حالیہ جنگ نے ایک بار پھر یہ حقیقت عیاں کر دی کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنتی ہے۔ اس اداریے میں ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس جنگ میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔
سب سے پہلے نقصانات کی بات کی جائے تو انسانی جانوں کا ضیاع سب سے بڑا سانحہ ہے۔ بے شمار خاندان اجڑ گئے، مائیں اپنے بیٹوں سے محروم ہوئیں اور بچے یتیم ہو گئے۔ معیشت کو شدید دھچکا پہنچا، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا اور ترقی کا سفر پیچھے کی جانب مڑ گیا۔ تعلیم، صحت اور دیگر شعبے بھی متاثر ہوئے، جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔
دوسری جانب، اگر فوائد کی بات کی جائے تو بعض حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ اس جنگ نے قوم میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دیا۔ لوگوں میں اپنے وطن کے لیے قربانی کا جذبہ بیدار ہوا اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت کا احساس بڑھا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی کچھ سفارتی مواقع پیدا ہوئے، جنہیں بہتر حکمت عملی سے فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم، یہ فوائد وقتی اور محدود نوعیت کے ہیں جبکہ نقصانات دیرپا اور گہرے ہیں۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور مستقبل میں تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ جنگ سے حاصل ہونے والی وقتی کامیابیاں کبھی بھی امن کے پائیدار فوائد کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جنگ میں کھونے کو زیادہ اور پانے کو کم ملا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم امن، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیں تاکہ آئندہ ایسی تباہ کاریوں سے بچا جا سکے۔
Load/Hide Comments

