نہیں
‏بالکل نہیں
‏مختار مائی نے بھی نہیں جھکایا

اپنا تبصرہ بھیجیں